بابر اعظم کی ناقص کارکردگی پر شدید تنقید، پاکستان کرکٹ میں بحران مزید گہرا

VoS NEWS DESK | SPORTS | 2 ستمبر 2026

انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز پاکستان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوئی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی، جبکہ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان 194 رنز سے ہار گیا۔ دونوں میچوں میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ انگلینڈ کے مضبوط بولنگ اٹیک کے سامنے مسلسل دباؤ میں نظر آئی۔

بابر اعظم پہلے ٹیسٹ میں انگلی کی انجری کے باعث دستیاب نہیں تھے، لیکن دوسرے ٹیسٹ سے قبل فٹ ہوکر ٹیم میں واپس آئے۔ ان کی واپسی سے پاکستانی شائقین کو امید تھی کہ تجربہ کار بیٹر ٹیم کی بیٹنگ کو مضبوط کریں گے، مگر لارڈز میں وہ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ دوسرے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں وہ صرف 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر ان کی کارکردگی نے تنقید کو مزید بڑھا دیا۔

بابر کی خراب فارم پر سابق پاکستانی کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سابق بیٹر باسط علی نے بابر کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ دیگر سابق کھلاڑیوں نے بھی اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پاکستان کے سب سے اہم بیٹرز میں شمار ہونے والے بابر مشکل وقت میں ٹیم کو مطلوبہ استحکام فراہم نہیں کر پا رہے۔

تاہم پاکستان کا موجودہ بحران صرف بابر اعظم کی بیٹنگ تک محدود نہیں ہے۔ انگلینڈ کے خلاف مسلسل دو شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں غیر معمولی تبدیلیاں کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کردیا۔ سابق کپتان محمد رضوان، سلمان علی آغا اور امام الحق سمیت کئی کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد کی جگہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو ذمہ داری دی گئی۔

ان تبدیلیوں نے پاکستان کرکٹ میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سابق کپتان رمیز راجا نے اسے بورڈ کی جانب سے “panic button” دبانے کے مترادف قرار دیا، جبکہ شاہد آفریدی سمیت دیگر سابق کرکٹرز نے بھی سیریز کے درمیان اتنی بڑی تبدیلیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سابق آسٹریلوی کوچ مکی آرتھر نے بھی بورڈ کے فیصلوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب قومی سلیکٹر عاقب جاوید نے ان تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں مقابلہ کرنے میں ناکام رہی، اس لیے انتظامیہ کو فیصلہ کن اقدامات کرنا پڑے۔ ان کے مطابق ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے لیے فوری تبدیلیاں ضروری تھیں۔

بابر اعظم کے لیے موجودہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ تیسری مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ کپتانی سنبھالنے کے بعد ٹیم کو ایک مشکل دور سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کی قیادت میں ٹیم سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ انگلینڈ کے خلاف کم از کم ایک مضبوط سیریز پیش کرے گی، لیکن ابتدائی دونوں میچوں کے نتائج نے ان توقعات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی پوری بیٹنگ لائن اپ انگلینڈ کے خلاف مشکلات کا شکار رہی ہے۔ پہلے دونوں ٹیسٹوں میں پاکستان کی کوئی بھی اننگز 200 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کرسکی، جبکہ سعود شکیل کی 97 رنز کی اننگز ٹیم کی جانب سے سب سے نمایاں انفرادی کارکردگیوں میں شامل رہی۔

اب تمام نظریں 9 ستمبر کو برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ پر مرکوز ہیں۔ انگلینڈ پہلے ہی سیریز اپنے نام کرچکا ہے اور اب اس کی نظریں 3-0 کی کلین سویپ پر ہیں، جبکہ پاکستان کے لیے تیسرا ٹیسٹ اپنی ساکھ بچانے کا موقع ہوگا۔

بابر کے لیے بھی یہ میچ انتہائی اہم ہوگا۔ اگر وہ تیسرے ٹیسٹ میں ایک بڑی اور فیصلہ کن اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ اپنی فارم اور قیادت پر ہونے والی تنقید کا جواب میدان میں دے سکتے ہیں۔ لیکن ایک اور ناکامی سے ان پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیم پہلے ہی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔

VoS SPORTS INSIGHT

بابر اعظم پر ہونے والی تنقید کو صرف انفرادی بیٹنگ فارم کے تناظر میں دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ پاکستان کرکٹ اس وقت قیادت، سلیکشن، کوچنگ، ٹیم کے تسلسل اور کھلاڑیوں کی کارکردگی سمیت کئی مسائل سے بیک وقت دوچار ہے۔

سات کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران واپس بھیجنے اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلی نے بحران کی شدت کو واضح کردیا ہے۔ اگر پاکستان مستقبل میں مستقل کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے تو صرف چند کھلاڑی تبدیل کرنے کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی اور مضبوط ڈومیسٹک کرکٹ نظام پر توجہ دینا ہوگی۔

بابر اعظم کے لیے ایجبسٹن ٹیسٹ ایک اہم امتحان ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی سیریز ہار چکا ہے، لیکن ایک مضبوط کارکردگی نہ صرف ٹیم کا اعتماد بحال کرسکتی ہے بلکہ بابر کو بھی اپنی قیادت اور بیٹنگ کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا بہترین جواب فراہم کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔

Source: Reuters / Dawn / ICC / Geo Super / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس