پاکستان میں داخلی سلامتی پر گفتگو اکثر دو انتہاؤں کے درمیان پھنس جاتی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے اعداد و شمار، ہلاکتیں، آپریشنز، سرحدی باڑ اور انٹیلی جنس کارروائیاں ہیں؛ دوسری طرف سیاسی بیانات اور فوری ردِعمل۔ مگر ان دونوں کے درمیان ایک تیسری اور زیادہ اہم حقیقت موجود ہے: وہ انسان جو ہر روز اس سیکیورٹی صورتِ حال کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
وہ پولیس اہلکار جو اپنے گھر سے ڈیوٹی کے لیے نکلتا ہے اور نہیں جانتا کہ واپس آئے گا یا نہیں۔ وہ قبائلی بزرگ جسے اپنے علاقے میں امن برقرار رکھنے کی قیمت اپنی جان سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ وہ دکاندار جس کی دکان سرحد بند ہونے سے خالی رہتی ہے۔ وہ ٹرک ڈرائیور جس کا روزگار ایک بند چیک پوسٹ کے دوسری طرف رک جاتا ہے۔ وہ طالب علم جو دہشت گردی کے خوف میں اسکول جاتا ہے۔ اور وہ ماں جو اپنے بیٹے کی وردی دیکھ کر فخر بھی محسوس کرتی ہے اور ہر مرتبہ اس کے گھر سے نکلنے پر خوف بھی۔
یہی پاکستان کی داخلی سلامتی کی اصل انسانی کہانی ہے۔
اعداد و شمار جو خطرے کی شدت بتاتے ہیں
پاکستان کا موجودہ سیکیورٹی منظرنامہ معمولی اتار چڑھاؤ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق 2025 میں ملک میں عسکریت پسندی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مجموعی جنگی ہلاکتیں 3,413 تک پہنچیں، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 74 فیصد زیادہ تھیں۔ ان میں 667 سیکیورٹی اہلکار، 580 شہری اور 2,138 عسکریت پسند شامل تھے۔ اسی سال 2,270 افراد زخمی ہوئے۔ PICSS کے مطابق 2025 سیکیورٹی فورسز کے لیے 2011 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز اور شہریوں کے لیے 2015 کے بعد بدترین سال تھا۔
دوسرے معتبر ڈیٹا سیٹ بھی اسی بنیادی رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اگرچہ مختلف اداروں کے طریقۂ شمار اور تعریفیں مختلف ہیں۔ CRSS کے مطابق 2025 میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سمیت 3,417 تشدد سے منسلک ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 2,555 تھی۔ خیبر پختونخوا میں 2025 کی ایسی ہلاکتیں 2,331 اور بلوچستان میں 956 ریکارڈ کی گئیں۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے: مختلف ادارے "تشدد"، "دہشت گردی"، "جنگی ہلاکت" اور "انسدادِ دہشت گردی کارروائی" کو ایک ہی طریقے سے شمار نہیں کرتے۔ اس لیے مختلف رپورٹس کے اعداد کو براہِ راست ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن ایک بنیادی تصویر واضح ہے: خیبر پختونخوا اور بلوچستان پاکستان کے موجودہ سیکیورٹی بحران کے مرکزی جغرافیائی مراکز ہیں۔
2026 میں بھی یہ دباؤ ختم نہیں ہوا۔ CRSS کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سمیت 267 تشدد کے واقعات میں 774 ہلاکتیں ہوئیں۔ خیبر پختونخوا میں 475 اور بلوچستان میں 265 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں؛ دونوں صوبے مل کر مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 96 فیصد بنتے ہیں۔
PICSS نے جون 2026 میں 118 عسکری حملے، 112 ہلاکتیں اور 148 زخمی رپورٹ کیے۔ اسی ماہ سیکیورٹی فورسز نے 44 نمایاں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں کیں جن میں 166 عسکریت پسند مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔ رپورٹ نے خاص طور پر ان کارروائیوں کو انٹیلی جنس پر مبنی اور زیادہ ہدفی نوعیت کا قرار دیا۔
اگست کے آخر اور ستمبر کے آغاز میں بھی صورتِ حال میں تیزی دیکھنے کو ملی۔ PICSS کے مطابق 28 اگست سے 3 ستمبر 2026 کے دوران عسکری حملوں کی تعداد 40 سے بڑھ کر 61 ہوگئی، جبکہ ہلاکتیں 32 سے بڑھ کر 74 ہوگئیں۔ بلوچستان اس اضافے کا مرکزی میدان رہا، جبکہ خیبر پختونخوا میں بھی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یہ اعداد صرف ایک جنگی گراف نہیں۔ ہر عدد کے پیچھے ایک خاندان ہے۔
خیبر پختونخوا: سیکیورٹی بحران کا سب سے بھاری بوجھ
خیبر پختونخوا کی صورتحال کو محض "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کہہ دینا شاید اس صوبے کے انسانی تجربے کو بہت مختصر کردے۔
یہاں ریاستی اداروں، پولیس، فوج، قبائلی عمائدین، مقامی سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں نے برسوں سے تشدد کا سامنا کیا ہے۔ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں صورتحال مزید پیچیدہ ہے، جہاں جغرافیہ، کمزور بنیادی ڈھانچہ، سرحدی قربت، تاریخی عسکری نیٹ ورکس اور ریاستی اداروں کی محدود رسائی نے سلامتی کو ایک کثیرالجہتی مسئلہ بنا دیا ہے۔
CRSS کے 2025 کے اعداد میں خیبر پختونخوا میں 2,331 تشدد سے منسلک ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔ یہ قومی مجموعے کا بہت بڑا حصہ تھا۔
لیکن ان نمبروں کے پیچھے ایک دوسرا بحران بھی ہے: معمول کی زندگی کا بحران۔
جب کسی ضلع میں سیکیورٹی خطرات بڑھتے ہیں تو صرف فوجی چوکیوں کی تعداد نہیں بڑھتی؛ اسکولوں کے اوقات متاثر ہوتے ہیں، کاروباری سفر کم ہوتا ہے، رات کی سرگرمیاں محدود ہوتی ہیں، سرمایہ کاری محتاط ہوجاتی ہے اور بعض علاقوں میں ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بھی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔
اس لیے داخلی سلامتی کا کامیاب پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے دہشت گرد مارے گئے۔ ایک زیادہ بنیادی سوال یہ بھی ہے:
کیا عام شہری دوبارہ معمول کی زندگی گزارنے لگا ہے؟
بلوچستان: دہشت گردی، جغرافیہ اور معاشی محرومی کا ملاپ
بلوچستان کا مسئلہ اپنی نوعیت میں مختلف ہے۔
صوبہ وسیع رقبے، کم آبادی کی کثافت، طویل سرحدوں، دشوار گزار جغرافیے اور محدود شہری مراکز کی وجہ سے سیکیورٹی کے لیے غیر معمولی چیلنج پیدا کرتا ہے۔ یہاں مذہبی عسکریت پسندی کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی مسلح سرگرمیاں بھی سیکیورٹی منظرنامے کا حصہ ہیں۔
2025 میں CRSS نے بلوچستان میں 956 تشدد سے منسلک ہلاکتیں ریکارڈ کیں، جبکہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں مزید 265 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
بلوچستان میں ایک اور حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا: سلامتی اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔
گوادر، معدنی وسائل، شاہراہیں، بندرگاہ، توانائی کے منصوبے اور CPEC سے وابستہ انفراسٹرکچر صرف معاشی اثاثے نہیں؛ یہ سیکیورٹی اثاثے بھی ہیں۔ اگر کسی علاقے میں سڑک بن جائے مگر مقامی آبادی کو روزگار، تعلیم، صحت اور کاروباری مواقع نہ ملیں تو ریاست کی موجودگی صرف سیکیورٹی چوکی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
پائیدار امن کے لیے ریاست کو صرف یہ نہیں دکھانا ہوگا کہ وہ علاقے میں موجود ہے؛ اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ریاست کی موجودگی سے عام شہری کی زندگی بہتر ہوتی ہے۔
پاک افغان سرحد: باڑ سے آگے کا مسئلہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سیکیورٹی پاکستان کی داخلی سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکی ہے۔
پاکستان کے مغربی سرحدی انتظام کے تحت افغانستان اور ایران کے ساتھ تقریباً 3,217 کلومیٹر کے سرحدی حصے میں باڑ، قلعہ بندی اور دیگر انتظامات کیے گئے ہیں۔ دسمبر 2024 میں سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان-افغانستان سرحدی کام کا تقریباً 98 فیصد اور پاکستان-ایران سرحدی کام کا 91 فیصد مکمل ہوچکا تھا، جبکہ مغربی سرحد پر تقریباً 3,100 کلومیٹر فینسنگ مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
باڑ، نگرانی، قلعے، چیک پوسٹس اور دستاویزی نظام غیر قانونی نقل و حرکت کو مشکل بنانے کے اہم ذرائع ہیں۔ لیکن کوئی بھی باڑ بذاتِ خود دہشت گردی کا مکمل حل نہیں۔
سرحدی سلامتی کا دوسرا حصہ انٹیلی جنس ہے: کون سرحد عبور کررہا ہے، کس مقصد سے، کس نیٹ ورک سے وابستہ ہے، کس کے ساتھ رابطہ ہے اور سرحد پار موجود مسلح تنظیموں کی صلاحیت کیا ہے۔
تیسرا حصہ قانونی آمدورفت ہے۔
اور چوتھا حصہ مقامی معیشت ہے۔
یہ چاروں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
تورخم اور چمن: سرحد جہاں روزگار بھی کھڑا ہوتا ہے
سرحدی گزرگاہ کسی نقشے پر صرف ایک لکیر نہیں ہوتی۔ مقامی لوگوں کے لیے وہ روزگار کا راستہ بھی ہوتی ہے۔
تورخم، چمن اور دیگر گزرگاہوں پر سیکیورٹی یا سیاسی کشیدگی کے باعث بندش کا مطلب صرف یہ نہیں کہ چند ٹرک رک گئے۔ اس کا مطلب ہوسکتا ہے کہ پھل خراب ہوجائیں، ڈرائیور کی آمدنی رک جائے، مزدور کو روزانہ کی اجرت نہ ملے، دکاندار کا کاروبار بیٹھ جائے اور تاجر کا سرمایہ کئی دنوں تک سرحد پر پھنسا رہے۔
اگست 2026 میں Dawn نے سرحدی تجارت سے وابستہ تاجروں کے نقصانات کی انسانی تصویر پیش کی۔ ایک کمیشن ایجنٹ نے بتایا کہ سرحدی کشیدگی کے دوران اس کے مال بردار ٹرک پھنس گئے اور اسے 110 ملین روپے کا نقصان ہوا۔
یہ ایک فرد کا تجربہ ہے، قومی نقصان کا مجموعی تخمینہ نہیں۔ لیکن یہی مثال بتاتی ہے کہ سیکیورٹی پالیسی کا معاشی اثر سرحد سے سینکڑوں کلومیٹر اندر بیٹھے پالیسی ساز تک ہمیشہ اسی شدت سے نہیں پہنچتا جس شدت سے وہ چمن یا تورخم کے ایک تاجر تک پہنچتا ہے۔
اس لیے سرحدی انتظام کا مقصد صرف "سرحد بند کرنا" نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد ایسی سرحد بنانا ہے جو محفوظ بھی ہو اور جہاں ممکن ہو قانونی تجارت اور قانونی انسانی آمدورفت کو تیز، شفاف اور قابلِ پیش گوئی بھی بنائے۔
افغان باشندوں کی واپسی: سیکیورٹی کے ساتھ انسانی مسئلہ
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا ایک اور انتہائی حساس پہلو افغان باشندوں کی واپسی ہے۔
UNHCR کے تازہ اعداد کے مطابق 22 ستمبر 2026 تک 2026 میں پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے افغان باشندوں کی تعداد تقریباً 705,400 تھی۔ اسی ڈیٹا سیٹ کے مطابق 2026 میں پاکستان اور ایران سے افغانستان واپس جانے والوں کی مجموعی تعداد 1.228 ملین سے زیادہ ہوچکی تھی۔
یہ تعداد صرف امیگریشن کا مسئلہ نہیں۔ اس میں خاندان، بچے، تعلیم، روزگار، شناخت، دستاویزات، جائیداد اور مستقبل کے سوال شامل ہیں۔
پاکستان نے چار دہائیوں سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کی ہے، جبکہ پاکستان خود بھی دہشت گردی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ریاست کو اپنے شہریوں کی سلامتی اور سرحدی نظم کے حق کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ قانونی عمل واضح، قابلِ پیش گوئی اور انسانی وقار کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
یہ دونوں مقاصد ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہونے چاہئیں۔
ایک محفوظ سرحد اور انسانی سلوک ایک ساتھ ممکن ہونا چاہیے۔
نیشنل ایکشن پلان: صرف ایک دستاویز نہیں، ایک مسلسل امتحان
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا قومی ردِعمل 2014 کے نیشنل ایکشن پلان سے ایک اہم ادارہ جاتی شکل اختیار کرگیا۔ APS پشاور کے سانحے کے بعد پارلیمنٹ نے دسمبر 2014 میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان منظور کیا۔ اس میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنا، کالعدم تنظیموں کی دوبارہ سرگرمی روکنا، NACTA کو مضبوط بنانا، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانا، انتہا پسندی سے نمٹنا اور فوجداری انصاف کے نظام میں اصلاحات شامل تھیں۔
2021 میں NAP پر نظرِ ثانی ہوئی، جس میں kinetic اور non-kinetic دونوں شعبوں کو شامل رکھا گیا۔ اس میں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے، CTDs کو مضبوط کرنے، Countering Violent Extremism، بلوچستان مفاہمتی عمل، ضم شدہ اضلاع میں اصلاحات اور فوجداری انصاف کے نظام کی بہتری جیسے نکات شامل ہیں۔
یہاں پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے: کیا ہم انسدادِ دہشت گردی کو صرف آپریشنز کا نام سمجھتے ہیں یا ریاستی صلاحیت کے پورے نظام کا؟
ایک دہشت گرد کو گرفتار کرنا یا ایک سیل کو ختم کرنا اہم کامیابی ہوسکتی ہے، مگر اگر اس نیٹ ورک کی مالی معاونت برقرار رہے، سہولت کار موجود رہیں، پروپیگنڈا پھیلتا رہے، مقدمات کمزور تفتیش یا ناقص استغاثہ کے باعث ناکام ہوجائیں، تو مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔
NACTA خود فوجداری انصاف کے نظام کی اصلاح کو NAP کا حصہ قرار دیتا ہے اور کمزور تفتیش اور استغاثہ کو تاریخی طور پر کمزور سزا یابی کی وجوہ میں شمار کرتا ہے۔
اس لیے انٹیلی جنس، پولیس، CTD، استغاثہ، عدالت، مالیاتی نگرانی، سرحدی انتظام اور مقامی حکومت کو ایک ہی قومی سیکیورٹی architecture کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: طاقت سے زیادہ معلومات کی جنگ
موجودہ دہشت گردی کا ماحول پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے۔ عسکریت پسند گروہ روایتی حملوں کے ساتھ IEDs، خودکش حملہ آوروں، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، چھوٹے ڈرونز، ڈیجیٹل مواصلات اور مقامی سہولت کاری جیسے ذرائع استعمال کررہے ہیں۔ PICSS نے 2026 کے دوران مختلف علاقوں میں ان طریقوں کے استعمال کی نشاندہی کی ہے۔
اس ماحول میں انٹیلی جنس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
ایک کامیاب IBO صرف اس وقت شروع نہیں ہوتا جب دہشت گرد حملہ کرنے نکل چکے ہوں۔ اس کا مقصد اس سے پہلے نیٹ ورک، مالی معاونت، نقل و حرکت، رابطوں، اسلحے اور منصوبہ بندی کے ایسے اشارے حاصل کرنا ہے جو حملے کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روک سکیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو intelligence fusion کی ضرورت ہے: مختلف اداروں کی معلومات کو ایک دوسرے سے جوڑنا، خطرے کی مشترکہ تصویر بنانا، مقامی پولیس اور CTD کی معلومات کو قومی سطح کی انٹیلی جنس سے مربوط کرنا اور ہر کارروائی کے بعد حاصل ہونے والے شواہد کو آئندہ کارروائیوں میں استعمال کرنا۔
دہشت گردی کے خلاف جدید جنگ میں بندوق ضروری ہے، مگر صحیح وقت پر صحیح معلومات اکثر بندوق سے پہلے کام کرتی ہے۔
انسانی کہانی: سیکیورٹی کا اصل مقصد کیا ہے؟
ایک جوان کی شہادت صرف ایک نمبر نہیں۔
ایک پولیس اہلکار کی موت کا مطلب ایک خاندان کے لیے باپ، بیٹے یا بھائی کا چلے جانا ہے۔ ایک شہری کی ہلاکت ایک خاندان کی معاشی بنیاد ختم کرسکتی ہے۔ ایک تاجر کے لیے بار بار سرحد بند ہونا قرض اور دیوالیہ پن کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ ایک بچے کے لیے اسکول میں دہشت گردی کا خطرہ پوری نسل کے ذہن میں خوف چھوڑ سکتا ہے۔
اسی لیے داخلی سلامتی کی کامیابی کو صرف "کتنے دہشت گرد مارے گئے" سے نہیں ناپا جاسکتا۔
ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا:
کیا اسکول کھلے ہیں؟
کیا ڈاکٹر دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں؟
کیا بازار رات کو محفوظ ہیں؟
کیا ٹرک بغیر غیر ضروری رکاوٹ کے قانونی تجارت کرسکتے ہیں؟
کیا مقامی نوجوان کے پاس بندوق کے بجائے روزگار کا راستہ ہے؟
کیا پولیس شہری کے لیے خوف کی علامت کے بجائے تحفظ کی علامت ہے؟
کیا عدالت میں دہشت گردی کے مقدمات قابلِ اعتماد شواہد کے ساتھ انجام تک پہنچتے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر: کیا شہری ریاست پر اعتماد کرتا ہے؟
امن صرف آپریشن کے بعد شروع نہیں ہوتا؛ اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ NACTA کے مطابق 2001 سے 2022 تک پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے باعث 83 ہزار جانیں ضائع ہوئیں اور ملک کو 35 ٹریلین روپے سے زیادہ کا مالی نقصان ہوا۔
یہ اعداد ہمیں ایک بنیادی سبق دیتے ہیں: دہشت گردی صرف سیکیورٹی بجٹ کا مسئلہ نہیں۔ یہ قومی معیشت، تعلیم، سرمایہ کاری، صحت، روزگار، نفسیاتی سلامتی اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا مسئلہ ہے۔
اسی لیے کسی علاقے کو "clear" کرنا کافی نہیں۔ Clear, hold and build کا اصول اب بھی اہم ہے: پہلے خطرے کو کم کرنا، پھر ریاستی رٹ کو مستحکم کرنا اور اس کے بعد ایسی معاشی و سماجی بنیاد قائم کرنا جس سے دوبارہ خلا پیدا نہ ہو۔
ضم شدہ اضلاع میں تعلیم، صحت، مقامی حکومت، سڑکوں، ڈیجیٹل رابطے اور روزگار کی بہتری کو سیکیورٹی پالیسی کا حصہ سمجھنا ہوگا، محض ترقیاتی منصوبہ نہیں۔
بلوچستان میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ جہاں ریاستی ادارے پہنچیں وہاں شہری کو صرف چیک پوسٹ نہیں بلکہ اسکول، ہسپتال، عدالت، روزگار اور انصاف بھی نظر آنا چاہیے۔
سرحد کی دوسری طرف بھی ایک حقیقت موجود ہے
پاکستان کی سیکیورٹی تشویش، خصوصاً TTP اور دیگر مسلح گروہوں کے حوالے سے، حقیقی اور سنگین ہے۔ لیکن افغانستان کے ساتھ تعلقات کو صرف فوجی زبان میں دیکھنا بھی طویل مدت میں ناکافی ہوگا۔
ستمبر 2026 میں پاکستان نے افغانستان کے اندر بعض اہداف کے خلاف فضائی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے 28 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ افغان طالبان اور اقوام متحدہ نے شہری ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو دوبارہ نمایاں کردیا۔
یہاں پالیسی کا مشکل سوال پیدا ہوتا ہے: پاکستان کو اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کو روکنے کا حق اور ذمہ داری حاصل ہے، لیکن سرحد پار کارروائیوں کے ساتھ سفارتی، قانونی، انسانی اور علاقائی اثرات بھی جڑے ہوتے ہیں۔
لہٰذا ایک جامع حکمتِ عملی میں سرحدی دفاع، انٹیلی جنس، سفارت کاری، انسدادِ دہشت گردی تعاون، قانونی تجارت اور بحران کے انتظام سب شامل ہونے چاہئیں۔
پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ کیا ہونا چاہیے؟
پاکستان کو موجودہ سیکیورٹی چیلنج سے نمٹنے کے لیے پانچ سطحوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگا۔
اول: Intelligence-led security۔ بڑے پیمانے کی کارروائیوں کے بجائے جہاں ممکن ہو درست معلومات، ہدفی کارروائی اور نیٹ ورک کی مکمل شناخت پر توجہ ہونی چاہیے۔
دوم: Border security with legitimate mobility۔ سرحدی نگرانی مضبوط رہے، مگر قانونی تاجروں، ڈرائیوروں اور دستاویزی مسافروں کے لیے نظام تیز، شفاف اور قابلِ پیش گوئی بنایا جائے۔
سوم: Financial disruption۔ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت، بھتہ خوری، غیر قانونی تجارت اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا اتنا ہی اہم ہے جتنا مسلح عناصر کو نشانہ بنانا۔ NAP میں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کو بنیادی ترجیح رکھا گیا ہے۔
چہارم: Justice after force۔ گرفتاری، تفتیش، فرانزک شواہد، استغاثہ اور عدالتی کارروائی ایک مربوط سلسلہ بنیں۔ اگر دہشت گرد کو گرفتار کرنے کے بعد مقدمہ کمزور ہوجائے تو سیکیورٹی کارروائی کا ایک اہم حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔
پنجم: People-centred security۔ مقامی آبادی کو سیکیورٹی پالیسی کا موضوع نہیں بلکہ شریک بنایا جائے۔ مقامی بزرگ، خواتین، اساتذہ، مذہبی رہنما، تاجر، نوجوان اور سول سوسائٹی اپنے علاقے کے خطرات کو اکثر ریاستی اداروں سے پہلے محسوس کرتے ہیں۔
اختتامیہ: پاکستان کی اصل جنگ خوف کے خلاف ہے
پاکستان کی داخلی سلامتی کی جنگ صرف دہشت گردوں کے خلاف جنگ نہیں۔ یہ خوف کے خلاف جنگ ہے۔
یہ اس خوف کے خلاف جنگ ہے جو ایک ماں کو اپنے بیٹے کے لیے لاحق ہوتا ہے۔ اس خوف کے خلاف جو ایک دکاندار کو بازار بند ہونے پر محسوس ہوتا ہے۔ اس خوف کے خلاف جو ایک طالب علم کو اسکول جاتے ہوئے گھیر لیتا ہے۔ اس خوف کے خلاف جو ایک ڈرائیور کو سرحد بند ہونے پر اپنے گھر کے چولہے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی قربانیاں اس جنگ کا ایک بنیادی حصہ ہیں، لیکن وہ اکیلے اس جنگ کو ہمیشہ کے لیے نہیں جیت سکتے۔
بندوق امن پیدا کرسکتی ہے، مگر امن کو قائم رکھنے کے لیے ادارے، انصاف، روزگار، تعلیم اور عوام کا اعتماد درکار ہوتا ہے۔
پاکستان کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ اسے دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنا ہوگا۔ اسے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنی ہوگی۔ اسے انٹیلی جنس اور پولیس کی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔ اسے افغانستان کے ساتھ اپنے سیکیورٹی اختلافات کو سفارتی اور عملی ذرائع سے بھی سنبھالنا ہوگا۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اور کام بھی کرنا ہوگا: ان علاقوں کو صرف جنگ کے نقشے سے نکال کر زندگی کے نقشے پر واپس لانا ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے ایک بچے کے لیے امن کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آج کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ امن کا مطلب ہے کہ وہ کل بھی اسکول جاسکے۔ بلوچستان کے ایک نوجوان کے لیے امن کا مطلب صرف سیکیورٹی چیک پوسٹ نہیں؛ اس کا مطلب ایک ایسی نوکری بھی ہے جس کے لیے اسے اپنا علاقہ چھوڑنا نہ پڑے۔ تورخم کے ایک تاجر کے لیے امن کا مطلب صرف سرحد پر خاموشی نہیں؛ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا ٹرک قانونی دستاویزات کے ساتھ وقت پر گزر سکے۔
آخرکار داخلی سلامتی کا اصل پیمانہ یہی ہے: ریاست کتنی طاقتور ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ شہری اپنے گھر میں خود کو کتنا محفوظ، اپنے مستقبل میں کتنا پُرامید اور اپنی ریاست کے ساتھ کتنا وابستہ محسوس کرتا ہے۔
پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر اسے امن کی ایسی تعریف قائم کرنی ہے جس میں بندوق خاموش ہونے کے بعد زندگی دوبارہ بولنے لگے۔
VOs Strategic Insight: پاکستان کے لیے اگلا سیکیورٹی مرحلہ صرف “دہشت گردی کو شکست دینے” کا نہیں بلکہ “تشدد کے دوبارہ پیدا ہونے کی وجوہ کو کم کرنے” کا ہے۔ سرحدی نظم، انٹیلی جنس، قانون، سفارت کاری، معاشی مواقع اور مقامی اعتماد کو ایک ہی قومی سلامتی فریم ورک میں جوڑنا ہی طویل المدت استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
