VoS NEWS DESK | امیگریشن و قانونی امور | 29 اکتوبر 2026
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر امیگریشن اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی قانونی نکات پر معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض شہریوں کو بیرونِ ملک سفر سے روکنے کے لیے استعمال ہونے والے طریقۂ کار کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ درخواست میں پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 22(2)(b) کی متعلقہ شق کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
بزنس ریکارڈر کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے متعلقہ حکام سے رپورٹ اور درخواست میں اٹھائے گئے نکات پر جواب طلب کیا، جبکہ مزید کارروائی کے لیے سماعت 3 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ ابھی عدالتی غور و خوض کے مرحلے میں ہے اور درخواست میں کیے گئے دعوؤں کو عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
درخواست میں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL)، ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL)، پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (PNIL)، بلیک لسٹ اور اسٹاپ لسٹس کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ بعض شہریوں کے نام متعلقہ حکومتی محکموں یا اداروں کی سفارش پر ان فہرستوں میں شامل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اس عمل کے لیے قانونی اختیار اور طریقۂ کار واضح ہونا چاہیے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر کسی شہری کے پاس درست پاسپورٹ، ویزا اور تصدیق شدہ ٹکٹ موجود ہوں تو اسے بیرونِ ملک سفر سے روکنے کے لیے واضح قانونی بنیاد ہونی چاہیے۔ درخواست گزار کے مطابق بعض مسافروں کو مبینہ طور پر پیشگی اطلاع دیے بغیر یا وجہ بتائے بغیر پرواز سے اتارے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ الزامات درخواست گزار کے مؤقف کا حصہ ہیں، انہیں تمام سفری پابندیوں کے بارے میں ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسی پابندیوں کے لیے متعلقہ قانون کیا اختیار دیتا ہے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کون سا طریقۂ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔
درخواست میں پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 22(2)(b) کے دوسرے حصے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی سرکاری محکمے یا ایجنسی کی سفارش پر شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اختیار قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
درخواست میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ اس میں پاسپورٹس ایکٹ 1974 کی متعلقہ دفعات اور آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A، 15 اور 25 کا حوالہ دیتے ہوئے شہریوں کے قانونی حقوق، منصفانہ طریقۂ کار اور نقل و حرکت کی آزادی سے متعلق نکات اٹھائے گئے ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہری پر سفری پابندی عائد کی جائے تو اس کے لیے واضح قانونی جواز موجود ہونا چاہیے اور متعلقہ حکام کے فیصلوں کا جائزہ لینے کا قابلِ اعتماد طریقہ بھی ہونا چاہیے۔ عدالت ان قانونی دلائل اور حکام کے جوابات کا جائزہ لے کر آئندہ کارروائی کرے گی۔
درخواست گزار کے مطابق غیر واضح سفری پابندیاں ایسے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں جو بیرونِ ملک ملازمت، تعلیم یا علاج کے لیے سفر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی مسافر ٹکٹ، ویزا اور دیگر انتظامات مکمل کرنے کے بعد ہوائی اڈے پر سفر نہ کر سکے تو اسے مالی نقصان، تعلیمی مواقع سے محرومی یا ملازمت سے متعلق مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اسی طرح بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے یونیورسٹی میں داخلے، اسکالرشپ کی شرائط، کلاسوں کے آغاز اور ویزا کی مدت اہم معاملات ہوتے ہیں۔ سفری منصوبے میں اچانک رکاوٹ آنے سے ان معاملات پر اثر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔ تاہم، ہر معاملے کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے اور کسی شخص کو سفر سے روکنے کی وجہ اور قانونی بنیاد متعلقہ کیس کے حقائق کی روشنی میں دیکھی جانی چاہیے۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسی پابندیوں سے حج، عمرہ اور دیگر مذہبی مقاصد کے لیے سفر کرنے والے افراد کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ درخواست گزار چاہتا ہے کہ سفری پابندیوں کا طریقۂ کار شہریوں کے لیے زیادہ واضح اور قابلِ جانچ بنایا جائے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وزارتِ داخلہ، امیگریشن و پاسپورٹس، ایف آئی اے اور نادرا سمیت متعلقہ اداروں کو ایک مربوط اور شفاف نظام قائم کرنے کی ہدایت دی جائے، جس کے ذریعے شہری اپنے سفری اسٹیٹس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔
درخواست میں مجوزہ نظام کو عارضی طور پر “پاک ٹریول اسٹیٹس” کا نام دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس نظام میں متعلقہ سفری پابندیوں کی معلومات، اندراجات کے جائزے اور غلط یا غیر قانونی طور پر شامل کیے گئے ناموں کے خلاف اعتراض درج کرانے کا طریقہ موجود ہونا چاہیے۔
اس تجویز کا مقصد، درخواست گزار کے مطابق، شہریوں کو یہ جاننے میں مدد دینا ہے کہ آیا ان کے سفر پر کوئی پابندی عائد ہے، پابندی کس بنیاد پر لگائی گئی ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ کیا ہے۔ یہ ایک درخواست گزار کی تجویز ہے؛ دستیاب رپورٹ کے مطابق عدالت نے ابھی ایسا پورٹل قائم کرنے کا حتمی حکم نہیں دیا۔
سفری پابندیوں کے معاملے میں ریاستی اداروں کے قانونی اختیارات اور شہریوں کے حقوق دونوں اہم ہیں۔ بعض حالات میں قانون کے تحت سفر پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے متعلقہ قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پابندی کس اختیار کے تحت لگائی گئی، اس کی وجوہات کیا ہیں اور کیا متاثرہ شہری کو مناسب قانونی طریقۂ کار میسر ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست اسی توازن سے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر عدالت درخواست گزار کے دلائل سے اتفاق کرتی ہے تو اس کے فیصلے کے اثرات سفری فہرستوں کے استعمال، متعلقہ حکام کے اختیارات اور شہریوں کو دستیاب قانونی تحفظ پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، ان ممکنہ اثرات کا انحصار عدالت کے حتمی فیصلے اور اس میں دی گئی ہدایات پر ہوگا۔
فی الحال متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا گیا ہے اور آئندہ سماعت 3 دسمبر 2026 کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر کسی بھی قانونی تبدیلی یا پابندیوں کے خاتمے کا دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
بیرونِ ملک سفر کرنے والے شہریوں کو چاہیے کہ سفر سے پہلے اپنے پاسپورٹ، ویزا، ٹکٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی مدت اور درستگی کی تصدیق کریں۔ اگر انہیں کسی ممکنہ سفری پابندی کے بارے میں اطلاع ملے تو متعلقہ سرکاری ادارے سے تحریری وضاحت حاصل کرنے اور ضرورت پڑنے پر مستند قانونی مشورہ لینے پر غور کریں۔
طلبہ، ملازمت کے امیدواروں اور علاج کے لیے سفر کرنے والوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ داخلے، ملازمت یا طبی اپائنٹمنٹ سے متعلق دستاویزات محفوظ رکھیں۔ کسی شکایت یا رکاوٹ کی صورت میں دستاویزی ریکارڈ متعلقہ حکام یا عدالت کے سامنے معاملہ واضح کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس خبر کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔ شہریوں کو کسی بھی نئے ضابطے یا قانونی تبدیلی کے بارے میں حتمی معلومات کے لیے عدالت کے فیصلے اور سرکاری اعلانات پر انحصار کرنا چاہیے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
سفری پابندیوں کے خلاف دائر یہ درخواست شہری آزادی، قانونی شفافیت اور سرکاری اختیارات کے استعمال سے متعلق ایک اہم بحث کو سامنے لاتی ہے۔ بیرونِ ملک سفر بہت سے پاکستانیوں کے لیے تعلیم، روزگار، علاج اور خاندانی ذمہ داریوں سے جڑا ہوتا ہے؛ اس لیے پابندیوں کے لیے واضح قانونی بنیاد اور ان کے جائزے کا مؤثر طریقۂ کار اہم ہے۔ اگر ایک مربوط سفری معلوماتی نظام قائم کیا جاتا ہے تو اس سے شہریوں کو اپنے اسٹیٹس کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کی عملی حیثیت کا انحصار متعلقہ اداروں کے اقدامات اور عدالتی فیصلے پر ہوگا۔ فی الحال کیس زیرِ سماعت ہے، اس لیے آئندہ پیش رفت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
Source: Business Recorder — IHC issues notices on plea against travel restrictions on citizens؛ Pakistan Point News — Case Challenging Unnecessary Inclusion of Citizens in Passport Control List Reaches Court.
