VoS NEWS DESK | قومی خبریں | 28 اکتوبر 2026
موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ پاکستان میں گھریلو گیس کی طلب بڑھنے کا خدشہ ہے۔ سرد موسم میں شہریوں کو کھانا پکانے کے علاوہ پانی گرم کرنے اور بعض علاقوں میں ہیٹنگ کے لیے بھی گیس کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب ملک میں دستیاب گیس اور درآمدی مائع قدرتی گیس (LNG) کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال نے حکام کے لیے گھریلو، صنعتی اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں کی ضروریات میں توازن قائم کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے موسمِ سرما کے لیے گیس کی فراہمی اور لوڈ مینجمنٹ سے متعلق ابتدائی تیاری مکمل کر لی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت گھریلو صارفین کو دن کے تین اہم اوقات میں گیس فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ باقی اوقات میں فراہمی محدود یا بند رہ سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے اس منصوبے پر حتمی فیصلہ کیے جانے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اسے کب اور کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت اپنے متعلقہ علاقوں میں گیس فراہم کرتی ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی سندھ اور بلوچستان کے صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے لیے الگ الگ شیڈول جاری کیے جانے کا امکان ہے، کیونکہ مختلف علاقوں میں گیس کی دستیابی، مقامی طلب اور پائپ لائنوں کے نظام کی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ تاہم، روزانہ آٹھ گھنٹوں کو تین اوقات میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں ہوا۔ صارفین کو اپنے علاقے کے لیے درست اوقات جاننے کی غرض سے متعلقہ گیس کمپنی کے سرکاری اعلان کا انتظار کرنا چاہیے۔
گیس کی فراہمی محدود ہونے کی صورت میں گھریلو صارفین کو اپنے روزمرہ معمولات تبدیل کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ایسے خاندان جو کھانا پکانے کے لیے مکمل طور پر پائپ لائن گیس پر انحصار کرتے ہیں، انہیں کھانے کی تیاری پہلے سے کرنا، گرم کھانا محفوظ رکھنا یا متبادل ایندھن استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال خصوصاً ان گھرانوں کے لیے مشکل ہو سکتی ہے جہاں ملازمت پیشہ افراد، طلبہ اور بچوں کے کھانے کے اوقات محدود ہوتے ہیں۔
متبادل ایندھن کے طور پر ایل پی جی استعمال کرنے والے صارفین کے اخراجات بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اگر پائپ لائن گیس طویل اوقات تک دستیاب نہ ہو تو بعض خاندان سلنڈر خریدنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایل پی جی کی قیمت، دستیابی اور مقررہ نرخوں پر عمل درآمد اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ اضافی اخراجات پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے گھرانوں کے بجٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
گیس کی قلت کا تعلق صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں۔ پاکستان میں قدرتی گیس اور درآمدی LNG کی تقسیم گھریلو استعمال، بجلی پیدا کرنے، کھاد کی تیاری اور صنعتی سرگرمیوں سمیت کئی شعبوں کو متاثر کرتی ہے۔ اگر سردیوں میں گھریلو طلب پوری کرنے کے لیے گیس کی تقسیم میں تبدیلی کی جاتی ہے تو صنعتی صارفین یا دیگر شعبوں کو بھی فراہمی میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے موسمِ سرما کے منصوبے سے متعلق پہلے سامنے آنے والی معلومات میں نومبر 2026 سے فروری 2027 تک گیس کی تقسیم کے لیے انتظامات زیرِ غور ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان منصوبوں میں گھریلو صارفین کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ LNG کی دستیابی اور درآمدی سپلائی کے خدشات کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، گیس کی تقسیم کے حتمی فیصلے متعلقہ حکام کی منظوری اور دستیاب سپلائی کی صورتِ حال سے مشروط ہوں گے۔
درآمدی LNG کی دستیابی بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر طے شدہ درآمدی کارگو بروقت نہ پہنچیں یا عالمی منڈی سے اضافی گیس خریدنا مہنگا ثابت ہو تو ملکی نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ دستیاب گیس کو کن شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جائے اور کمی کو کم کرنے کے لیے کون سے متبادل انتظامات کیے جائیں۔
گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی کا ایک قابلِ اعتماد شیڈول ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر گیس کے اوقات واضح نہ ہوں یا فراہمی کے دباؤ میں غیر متوقع تبدیلیاں آتی رہیں تو شہریوں کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے بروقت معلومات فراہم کرنے سے صارفین اپنے معمولات بہتر انداز میں ترتیب دے سکیں گے۔
حکومت اور گیس کمپنیوں کے لیے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ دستیاب گیس کی فراہمی کے دوران نظام میں مناسب دباؤ برقرار رکھا جائے۔ صرف مقررہ وقت میں گیس فراہم کرنا کافی نہیں ہوگا؛ صارفین کو یہ سہولت بھی درکار ہوگی کہ ان اوقات میں چولہے اور دیگر ضروری آلات معمول کے مطابق کام کر سکیں۔ اگر مقررہ وقت میں بھی گیس کا دباؤ کم ہو تو مجوزہ شیڈول کا فائدہ محدود رہ سکتا ہے۔
فی الحال روزانہ آٹھ گھنٹے گیس کی فراہمی ایک زیرِ غور تجویز ہے، حتمی طور پر نافذ شدہ قومی شیڈول نہیں۔ اس لیے صارفین کو کسی غیر مصدقہ وقت کو سرکاری شیڈول نہ سمجھنا چاہیے۔ حتمی فیصلہ سامنے آنے کے بعد SNGPL اور SSGC کی جانب سے اپنے متعلقہ علاقوں کے لیے جاری کردہ ہدایات زیادہ اہم ہوں گی۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
سردیوں میں گیس کی ممکنہ محدود فراہمی پاکستان کے توانائی نظام میں موجود دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر روزانہ آٹھ گھنٹے کی تجویز منظور ہوتی ہے تو گھریلو صارفین کے لیے واضح شیڈول، مناسب گیس پریشر اور بروقت معلومات فراہم کرنا ناگزیر ہوگا۔ حکومت کو فوری لوڈ مینجمنٹ کے ساتھ درآمدی گیس کی دستیابی، مقامی پیداوار اور توانائی کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دینی چاہیے، تاکہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کے ساتھ صنعت اور معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
Source: Profit by Pakistan Today; Business Recorder; The News International; UrduPoint.
