VoS NEWS DESK | معیشت و ٹیکس پالیسی | 27 اکتوبر 2026
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق، ٹیکس چھوٹ کی مالیت مالی سال 2020-21 میں تقریباً 1,482.31 ارب روپے تھی، جو 2021-22 میں بڑھ کر 2,239 ارب روپے ہو گئی۔ مالی سال 2022-23 میں یہ رقم مزید بڑھ کر 2,540 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ 2023-24 میں تقریباً 2,434 ارب روپے اور 2024-25 میں 2,352 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکس چھوٹ کئی برسوں سے ملکی مالیاتی پالیسی کا ایک بڑا حصہ رہی ہے۔ تاہم، مجموعی رقم سے یہ خودبخود واضح نہیں ہوتا کہ ہر رعایت کس مقصد کے لیے دی گئی، اس سے کتنی معاشی سرگرمی پیدا ہوئی یا اس کا فائدہ کس طبقے تک پہنچا۔
ٹیکس چھوٹ مختلف وجوہات کی بنا پر دی جا سکتی ہے۔ بعض رعایتیں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، صنعتوں کی مدد، برآمدات میں اضافے، فلاحی اداروں کی معاونت یا مخصوص معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ہوتی ہیں۔ دوسری جانب، اگر رعایتوں کے مقاصد اور نتائج واضح نہ ہوں تو یہ خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں سرکاری آمدن میں کمی کا فائدہ محدود یا بااثر طبقات تک ہی تو نہیں پہنچ رہا۔ اسی لیے ماہرینِ معیشت اور قانون سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف مجموعی رقم نہیں بلکہ ہر بڑی رعایت کی نوعیت، مدت، مستفید ہونے والے شعبوں اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاشی فائدے کا بھی جائزہ لیں۔
قومی اسمبلی میں اس معاملے پر سوال اٹھانے والے ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس رعایتوں کے مستفید ہونے والوں اور ان کے نتائج کی مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کی رکنِ قومی اسمبلی عالیہ کامران نے ٹیکس چھوٹ کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے بھی ٹیکس پالیسی پر سوالات اٹھائے اور اس بات کی وضاحت طلب کی کہ رعایتوں سے عام شہریوں کو کتنا فائدہ پہنچا۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو عام شہریوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، چھوٹے کاروبار، صارفین اور کسان مختلف صورتوں میں ٹیکس اور مہنگائی کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت بڑے پیمانے پر ٹیکس چھوٹ فراہم کرتی ہے تو عوامی سطح پر یہ جاننا اہم ہو جاتا ہے کہ اس پالیسی کے بدلے روزگار، سرمایہ کاری، پیداوار، کم قیمت اشیا یا بہتر خدمات کی صورت میں کیا فائدہ حاصل ہوا۔ اگر فوائد ناپنے کے لیے واضح پیمانے موجود نہ ہوں تو پالیسی کی افادیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
ارکانِ اسمبلی نے مہنگائی اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ بحث کے دوران آٹے، مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور کھاد کی قیمتوں کا ذکر کیا گیا۔ ان اشیا کی قیمتیں گھریلو بجٹ اور زرعی پیداوار دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ٹیکس چھوٹ اور ان قیمتوں کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے الگ معاشی تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے؛ ان دونوں مسائل کو ایک ہی وجہ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے، ٹیکس وصولی کو مؤثر بنائے اور ساتھ ہی معاشی سرگرمیوں کو غیر ضروری طور پر متاثر ہونے سے بچائے۔ اگر بعض شعبوں کو رعایتیں دی جاتی ہیں تو ان کے لیے واضح شرائط، مدت اور کارکردگی کے اہداف مقرر کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ رعایت برقرار رکھنے سے واقعی سرمایہ کاری، روزگار یا برآمدات میں اضافہ ہوا یا نہیں۔ اسی طرح غیر مؤثر رعایتوں کا باقاعدہ جائزہ لے کر انہیں ختم یا تبدیل کرنے کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔
ٹیکس پالیسی میں شفافیت اس لیے بھی اہم ہے کہ حکومت کو تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے لیے آمدن درکار ہوتی ہے۔ اگر ٹیکس وصولی کا بوجھ بڑی حد تک پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد اور کاروباروں پر رہے، جبکہ مختلف رعایتوں کے نتائج واضح نہ ہوں، تو ٹیکس نظام پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، اگر رعایتیں شواہد کی بنیاد پر دی جائیں اور ان کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں تو انہیں معاشی ترقی کے ایک جائز آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
11 ہزار ارب روپے سے زیادہ کی ٹیکس چھوٹ کا معاملہ اس سوال کو مرکزی اہمیت دیتا ہے کہ قومی خزانے کی آمدن میں کمی کے بدلے ملک کو کیا فائدہ حاصل ہوا۔ مؤثر پالیسی کے لیے حکومت کو رعایتوں کی تفصیلی فہرست، ان کے قانونی مقاصد، مستفید ہونے والے شعبوں اور معاشی نتائج کی وضاحت کرنی چاہیے۔ عوامی بحث کا محور صرف ٹیکس چھوٹ کی بڑی رقم نہیں، بلکہ اس کے استعمال، شفافیت اور معاشرے پر مجموعی اثرات ہونے چاہییں۔
Source: Dunya News • Emra News
