VoS NEWS DESK | تعلیم و ٹیکنالوجی | 27 اکتوبر 2026
حکومتی اعلان کے مطابق، وزیراعظم یوتھ کروم بُک اسکیم کے تحت پانچ لاکھ آلات دو سال کے عرصے میں ملک کے مختلف علاقوں کے طلبہ تک پہنچائے جائیں گے۔ اسلام آباد میں منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کے نوجوان ملک کا اہم اثاثہ ہیں اور انہیں جدید تعلیمی وسائل فراہم کرنا مستقبل کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسکیم کا مقصد ایسے طلبہ کی مدد کرنا ہے جو محنت اور قابلیت رکھتے ہیں، لیکن ذاتی طور پر جدید ڈیجیٹل آلات خریدنے کے وسائل نہیں رکھتے۔
اس منصوبے میں کروم بُکس کے ساتھ بیگ اور MiFi انٹرنیٹ ڈیوائس فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ کروم بُک ایک ایسا کمپیوٹر ہے جو بنیادی طور پر آن لائن سرگرمیوں، ویب پر مبنی تعلیمی ایپلی کیشنز اور ڈیجیٹل دستاویزات کے استعمال کے لیے بنایا جاتا ہے۔ طلبہ اس کے ذریعے تعلیمی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اسائنمنٹس تیار کر سکتے ہیں، آن لائن کلاسوں میں شرکت کر سکتے ہیں اور دستیاب ڈیجیٹل لائبریریوں سے مطالعے کا مواد حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، بجلی اور مناسب تدریسی رہنمائی بھی ضروری ہے۔
حکومت کے مطابق، اسکیم کا دائرہ مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے طلبہ تک وسیع کیا جائے گا، جن میں مدارس میں زیرِ تعلیم طلبہ بھی شامل ہیں۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ آلات کی تقسیم طلبہ کی صلاحیت، محنت اور تعلیمی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر کی جائے گی، نہ کہ ان کے معاشی پس منظر یا تعلیمی ادارے کی نوعیت کی بنیاد پر۔ اس اعلان کی عملی اہمیت اس وقت واضح ہوگی جب اسکیم کے انتخابی معیار، درخواست کے طریقۂ کار، اہل طلبہ کی شرائط اور تقسیم کے شیڈول کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔
پاکستان میں ڈیجیٹل تعلیم کی ضرورت وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں اسائنمنٹس، تحقیق، معلومات کی تلاش اور تعلیمی رابطوں کے لیے انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ ایسے طلبہ جن کے پاس اپنا کمپیوٹر نہیں، انہیں بعض اوقات مشترکہ آلات استعمال کرنا پڑتے ہیں یا تعلیمی کام کے لیے سائبر کیفے اور دیگر ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ذاتی تعلیمی ڈیوائس ملنے سے ان کے لیے گھر پر مطالعہ، مشق اور آن لائن تعلیمی مواد تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔
اس کے باوجود، صرف آلات کی تقسیم سے تعلیمی فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ اگر کسی علاقے میں انٹرنیٹ کمزور ہو، بجلی کی فراہمی غیر مستحکم ہو یا طالب علم کو ڈیوائس استعمال کرنے کی مناسب تربیت نہ ملی ہو تو اس اسکیم کے فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔ اسی لیے ڈیجیٹل تعلیم کے منصوبوں میں آلات کی فراہمی کے ساتھ بنیادی ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، آن لائن حفاظت، تکنیکی معاونت اور مناسب تعلیمی مواد تک رسائی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کروم بُک اسکیم کے مؤثر نفاذ کے لیے تقسیم کے عمل میں شفافیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ طلبہ اور والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ درخواست کیسے دی جائے گی، کون سے طلبہ اہل ہوں گے، میرٹ کا تعین کن اصولوں کے تحت ہوگا اور اگر کسی مستحق طالب علم کا نام فہرست میں شامل نہ ہو تو وہ وضاحت یا نظرِثانی کے لیے کہاں رجوع کر سکتا ہے۔ اسی طرح، آلات کی تقسیم کے بعد یہ جانچنا بھی ضروری ہوگا کہ طلبہ انہیں حقیقتاً تعلیم کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سابقہ دورِ حکومت کے تعلیمی ٹیکنالوجی منصوبوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں تقریباً چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے تھے۔ نئی اسکیم کے ذریعے حکومت نے اگلے دو سال میں پانچ لاکھ کروم بُکس فراہم کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اس ہدف کی کامیابی کا اندازہ صرف تقسیم کیے گئے آلات کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان کے درست استعمال، طلبہ کی مسلسل رسائی اور تعلیمی نتائج میں بہتری سے بھی لگایا جانا چاہیے۔
اگر یہ منصوبہ شفاف انداز میں نافذ کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ انٹرنیٹ و تربیت کی سہولتیں بھی فراہم ہوتی ہیں تو یہ کم وسائل رکھنے والے طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ آن لائن کورسز، ڈیجیٹل کتابوں، تحقیقی مواد اور جدید مہارتوں تک رسائی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور روزگار کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے۔ اس طرح کروم بُک اسکیم محض کمپیوٹر تقسیم کرنے کے منصوبے کے بجائے ایک وسیع تر تعلیمی حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتی ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پانچ لاکھ کروم بُکس کی تقسیم پاکستان میں ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ہے، لیکن اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ آلات کتنے مستحق طلبہ تک پہنچتے ہیں اور ان سے تعلیمی سطح پر کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ حکومت کو میرٹ پر شفاف تقسیم، انٹرنیٹ کی دستیابی، طلبہ کی تربیت اور منصوبے کے نتائج کی نگرانی کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر یہ عناصر ساتھ چلیں تو یہ اقدام تعلیمی مواقع میں فرق کم کرنے اور نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
Source: Dawn • Radio Pakistan • Ministry of Information and Broadcasting
