آزاد کشمیر کے عوامی مطالبات: اشرافیہ کی مراعات، مہاجرین کی نشستیں اور آئینی حق

پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے تحت اٹھنے والی شدید احتجاجی تحریک نے مظفرآباد سے لے کر اسلام آباد کے ایوانوں تک ایک نیا تلاطم برپا کر دیا ہے۔ سڑکوں پر نکلنے والے شہریوں، تاجروں اور سول سوسائٹی کا یہ احتجاج محض ایک عارضی ردِعمل نہیں، بلکہ دہائیوں سے چلی آ رہی معاشی ناہمواریوں، ناانصافیوں اور سیاسی استحصال کے خلاف عوامی غیض و غضب کا منطقی نتیجہ ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر اگر غیر جانبدارانہ نظر ڈالی جائے، تو ان کا بنیادی محور تین اہم معاشی اور آئینی نکات کے گرد گھومتا ہے: بجلی اور گندم کی منصفانہ قیمتیں، اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، اور قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کا خاتمہ یا ان میں بنیادی اصلاحات۔

ان مطالبات کا سب سے حساس اور سیاسی لحاظ سے اہم پہلو 1947 اور 1989 کے مہاجرین کے لیے پاکستان کے مختلف صوبوں میں مخصوص 12 نشستوں کا معمہ ہے۔ مقامی عوامی حلقوں اور JAAC کا یہ دیرینہ اور مضبوط مؤقف ہے کہ ان نشستوں کو وفاق میں اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتیں اکثر مظفرآباد میں اپنی من پسند حکومتیں بنانے یا دھاندلی کے ذریعے نتائج بدلنے کے لیے بطور "پانسہ" استعمال کرتی ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ جو لوگ دہائیوں سے پاکستان کے دیگر شہروں میں مستقل طور پر آباد ہیں اور وہاں کے سیاسی و معاشی نظام کا حصہ ہیں، ان کا آزاد کشمیر کے انتظامی و سیاسی امور پر اثر انداز ہونا مقامی آبادی کے سیاسی و جمہور مینڈیٹ کی نفی کرتا ہے۔ اس نظام کے خاتمے کا مطالبہ دراصل حقیقی مقامی نمائندگی کی بحالی اور اسلام آباد کی سیاسی مداخلت کو روکنے کی ایک جدوجہد ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، بجلی اور بنیادی خوراک کا مسئلہ معاشی استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔ آزاد کشمیر منگلا اور نیلم جہلم جیسے بڑے پن بجلی منصوبوں کی میزبانی کرتا ہے، جہاں انتہائی ارزاں (Hydel Power) بجلی پیدا ہوتی ہے۔ بنیادی معاشی اور اخلاقی اصول تقاضا کرتے ہیں کہ جس خطے سے وسائل حاصل کیے جائیں، وہاں کے شہریوں کو ان کا پہلا حق اور رعایت دی جائے۔ لیکن مقامی عوام کو ان کی اپنی زمین سے پیدا ہونے والی بجلی مہنگے ترین تھرمل ٹیرف اور سنگین ٹیکسوں کے ساتھ دینا احساسِ محرومی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

اسی طرح جہاں عام شہری پٹرول، بجلی اور روٹی کی قیمت کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہا ہو، وہاں بیوروکریسی، وزراء اور حکمران طبقات کا شاہانہ طرزِ زندگی—مفت پٹرول، گاڑیاں اور لامحدود مراعات—عوامی اشتعال کو مزید ہوا دیتا ہے۔

اسلام آباد اور مظفرآباد کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس تحریک کو محض عارضی مالیاتی پیکیجز یا سیکیورٹی کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بحران صرف بجٹ یا روپے پیسے کا نہیں، بلکہ اعتماد کے شدید فقدان (Trust Deficit) اور سیاسی نظام کی عدم شفافیت کا ہے۔

ریاست کو اب سطحی اقدامات سے آگے بڑھ کر درجل ذیل بنیادی اور ساختی اصلاحات (Structural Reforms) کی طرف قدم بڑھانا ہو گا:

  1. سیاسی و آئینی اصلاحات: مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے طریقہ کار اور شفافیت پر نظرِ ثانی کی جائے تاکہ آزاد کشمیر اسمبلی کے نتائج وہاں کے مقیم شہریوں کی حقیقی مرضی کے مطابق ہوں۔

  2. وسائل پر مقامی حق: بجلی اور گندم کی قیمتوں کا شفاف اور دائمی فارمولا طے کیا جائے جس میں مقامی پیداواری حق کو تسلیم کیا جائے۔

  3. اشرافیہ پرور نظام کا خاتمہ: بیوروکریسی اور وزراء کی بے جا مراعات کو فوری طور پر ختم کر کے وہ وسائل عوام کی بہبود اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیے جائیں۔

اگر وقت رہتے ان سیاسی اور معاشی مطالبات کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا، تو یہ بے چینی مزید گہری ہو کر خطے کے سیاسی استحکام کے لیے انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ اب فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے—یا وہ پرانے اشرافیہ نواز اور مداخلیتی نظام کو برقرار رکھیں، یا پھر عوام کے آئینی اور معاشی حقوق کو تسلیم کر کے ان کا اعتماد بحال کریں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس