امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ، پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزوں پر پابندی ختم

VoS NEWS DESK | IMMIGRATION & LAW | 24 DE AGOSTO DE 2026

امریکی ڈسٹرکٹ جج Jeannette Vargas نے 21 اگست کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو ختم کر دیا جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ معطل کر دی گئی تھی۔

یہ پالیسی جنوری 2026 میں امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio کی جانب سے نافذ کی گئی تھی۔ اس کے تحت پاکستان سمیت ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکا اور دیگر خطوں کے متعدد ممالک کے شہری متاثر ہوئے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس اقدام کی وجہ یہ بتائی تھی کہ بعض ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے امریکا میں عوامی امداد پر انحصار کرنے کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت متاثرہ افراد کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل روک دیا گیا تھا، اگرچہ درخواستیں اور انٹرویوز بعض صورتوں میں جاری رہ سکتے تھے۔

پاکستان بھی ان 75 ممالک کی فہرست میں شامل تھا، جس کا مطلب تھا کہ پاکستانی شہری جو امریکا کے امیگرنٹ ویزا، فیملی اسپانسر شپ یا مستقل رہائش سے متعلق ویزا کے منتظر تھے، اس معطلی سے متاثر ہو سکتے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وزیر خارجہ نے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ کو صرف قومیت کی بنیاد پر روک کر اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا۔ جج کے مطابق امریکی امیگریشن قانون اس طرح کی وسیع پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔

عدالتی کارروائی ایک ایسے مقدمے کے نتیجے میں سامنے آئی جس میں امیگرنٹ حقوق کی تنظیموں، متاثرہ ویزا درخواست گزاروں اور ایسے امریکی شہریوں نے قانونی چیلنج کیا تھا جن کے خاندان کے افراد اس پالیسی سے متاثر ہوئے تھے۔

فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے خاندانوں کو دوبارہ ملنے کے امکانات بہتر ہوں گے اور امیگرنٹ ویزا درخواستوں کا فیصلہ انفرادی قانونی معیار کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ صرف درخواست گزار کی قومیت کی بنیاد پر۔

تاہم یہ فیصلہ امریکی امیگریشن پالیسی کے وسیع تر تنازعے میں ایک اہم قانونی پیش رفت ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن اور ویزا نظام میں سخت پالیسیوں کو قومی سلامتی اور مالیاتی تحفظ کے نقطۂ نظر سے پیش کیا ہے، جبکہ امیگرنٹ حقوق کے گروپس ان میں سے کئی اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج کر رہے ہیں۔

پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے یہ فیصلہ خاص اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پاکستانی درخواست گزار کو فوری طور پر ویزا مل جائے گا۔ امیگرنٹ ویزا کے دیگر قانونی، سیکیورٹی اور اہلیت کے تقاضے بدستور لاگو رہیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی سابقہ ہدایات کے مطابق متاثرہ ممالک کے شہری درخواستیں جمع کرا سکتے اور انٹرویوز میں شرکت کر سکتے تھے، لیکن ویزا جاری کرنے پر پابندی موجود تھی۔ اب عدالت کے فیصلے کے بعد اس پالیسی کی قانونی بنیاد ختم ہو گئی ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

یہ فیصلہ پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، کیونکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ امیگریشن پالیسی بھی امریکی قانون کے مقرر کردہ اختیارات اور قانونی طریقہ کار کے تابع ہے۔

پاکستانی خاندانوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ کو ختم کرتا ہے، لیکن ہر درخواست کا فیصلہ اب بھی اس کی اپنی قانونی اور امیگریشن اہلیت کے مطابق ہوگا۔

اگر امریکی حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتی ہے تو معاملہ مزید عدالتی کارروائی کی طرف جا سکتا ہے، اس لیے پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے آئندہ امریکی محکمہ خارجہ اور عدالتوں کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات اہم رہیں گی۔

Source: Reuters / AP News / Dawn / U.S. Department of State / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس