VoS NEWS DESK | قومی سلامتی | 4 ستمبر 2026
آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے سامنے پاک افغان سرحد پر محسوس کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے گروہ کی نقل و حرکت کا پتہ چلنے کے بعد فوری طور پر علاقے میں نگرانی اور کارروائی کا آغاز کیا۔
فوج کے مطابق عسکریت پسند پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کی پیش قدمی روکنے کے لیے مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تقریباً 36 گھنٹے تک جاری رہی اور بالآخر 15 عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے۔
پاکستانی حکام ہلاک ہونے والے افراد کو فتنۃ الخوارج سے وابستہ قرار دیتے ہیں، جبکہ عالمی خبر رساں ادارے Associated Press نے پاکستانی فوج کے حوالے سے انہیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے منسلک عسکریت پسندوں کے طور پر رپورٹ کیا ہے۔ پاکستان نے ان افراد کے بارے میں بھارت کی مبینہ معاونت کا الزام بھی عائد کیا ہے، تاہم ایسے الزامات کی بھارت اور افغانستان کی جانب سے تردید کی جاتی رہی ہے۔
فوج کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے بعد علاقے میں سینیٹائزیشن اور سرچ آپریشن بھی کیا گیا۔ اس دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کے قبضے سے قابلِ ذکر مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں مزید ممکنہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر کارروائی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سیکیورٹی کو لے کر پہلے ہی شدید خدشات موجود ہیں۔ اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی فوج نے تازہ واقعے کو بھی اسی وسیع تر سیکیورٹی چیلنج کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
Associated Press کے مطابق یہ واقعہ پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کی ایک اور علامت ہے۔ شمالی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع ماضی میں بھی عسکریت پسند سرگرمیوں اور سرحد پار نقل و حرکت کے باعث سیکیورٹی اداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ تازہ کارروائی میں عسکریت پسندوں کی دراندازی کو بروقت روکنا سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔
VoS SECURITY INSIGHT
شمالی وزیرستان میں 15 عسکریت پسندوں کی ہلاکت پاک افغان سرحد پر موجود مسلسل سیکیورٹی خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔ 36 گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی اور اس کے بعد سرچ آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز سرحد پار سے ہونے والی ممکنہ دراندازی کو روکنے کے لیے نگرانی اور ردِعمل کے نظام کو فعال رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم ایسے واقعات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں عسکریت پسندی کا مسئلہ صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ مؤثر سرحدی انتظام اور طویل مدتی سیکیورٹی تعاون بھی ضروری ہے۔
ذرائع: ISPR، Dawn، Associated Press، Radio Pakistan / VoS News Desk
