VoS NEWS DESK | تعلیم و جامعات | 29 اکتوبر 2026
محکمۂ صحت سندھ کی جانب سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کو بھیجے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ امتحان کے نتائج کا ضلع وار جائزہ کراچی کے امیدواروں کے خلاف کیے جانے والے دعوؤں کی حمایت نہیں کرتا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ امیدواروں کی کارکردگی کو محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کی بنیاد پر متنازع نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اس کا جائزہ مستند اعداد و شمار اور متعلقہ ریکارڈ کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا جب MDCAT کے نتائج کے حوالے سے بعض حلقوں نے سوالات اٹھائے اور امتحانی عمل کی شفافیت سے متعلق شکایات سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر سوالیہ پرچے کے مبینہ افشا ہونے کے دعوے بھی گردش کرتے رہے، جبکہ بعض قانون سازوں نے بھی امتحان کی ساکھ اور طریقۂ کار پر تشویش ظاہر کی۔ تاہم، ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا؛ حکومت نے اپنے جواب میں انہیں مسترد کرتے ہوئے نتائج کے اعداد و شمار کو اپنی دلیل بنایا ہے۔
محکمۂ صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ بھر میں مجموعی طور پر 33,336 امیدواروں نے MDCAT 2026 میں شرکت کی۔ ان میں سے 57.96 فیصد امیدواروں نے 90 یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ حکومت نے ان اعداد و شمار کو اس مؤقف کی حمایت میں پیش کیا کہ نتائج کا جائزہ مجموعی اور علاقائی بنیادوں پر لیا جانا چاہیے۔
کراچی سے امتحان میں 9,505 امیدوار شریک ہوئے۔ محکمۂ صحت کے مطابق کراچی کے امیدواروں کا اوسط اسکور 107.67 نمبر رہا، جبکہ 66.98 فیصد امیدواروں نے 90 یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ اسی طرح محکمۂ صحت کے خط میں بتایا گیا کہ کراچی کے 57.78 فیصد امیدواروں نے 99 یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔
حکومت کے مطابق یہ اعداد و شمار کراچی کے امیدواروں کی کارکردگی کو کمزور قرار دینے والے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی بنیاد پر امتحان کے ہر پہلو یا تمام شکایات کے حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا؛ حکومت نے انہیں اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے پیش کیا ہے۔
محکمۂ صحت سندھ نے کراچی کے ساتھ صوبے کے دیگر ڈویژنز کی کارکردگی کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق 90 یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کی شرح سکھر میں 55.04 فیصد، لاڑکانہ میں 54.50 فیصد، شہید بینظیر آباد میں 53.62 فیصد اور حیدرآباد میں 52.34 فیصد رہی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کے امیدوار مجموعی طور پر بہتر کارکردگی دکھانے والے گروپ میں شامل تھے۔ محکمۂ صحت نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے تمام اضلاع اس کے تجزیے کے مطابق سندھ کے نو بہترین کارکردگی دکھانے والے اضلاع میں شامل تھے۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ امیدواروں کے نمبروں اور ڈومیسائل کی معلومات کو مناسب انداز میں سامنے لانا شفافیت کے لیے اہم ہے۔ اس سے طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کو نتائج کا تقابلی جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 5 اکتوبر کو MDCAT کے بارے میں سامنے آنے والی شکایات کے سلسلے میں سندھ کے محکمۂ صحت سے رابطہ کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق صوبائی حکومت سے الزامات کی تحقیقات کرنے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔
اس کے بعد سندھ حکومت نے اپنے جواب میں نتائج کے تجزیے اور ضلع وار اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کراچی کے امیدواروں کی کارکردگی سے متعلق اعتراضات کو مسترد کیا۔ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچے کے افشا ہونے کے دعوؤں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانچ اور مستند شواہد اہم ہوں گے۔
طلبہ کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ MDCAT کے نتائج میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے عمل پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ کسی بھی امتحان پر اٹھنے والے سوالات کی بروقت، شفاف اور قابلِ تصدیق وضاحت امیدواروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
سندھ حکومت نے اپنے مؤقف میں سرکاری میڈیکل کالجوں کی نشستوں کے لیے ضلعی بنیادوں پر مختص کوٹے کا بھی دفاع کیا۔ محکمۂ صحت کے مطابق موجودہ داخلہ پالیسی کے تحت کراچی کی مخصوص نشستیں متعلقہ کراچی ڈومیسائل رکھنے والے اہل امیدواروں کے لیے مختص ہیں، اس لیے دوسرے اضلاع کے امیدواروں کے زیادہ نمبر حاصل کرنے سے کراچی کے لیے مقرر نشستوں کی تقسیم خود بخود تبدیل نہیں ہوتی۔
یہ پہلو اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے کہ داخلوں میں میرٹ، ڈومیسائل اور نشستوں کی تقسیم کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے۔ طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف مجموعی نمبروں پر توجہ دینے کے بجائے متعلقہ داخلہ پالیسی، اہلیت کی شرائط، ڈومیسائل کے قواعد اور سرکاری میرٹ لسٹوں کو بھی دیکھیں۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی امیدوار کو صرف اس وجہ سے مشکوک نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس نے کسی دوسرے ضلع کے امیدوار سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ اس کے مطابق امتحانی نتائج کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے اعداد و شمار اور متعلقہ قواعد کی بنیاد پر جانچنا چاہیے۔
MDCAT کے نتائج سے متعلق تنازعات صرف نمبروں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کا اثر امیدواروں کی آئندہ تعلیمی منصوبہ بندی، داخلوں کی امیدوں اور خاندانوں کے فیصلوں پر بھی پڑتا ہے۔ اسی لیے امتحانی عمل کے بارے میں واضح معلومات، شکایات کی باقاعدہ جانچ اور نتائج کی قابلِ تصدیق وضاحت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
امیدواروں کو چاہیے کہ داخلوں سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے PM&DC، متعلقہ جامعات اور سرکاری داخلہ پورٹلز کی ہدایات کو ترجیح دیں۔ غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر کسی نتیجے کو حتمی سمجھنے سے گریز کرنا بھی اہم ہے۔
فی الحال سندھ حکومت نے اپنے اعداد و شمار کی بنیاد پر کراچی کے امیدواروں کی کارکردگی کا دفاع کیا ہے۔ امتحان سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا حتمی اور قابلِ اعتماد جواب متعلقہ اداروں کی کارروائی، دستاویزی شواہد اور سرکاری فیصلوں سے ہی سامنے آئے گا۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
MDCAT 2026 کا تنازع سندھ میں میڈیکل داخلوں کے نظام کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کراچی کے امیدواروں کی کارکردگی کے دفاع میں استعمال کیے گئے ہیں، لیکن امتحانی شفافیت کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب صرف اعداد و شمار پیش کرنے سے مکمل نہیں ہوتا۔ طلبہ کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ شکایات کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو، نتائج کی بنیاد واضح کی جائے اور داخلوں کے قواعد تمام امیدواروں کے لیے شفاف انداز میں نافذ کیے جائیں۔ میرٹ اور ڈومیسائل کے اصولوں پر واضح معلومات ہی غیر ضروری تنازعات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
Source: ProPakistani — Sindh Govt Rejects MDCAT 2026 Controversy؛ ARY News — Sindh govt rejects MDCAT 2026 controversy, says Karachi students outperformed other divisions.
