بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف زیرِ غور، 200 یونٹ سے صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر چھ ماہ کی اضافی پابندی ختم کرنے کی تیاری

بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف زیرِ غور، 200 یونٹ سے صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر چھ ماہ کی اضافی پابندی ختم کرنے کی تیاری

VoS NEWS DESK | قومی خبریں | 28 اکتوبر 2026

بجلی کے نرخوں اور گھریلو بلوں میں اضافے کے حوالے سے عوامی شکایات کے درمیان حکومت کی جانب سے سلیب سسٹم پر نظرثانی کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے سینیٹ میں بتایا کہ وزارتِ توانائی ایسے طریقۂ کار پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے 200 یونٹ کی حد عبور کرنے والے صارفین کو مسلسل چھ ماہ تک زیادہ نرخوں کی پابندی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ معاملہ سینیٹر عابد شیر علی کی جانب سے اٹھایا گیا، جنہوں نے موجودہ نظام کے مالی اثرات پر سوالات کیے۔

موجودہ نظام میں ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے اہل گھریلو صارفین کو محفوظ صارفین کی کیٹیگری میں رعایتی نرخ مل سکتے ہیں۔ تاہم، 200 یونٹ سے زیادہ استعمال ہونے پر صارف کی کیٹیگری تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں نمایاں فرق پڑنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس نظام پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ صرف ایک اضافی یونٹ استعمال کرنے سے پورے گھرانے کے بل میں بڑا فرق آ سکتا ہے، جس کا بوجھ کم آمدنی والے صارفین کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔

سینیٹ میں بحث کے دوران اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اگر کوئی گھرانہ ایک ماہ میں 200 کے بجائے 201 یونٹ بجلی استعمال کرے تو اس کے لیے صرف اضافی ایک یونٹ کا بل نہیں بلکہ صارف کی کیٹیگری میں تبدیلی بھی اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔ موجودہ طریقۂ کار کے تحت محفوظ صارفین کی حیثیت متاثر ہونے سے اگلے مہینوں میں بھی زیادہ نرخ لاگو رہنے کا امکان پیدا ہوتا ہے، چاہے بعد میں بجلی کا استعمال دوبارہ کم ہو جائے۔

حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے دو اہم تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ محفوظ صارفین کی ماہانہ حد 200 یونٹ سے بڑھا کر 250 یونٹ کر دی جائے۔ دوسری تجویز کے تحت چھ ماہ کی پابندی ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ اگر کوئی صارف کسی ایک ماہ میں حد سے تجاوز کر جائے تو اس کی رعایتی حیثیت مستقل طور پر کئی ماہ کے لیے متاثر نہ ہو۔ تاہم، ان تجاویز کے بارے میں حتمی پالیسی اور نفاذ کی تاریخ ابھی واضح نہیں کی گئی۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت بجلی پر سبسڈی کو زیادہ مؤثر انداز میں مستحق افراد تک پہنچانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں ریلیف کا فیصلہ صرف بجلی کے استعمال کی مقدار پر نہیں بلکہ صارفین کی مالی حالت اور اہلیت جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود وسائل کے پیش نظر سبسڈی کو ان گھرانوں تک پہنچانا ضروری ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

اس بحث میں ایک پیچیدہ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ بعض گھرانوں کے پاس سولر سسٹم موجود ہے، جس کی وجہ سے وہ قومی گرڈ سے کم بجلی حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت کے مطابق صرف ماہانہ گرڈ استعمال کو دیکھ کر ہر صارف کو یکساں سبسڈی دینا ضروری نہیں کہ سب سے مؤثر طریقہ ہو۔ تاہم، صارفین کے لیے یہ ضروری ہے کہ اہلیت کے معیار واضح ہوں اور کسی گھرانے کو معمولی اضافی استعمال کی وجہ سے غیر متوقع مالی بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بجلی کے بلوں میں بنیادی توانائی چارجز کے علاوہ مقررہ چارجز، ٹیکس، سرچارجز اور دیگر ایڈجسٹمنٹس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے فی یونٹ نرخ میں تبدیلی کا اثر صارف کے حتمی بل پر نمایاں ہو سکتا ہے۔ اگر سلیب سسٹم میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کے قواعد واضح کرنا بھی اہم ہوگا، تاکہ صارفین کو معلوم ہو کہ کس حد تک استعمال پر رعایت ملے گی اور کن حالات میں ان کی کیٹیگری تبدیل ہو سکتی ہے۔

کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے بجلی کا بل ماہانہ اخراجات کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ بعض خاندانوں کے بجلی استعمال میں موسم، بچوں کی تعلیم، گھر میں اضافی افراد کی موجودگی یا دیگر ضروریات کے باعث عارضی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس عارضی اضافے کے نتیجے میں کئی ماہ تک زیادہ نرخ لاگو رہیں تو گھریلو بجٹ متاثر ہو سکتا ہے اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

مجوزہ تبدیلیوں سے صارفین کو فائدہ پہنچنے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت آخرکار کون سا نظام منظور کرتی ہے، نئی حد کہاں مقرر ہوتی ہے اور محفوظ صارفین کی اہلیت کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے۔ اگر 250 یونٹ کی حد مقرر کی جاتی ہے تو کچھ ایسے گھرانے بھی رعایت کے اہل ہو سکتے ہیں جو موجودہ 200 یونٹ کی حد سے معمولی تجاوز کر جاتے ہیں۔ اسی طرح چھ ماہ کی پابندی ختم ہونے سے عارضی اضافے کے بعد صارفین کو دوبارہ رعایتی کیٹیگری میں آنے کا موقع مل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ متعلقہ شرائط پوری کرتے ہوں۔

حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہوگا کہ صارفین کو ریلیف دیتے ہوئے بجلی کے شعبے کے مالی معاملات اور سبسڈی کے اخراجات میں توازن برقرار رکھا جائے۔ پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ شفاف بلنگ، واضح اہلیت اور صارفین کی شکایات کے مؤثر حل کا نظام بھی ضروری ہوگا، تاکہ اصلاحات کا فائدہ واقعی ان گھرانوں تک پہنچے جن کے لیے بجلی کا بل ایک بڑا مالی مسئلہ ہے۔

فی الحال صارفین کو مجوزہ تبدیلیوں کے بارے میں حتمی سرکاری اعلان کا انتظار کرنا چاہیے۔ جب تک نئی پالیسی نافذ نہیں ہوتی، موجودہ نرخوں اور کیٹیگری سے متعلق قواعد لاگو رہیں گے۔ اس لیے صرف مجوزہ ریلیف کی خبروں کی بنیاد پر بلنگ نظام میں فوری تبدیلی فرض کرنا درست نہیں ہوگا۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

بجلی کے 200 یونٹ والے سلیب سسٹم پر نظرثانی کا معاملہ گھریلو صارفین کے لیے اہم ہے، کیونکہ معمولی اضافی استعمال کے نتیجے میں کئی ماہ تک زیادہ بل آنے کا خدشہ ان کے مالی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ نئی پالیسی میں اہلیت، سبسڈی اور نرخوں کے اصول واضح رکھے اور تبدیلیوں کو قابلِ فہم انداز میں عوام تک پہنچائے۔ حقیقی ریلیف اسی وقت ممکن ہوگا جب اصلاحات صرف اعلان تک محدود نہ رہیں بلکہ بلنگ نظام میں شفاف اور مؤثر طریقے سے نافذ بھی ہوں۔

Source: Dawn; Profit by Pakistan Today; Bloom Pakistan.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس