VoS NEWS DESK | پاکستان | 29 اگست 2026
پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد اسلام آباد نے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے ایک اہم قانونی فریم ورک کے طور پر کام کرتا رہا ہے، اور اسے یکطرفہ طور پر معطل رکھنا خطے کے آبی اور سلامتی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو محض پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوطرفہ سیاسی تنازع کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے بین الاقوامی قانون، علاقائی سلامتی اور سرحد پار آبی انتظام کے تناظر میں بھی سمجھا جائے۔
پاکستانی حکام کے مطابق دریائے سندھ کا نظام ملک کی معیشت، زراعت، خوراک کی پیداوار اور لاکھوں شہریوں کے روزمرہ پانی کی ضروریات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے ممکنہ اثرات ملک کی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کو کمزور کیا گیا یا پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تو اس کے علاقائی امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔ پاکستانی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث آبی وسائل پر اضافی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
پاکستانی سفارتی کوششوں کا مقصد عالمی برادری کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ دریاؤں کے پانی سے متعلق معاملات کو بین الاقوامی قوانین اور موجودہ معاہدوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بھارت سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک معطل رکھنے کے مؤقف پر قائم ہے جب تک سرحد پار دہشت گردی سے متعلق اس کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔ اس اختلاف نے دونوں جوہری ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں ایک مزید حساس پہلو شامل کر دیا ہے۔
آبی تنازع اب صرف پانی کی تقسیم تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ علاقائی سلامتی، سفارت کاری، زراعت اور مستقبل کی غذائی سلامتی سے بھی جڑتا جا رہا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
سندھ طاس معاہدے پر موجودہ کشیدگی پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک انتہائی حساس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا نظام محض ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ زرعی معیشت اور غذائی سلامتی کی بنیاد ہے۔
اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اس معاملے کو عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی فورمز پر اٹھانا چاہتا ہے۔
اگر دونوں ممالک کے درمیان پانی کا تنازع مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں سیاسی اور سلامتی کی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے۔
Source: Reuters / Dawn / The News / VoS News Desk
