لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی

VoS NEWS DESK | SPORTS | 31 August 2026

پاکستان کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں ایک مرتبہ پھر بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں میزبان ٹیم نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 2-0 سے اپنے نام کرلی۔

انگلینڈ نے پاکستان کے سامنے فتح کے لیے 389 رنز کا ہدف رکھا تھا، لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن ایک مرتبہ پھر دباؤ کا شکار ہوگئی۔ پاکستان نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز انتہائی خراب انداز میں کیا اور لنچ تک صرف 14 رنز پر تین وکٹیں گنوا دی تھیں۔

مشکل صورتحال میں سعود شکیل نے شاندار مزاحمت کی۔ انہوں نے 97 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور پاکستان کو مکمل تباہی سے بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ سنچری مکمل کرنے سے صرف تین رنز قبل آؤٹ ہوگئے۔

سعود شکیل کی اننگز کو لارڈز میں موجود شائقین نے بھرپور داد دی اور انہیں میدان سے واپس جاتے ہوئے زبردست تالیاں ملیں۔ ان کی مزاحمت کے باوجود پاکستان کی باقی بیٹنگ لائن انگلش بولرز کے سامنے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی رابنسن پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوئے۔ انہوں نے دوسری اننگز میں 4 وکٹیں حاصل کیں اور پورے میچ میں ان کی وکٹوں کی تعداد 8 رہی۔ سیریز میں بھی رابنسن اب تک 16 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے بھی شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں اہم وکٹیں حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر میچ میں پانچ وکٹیں مکمل کیں۔

انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز 177 رنز پر 7 وکٹوں سے شروع کی اور بالآخر 208 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا۔ محمد عباس نے انگلینڈ کی آخری وکٹیں حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم انگلینڈ کی مجموعی برتری پاکستان کے لیے بہت بڑا ہدف بن چکی تھی۔

پاکستان کو 389 رنز کا ہدف ملا تو ابتدائی اوورز ہی میں انگلش فاسٹ بولنگ نے پاکستانی بیٹنگ کو مشکلات میں ڈال دیا۔ مسلسل وکٹیں گرنے کے باعث پاکستان مطلوبہ رفتار سے رنز بنانے میں ناکام رہا۔

یہ شکست پاکستان کے لیے اس لیے بھی تشویش کا باعث ہے کہ ٹیم پہلے ٹیسٹ میں بھی انگلینڈ کے خلاف بھاری شکست سے دوچار ہوئی تھی۔ لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ دونوں اننگز میں 171 اور 136 رنز تک محدود رہی تھی۔

دوسرے ٹیسٹ میں بھی پاکستان کی بیٹنگ مسلسل دباؤ میں نظر آئی۔ ٹیم پہلی اننگز میں صرف 110 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی، جس کے بعد انگلینڈ نے میچ پر مضبوط گرفت قائم کرلی تھی۔

پاکستانی ٹیم کو اوپنر امام الحق کی انجری کا بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کی عدم موجودگی میں پاکستان کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ کو انگلش فاسٹ بولرز کے خلاف شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب انگلینڈ کے بولنگ اٹیک نے پوری سیریز میں مسلسل دباؤ برقرار رکھا ہے۔ رابنسن کے علاوہ جوفرا آرچر اور جوش ٹونگ نے بھی اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے اپنی ٹیم کی بولنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلسل ایک ہی جگہ گیند کر کے بلے بازوں کے دفاع کو چیلنج کرنا ٹیم کی کامیابی میں اہم رہا۔

اس فتح کے ساتھ انگلینڈ نے دو سال بعد اپنی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز جیت حاصل کی ہے۔

اب پاکستان کے پاس سیریز کا آخری میچ باقی ہے۔ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر کو ایجبسٹن میں شروع ہوگا، جہاں پاکستان سیریز کا اختتام کم از کم ایک فتح کے ساتھ کرنے کی کوشش کرے گا۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان کی مسلسل دوسری بھاری شکست نے ٹیم کی بیٹنگ کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بولنگ میں محمد عباس اور دیگر کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی کے باوجود بیٹنگ لائن انگلش کنڈیشنز اور تیز بولنگ کے سامنے مستقل مزاحمت نہیں کر سکی۔

سعود شکیل کی 97 رنز کی اننگز نے ثابت کیا کہ مشکل حالات میں پاکستانی بیٹنگ سے مزاحمت ممکن ہے، لیکن ایک کھلاڑی کی انفرادی کارکردگی میچ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔

تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کو سب سے زیادہ توجہ ٹاپ آرڈر کی مضبوطی، وکٹ پر قیام اور انگلش فاسٹ بولنگ کے خلاف بہتر حکمت عملی پر دینا ہوگی۔

اگر پاکستان ایجبسٹن میں اپنی بیٹنگ کی خامیوں پر قابو پالیتا ہے تو سیریز کے آخری میچ میں بہتر مقابلہ متوقع ہے۔ تاہم موجودہ 2-0 خسارے کے بعد پاکستان کے لیے واپسی کا راستہ انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔

Source: Reuters / VoS Sports Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس