عمران خان طبی معائنے کے بعد اڈیالہ جیل واپس منتقل، ڈاکٹروں نے طبی طور پر فِٹ قرار دے دیا

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 21 اگست 2026

سابق وزیراعظم عمران خان کو جمعے کے روز سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔ یہ منتقلی سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کے بعد عمل میں آئی، جس میں عدالت نے عمران خان کو طبی جائزے اور ضروری علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا جامع طبی معائنہ کیا، جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین بھی شامل تھے۔ رائٹرز کے مطابق طبی ٹیم میں امراضِ قلب اور آنکھوں کے ماہرین سمیت دیگر ڈاکٹر شامل تھے۔ معائنے کے بعد حکام نے سابق وزیراعظم کو طبی طور پر فِٹ قرار دیا اور انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

عمران خان کی صحت کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے ان کے خاندان، وکلا اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے مسلسل مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ جیل میں انہیں مناسب اور خصوصی طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ خاص طور پر ان کی بینائی سے متعلق خدشات سامنے آنے کے بعد طبی معائنے اور بیرونِ جیل علاج کا مطالبہ مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔

اس سے قبل اڈیالہ جیل حکام نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ عمران خان کو متعدد ماہرینِ امراض سے معائنہ اور علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔ رپورٹ میں ان کی آنکھ کی بینائی میں علاج کے بعد بہتری کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کی صحت سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران انہیں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے طبی معائنے اور علاج کے لیے طبی بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی تھی۔ عدالت کا یہ حکم عمران خان کی بہن اور دیگر متعلقہ درخواست گزاروں کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات کے بعد سامنے آیا۔

حکومت نے بعد ازاں سپریم کورٹ کے اس حکم پر نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی تھی۔ حکومتی مؤقف تھا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے سرکاری طبی سہولیات کا نظام موجود ہے اور کسی ایک قیدی کو نجی اسپتال میں علاج کی خصوصی سہولت دینے سے متعلق قانونی اور انتظامی سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

تاہم عدالت کے حکم کے بعد عمران خان کو جمعے کی شب جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی منتقلی کے موقع پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور اسپتال کے اطراف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق اسپتال کے اطراف بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

طبی معائنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ جیل منتقل کیے جانے سے یہ معاملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں نے ان کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں جیل میں رہنے کے لیے طبی طور پر موزوں قرار دیا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف ماضی میں عمران خان کی صحت اور جیل میں دستیاب طبی سہولیات کے بارے میں مختلف خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے۔

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف مختلف مقدمات اور سزاؤں کے حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے۔ ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت اس مؤقف کو مسترد کرتی ہے اور عدالتی کارروائی کو قانونی عمل کا حصہ قرار دیتی ہے۔

عمران خان کی مختصر اسپتال منتقلی اور دوبارہ اڈیالہ جیل واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کی سیاسی جماعت اور حکومت کے درمیان پہلے ہی شدید اختلافات موجود ہیں۔ ان کی صحت سے متعلق کوئی بھی نئی پیش رفت سیاسی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ سابق وزیراعظم کی جیل میں موجودگی گزشتہ کئی برس سے پاکستان کی سیاست کا ایک مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔

حالیہ طبی معائنے کے نتیجے میں حکومت کو یہ مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا ہے کہ عمران خان کو ضروری طبی توجہ فراہم کی جا رہی ہے اور ماہرین نے ان کی موجودہ حالت کو جیل میں رہنے کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے لیے ان کی صحت، ملاقاتوں اور طبی سہولیات کا معاملہ بدستور سیاسی اور قانونی اہمیت رکھتا ہے۔

آنے والے ہفتوں میں عدالتوں میں عمران خان سے متعلق مختلف درخواستوں پر ہونے والی کارروائی اس معاملے کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ بالخصوص یہ سوال اہم رہے گا کہ آیا مزید خصوصی طبی معائنوں یا علاج کی ضرورت محسوس ہوتی ہے یا موجودہ طبی رپورٹ کے بعد انہیں جیل میں ہی طبی سہولیات فراہم کرنا کافی سمجھا جائے گا۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

عمران خان کا طبی معائنہ اور اس کے فوراً بعد اڈیالہ جیل واپس منتقل ہونا پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

ایک طرف حکومت کے لیے ڈاکٹروں کی جانب سے عمران خان کو “طبی طور پر فِٹ” قرار دیے جانے کی رپورٹ اس کے اس مؤقف کو تقویت دیتی ہے کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں ضروری طبی سہولیات میسر ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہل خانہ کے لیے صحت کا معاملہ بدستور حساس ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ گزشتہ مہینوں کے دوران ان کی بینائی اور دیگر طبی مسائل پر تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد عمران خان کو جیل سے طبی معائنے کے لیے منتقل کیا گیا۔ اس پیش رفت نے سابق وزیراعظم کے بنیادی صحت کے حقوق، قیدیوں کے لیے طبی سہولیات اور جیل انتظامیہ کے اختیارات سے متعلق قانونی بحث کو بھی نمایاں کیا ہے۔

مجموعی طور پر، تازہ طبی رپورٹ نے فوری طور پر عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی اور سیاسی دعوؤں کے درمیان جاری اختلاف کو ختم نہیں کیا، تاہم اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی صحت کا معاملہ آنے والے دنوں میں بھی پاکستان کی سیاسی اور عدالتی بحث کا اہم حصہ رہے گا۔

ماخذ: Reuters / Dawn / Associated Press / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس