آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں کے لیے 24 اگست کو پولنگ کا اعلان

VoS NEWS DESK | قومی امور

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق آٹھ مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے پانچ نشستیں شامل ہیں، جبکہ ایک نشست علما و مشائخ، ایک بیرونِ ملک مقیم جموں و کشمیر کے ریاستی باشندوں اور ایک نشست ٹیکنوکریٹس و دیگر ماہرین کے لیے مختص ہے۔ ان نشستوں کے لیے براہِ راست منتخب ہونے والے اسمبلی ارکان ووٹ ڈالیں گے۔ امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے 20 اگست تک کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ اسی روز ریٹرننگ افسر کاغذات کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔

انتخابی شیڈول کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق اعتراضات اور اپیلوں کا مرحلہ 21 اگست کو ہوگا، جبکہ اپیلوں پر سماعت اور فیصلے 22 اگست کو کیے جائیں گے۔ امیدواروں کے دستبردار ہونے کی آخری تاریخ 23 اگست مقرر کی گئی ہے۔ اس کے بعد حتمی امیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی اور 24 اگست کو مخصوص نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد اسمبلی کی مجموعی سیاسی تصویر مزید واضح ہوجائے گی۔

آزاد کشمیر کے حالیہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئی ہے۔ دستیاب نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 25 عمومی نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے۔ مخصوص نشستوں کے نتائج حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ براہِ راست منتخب نشستوں کے بعد جماعتوں کی حتمی عددی طاقت انہی مخصوص نشستوں سے مکمل ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) کو مخصوص نشستوں میں بھی نمایاں کامیابی کی توقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق پارٹی چھ مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی مجموعی تعداد 31 تک پہنچ سکتی ہے۔ 53 رکنی ایوان میں حکومت بنانے کے لیے 27 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے مخصوص نشستوں کا نتیجہ حکومت سازی کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

حالیہ انتخابی عمل کے دوران آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں سیاسی کشیدگی، احتجاج اور سیکیورٹی خدشات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث چند حلقوں میں پولنگ کے مراحل متاثر ہوئے۔ ان حالات کے بعد مخصوص نشستوں کے انتخابات کو پرامن اور شفاف انداز میں مکمل کرنا الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہوگی۔

سیاسی جماعتوں نے بھی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تیز کردی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے خواتین کی مخصوص نشستوں سمیت اسمبلی میں پارٹی کی پوزیشن پر مشاورت شروع کردی ہے۔ مختلف جماعتیں اس مرحلے کو حکومت سازی اور آئندہ قانون سازی کے لیے انتہائی اہم سمجھ رہی ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں کا انتخاب محض چند نشستوں کا معاملہ نہیں بلکہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عام نشستوں میں مسلم لیگ (ن) کی برتری کے بعد اب 24 اگست کی پولنگ سے یہ طے ہوگا کہ اسمبلی میں جماعتوں کی حتمی طاقت کیا ہوگی اور حکومت سازی کا عمل کس سمت آگے بڑھے گا۔

مخصوص نشستوں کے ذریعے خواتین، علما و مشائخ، ٹیکنوکریٹس اور بیرونِ ملک مقیم ریاستی باشندوں کو بھی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی ملتی ہے۔ اس لیے ان نشستوں کا انتخاب اسمبلی کی سیاسی نمائندگی کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف طبقوں کی آواز کو قانون سازی کے عمل میں شامل کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔

اب الیکشن کمیشن کے سامنے سب سے اہم چیلنج انتخابی شیڈول پر مکمل عمل درآمد، امیدواروں کے کاغذات کی شفاف جانچ، اسمبلی ارکان کے لیے پرامن ماحول اور ووٹنگ کے عمل کی غیر جانب داری کو یقینی بنانا ہے۔ اگر یہ مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوگیا تو آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ واضح ہوجائے گا۔

ماخذ: VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس