پنجاب میں لاہور بسنت 2027 کی تیاریاں، 12 سے 14 مارچ تک تین روزہ تقریبات کا منصوبہ، پتنگ بازی کے لیے سخت حفاظتی ضوابط پر زور

پنجاب میں لاہور بسنت 2027 کی تیاریاں، 12 سے 14 مارچ تک تین روزہ تقریبات کا منصوبہ، پتنگ بازی کے لیے سخت حفاظتی ضوابط پر زور

VoS NEWS DESK | قومی خبریں | 26 اکتوبر 2026

بسنت کو لاہور کی ثقافت، رنگوں، موسمِ بہار اور اجتماعی تقریبات سے جوڑا جاتا ہے۔ ماضی میں اس تہوار کے دوران شہر کی چھتیں رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتی تھیں، بازاروں میں رونق بڑھ جاتی تھی اور مختلف علاقوں میں خاندان اور دوست مل کر تقریبات کا اہتمام کرتے تھے۔ تاہم پتنگ بازی کے دوران پیش آنے والے حادثات اور خطرناک ڈور کے استعمال نے اس سرگرمی کو ایک حساس عوامی مسئلہ بنا دیا۔

2027 کے لیے تین روزہ تقریبات کے منصوبے سے متعلق اطلاعات کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ ثقافتی سرگرمیوں کو محفوظ انداز میں کس طرح منعقد کیا جائے گا۔ کسی بھی حتمی پروگرام، اجازت نامے یا قواعد کے بارے میں شہریوں کو متعلقہ سرکاری اداروں کے مستند اعلانات پر انحصار کرنا چاہیے، کیونکہ انتظامی فیصلوں اور حفاظتی شرائط میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔

لاہور میں بسنت کو طویل عرصے سے موسمِ بہار کی آمد اور خوشی کے اظہار کے ساتھ منسلک کیا جاتا رہا ہے۔ زرد لباس، رنگ برنگی پتنگیں، گھروں کی چھتوں پر اجتماعات اور روایتی کھانوں کی تیاری اس تہوار کی نمایاں علامات سمجھی جاتی ہیں۔ بہت سے شہریوں کے لیے بسنت صرف پتنگ بازی نہیں بلکہ شہر کی ثقافتی تاریخ اور اجتماعی زندگی سے وابستہ ایک یادگار روایت ہے۔

اس تہوار کے دوران شہر کے مختلف کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کپڑے، کھانے پینے کی اشیا، سجاوٹ، نقل و حمل، رہائش اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے کاروباری افراد کے لیے اضافی سرگرمی پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر تقریبات باقاعدہ منصوبہ بندی، محفوظ مقامات اور مؤثر نگرانی کے ساتھ منعقد ہوں تو مقامی معیشت کے لیے بھی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

تاہم ثقافتی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی سرگرمیاں ایسے طریقے سے منعقد ہوں جن سے عام شہریوں، موٹر سائیکل سواروں، بچوں اور راہ گیروں کی زندگیوں کو خطرہ نہ ہو۔ تہوار کی کامیابی کا معیار صرف اس میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد نہیں بلکہ اس دوران حادثات سے بچاؤ اور عوامی تحفظ بھی ہونا چاہیے۔

پتنگ بازی سے متعلق سب سے اہم خدشات میں خطرناک ڈور کا استعمال شامل ہے۔ دھاتی تار، کیمیائی مادوں سے تیار کی گئی ڈور یا ایسی ڈور جو غیر معمولی طور پر تیز اور مضبوط ہو، انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے افراد خصوصاً گردن اور چہرے پر ڈور لگنے کے خطرے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے بسنت سے متعلق کسی بھی انتظامی منصوبے میں ڈور کے معیار، تیاری، فروخت اور استعمال کی نگرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر حکومت کسی مخصوص قسم کی ڈور کی اجازت دیتی ہے تو اس کی واضح تعریف، معیار اور جانچ کا طریقہ عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ ممنوعہ ڈور کی تیاری اور فروخت روکنے کے لیے دکانوں، گوداموں اور متعلقہ کاروباروں کی نگرانی بھی ضروری ہوگی۔

قواعد کا اعلان کافی نہیں؛ ان پر عمل درآمد کے لیے واضح ذمہ داریاں، تربیت یافتہ عملہ اور خلاف ورزی کی صورت میں قابلِ عمل قانونی کارروائی بھی درکار ہوگی۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ خطرناک ڈور کے استعمال سے گریز کریں اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

بسنت کے دوران چھتوں پر لوگوں کا جمع ہونا ایک عام منظر ہوتا ہے، لیکن غیر محفوظ چھتیں گرنے، پھسلنے یا لوگوں کے کناروں کے قریب جمع ہونے کے باعث حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے تقریبات سے پہلے عمارتوں کی حفاظتی صورتِ حال کا جائزہ لینا اہم ہے۔

چھتوں پر حفاظتی دیواروں یا رکاوٹوں کی موجودگی، سیڑھیوں تک محفوظ رسائی، گنجائش کے مطابق لوگوں کی تعداد اور بجلی کی تاروں سے مناسب فاصلہ جیسے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ عمارت کے مالکان اور تقریبات منعقد کرنے والے افراد کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی کہ وہ مہمانوں کو غیر محفوظ جگہوں پر جانے سے روکیں۔

اسی طرح اسکولوں، اسپتالوں، اہم سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس مقامات کے اطراف کسی سرگرمی کی اجازت دینے سے پہلے متعلقہ حکام کو خطرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ جہاں پابندی یا خصوصی ضابطے لاگو ہوں، وہاں ان پر یکساں عمل درآمد ضروری ہوگا۔

بسنت کے دوران سڑکوں پر سفر کرنے والے افراد کی حفاظت ایک اہم ترجیح ہونی چاہیے۔ موٹر سائیکل سواروں کو خطرناک ڈور سے بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات، آگاہی مہم اور ٹریفک نگرانی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ شہریوں کو بھی اپنی نقل و حرکت کے دوران احتیاط برتنی چاہیے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پتنگ بازی کی سرگرمیاں زیادہ ہوں۔

ٹریفک پولیس کو چاہیے کہ وہ رش والے علاقوں میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کرے۔ ہنگامی گاڑیوں کے لیے راستے کھلے رکھنا، ضرورت کے مطابق متبادل راستوں کی نشاندہی کرنا اور شہریوں کو پیشگی اطلاع دینا انتظامی تیاری کا اہم حصہ ہوسکتا ہے۔

اگر بسنت کے لیے خصوصی حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں تو انہیں آسان زبان میں عام کیا جانا چاہیے تاکہ شہری، دکاندار، پتنگ تیار کرنے والے افراد اور تقریبات کے منتظمین اپنی ذمہ داریاں واضح طور پر سمجھ سکیں۔

تین روزہ بڑے عوامی تہوار کا انتظام کرنا ایک پیچیدہ ذمہ داری ہے۔ اس میں پولیس، ضلعی انتظامیہ، ٹریفک حکام، ریسکیو سروسز، اسپتالوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ اگر مختلف اداروں کی ذمہ داریاں واضح نہ ہوں تو کسی ہنگامی صورتِ حال میں کارروائی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

انتظامیہ کو تقریبات سے پہلے ایک جامع منصوبہ تیار کرنا چاہیے، جس میں ہنگامی رابطہ نمبرز، ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی، طبی سہولیات، ٹریفک مینجمنٹ اور شکایات کے فوری ازالے کا طریقہ شامل ہو۔ ممکنہ خطرات کا پیشگی جائزہ لینے سے ان مسائل کی نشاندہی ہوسکتی ہے جنہیں تقریب شروع ہونے سے پہلے حل کرنا ضروری ہے۔

شہریوں کی شرکت بھی اس عمل میں اہم ہے۔ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے بتایا جاسکتا ہے کہ کون سے حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا ہے، کن سرگرمیوں سے اجتناب کرنا ہے اور کسی حادثے یا خلاف ورزی کی اطلاع کہاں دینی ہے۔ مؤثر انتظام اسی وقت ممکن ہے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شہری بھی تعاون کریں۔

اگر بسنت کی تقریبات کی اجازت اور انتظامی منصوبہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے لاہور میں مقامی کاروبار اور سیاحت کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہوسکتا ہے۔ ہوٹلوں، ریستورانوں، بازاروں، ٹرانسپورٹ سروسز اور چھوٹے کاروباروں میں سرگرمی بڑھ سکتی ہے۔ روایتی کھانوں، ثقافتی مصنوعات اور مقامی دست کاری سے وابستہ افراد کو بھی نئے مواقع مل سکتے ہیں۔

لیکن معاشی فائدے کا انحصار محفوظ ماحول، واضح ضوابط اور منظم انتظامات پر ہوگا۔ اگر کسی تقریب کے دوران سنگین حادثات پیش آئیں تو عوامی اعتماد متاثر ہوسکتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ثقافتی اور معاشی فوائد کے ساتھ عوامی تحفظ کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے۔

بسنت کے حوالے سے شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی سرکاری اعلان اور حفاظتی ہدایات کی تصدیق کریں، ممنوعہ ڈور استعمال نہ کریں اور بچوں کو غیر محفوظ مقامات پر پتنگ بازی سے روکیں۔ چھتوں پر تقریبات منعقد کرتے وقت حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا اور ہنگامی صورتِ حال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنا بھی ضروری ہے۔

پتنگ بازی کی سرگرمیوں میں شریک ہونے والے افراد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے عمل سے دوسروں کی زندگی خطرے میں نہیں پڑنی چاہیے۔ ایک ذمہ دارانہ تہوار وہی ہے جس میں خوشی، ثقافت اور تفریح کے ساتھ قانون کی پابندی اور انسانی جانوں کا احترام بھی برقرار رہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

لاہور میں بسنت 2027 کے ممکنہ انعقاد سے ثقافتی روایت کو منظم انداز میں بحال کرنے اور مقامی معیشت میں سرگرمی پیدا کرنے کے مواقع سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ایسے تہوار کی پائیدار کامیابی کے لیے حفاظتی ضوابط کو واضح، قابلِ عمل اور مؤثر نگرانی کے ساتھ نافذ کرنا ناگزیر ہے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ حتمی شیڈول، اجازت کی شرائط اور ممنوعہ سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات بروقت جاری کریں۔ شہریوں کو بھی غیر مصدقہ خبروں کے بجائے سرکاری اعلانات پر انحصار کرنا چاہیے۔ بسنت کو محفوظ اور مثبت ثقافتی تجربہ بنانے کے لیے انتظامیہ، کاروباری طبقے اور عوام کا مشترکہ تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

Source: بسنت 2027 کے مجوزہ شیڈول اور حفاظتی انتظامات سے متعلق دستیاب اطلاعات؛ حتمی تاریخوں اور ضوابط کی تصدیق متعلقہ سرکاری اعلان سے کی جانی چاہیے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس