تھرپارکر میں واٹر انفراسٹرکچر منصوبہ: خشک سالی کے خاتمے کی جانب بڑا قدم

حکومتِ سندھ نے آج تھرپارکر کے صحرائی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کے دوسرے مرحلے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مٹھی، اسلام کوٹ اور نگر پارکر کے دور افتادہ دیہاتوں کو پائپ لائنوں کے ذریعے سندھ کے مرکزی آبی ذخائر سے جوڑا جائے گا۔ مقامی حکام کے مطابق، اس اقدام سے لاکھوں تھری باشندوں کو اپنی دہلیز پر پینے کا صاف پانی میسر آئے گا، جس سے زیرِ زمین زہریلے پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کمی آئے گی۔ صحرائے تھر میں پانی کی قلت ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف انسان بلکہ مال مویشی بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ صوبائی وزیرِ بلدیات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے میں شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی آبادی نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے، کیونکہ اس سے زرعی سرگرمیوں میں بھی بہتری آنے کی امید ہے، جو تھر کی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت کے 'گرین اینڈ کلین تھر' وژن کا ایک اہم حصہ ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس