پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان نئی دفاعی سفارت کاری؛ استنبول اجلاس میں اہم پیش رفت

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان نئی دفاعی سفارت کاری؛ استنبول اجلاس میں اہم پیش رفت

VoS NEWS DESK | DIPLOMACY | 6 ستمبر 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام نے 31 اگست کو استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم Strategic Political and Defence Committee کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔

اجلاس کا بنیادی مقصد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی اور ادارہ جاتی شکل دینا اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی، سیاسی اور سکیورٹی تعاون کو مزید منظم کرنا تھا۔

تینوں ممالک نے اپنی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں، مسلح افواج کے درمیان رابطے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں دارالحکومت دفاعی تعلقات کو محض دوطرفہ روابط تک محدود رکھنے کے بجائے ایک وسیع تر تین ملکی فریم ورک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

اجلاس میں سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس ادارے کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکریٹری جنرل کے پاس ہوگی، جس سے اس نئے دفاعی ڈھانچے میں پاکستان کے ادارہ جاتی کردار کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔ تینوں ممالک نے دفاعی پیداوار، مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا، جو مستقبل میں مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے اصول کو بنیادی حیثیت دی ہے۔ اس معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک ایسے فریم ورک میں منتقل کیا ہے جس میں مشترکہ سکیورٹی اور دفاعی رابطہ کاری کو مرکزی مقام حاصل ہے۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی و صنعتی روابط اب ایک مشترکہ اسٹریٹجک پلیٹ فارم پر مزید منظم ہو رہے ہیں۔

یہ شراکت داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں سکیورٹی ماحول مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں تینوں ممالک کے درمیان مستقل دفاعی رابطہ مستقبل میں علاقائی بحرانوں، دفاعی منصوبہ بندی اور سکیورٹی تعاون پر اثر ڈال سکتا ہے۔

تاہم اس نئے فریم ورک کی حقیقی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ تینوں ممالک مشترکہ فیصلوں، دفاعی پیداوار، عسکری تربیت، ٹیکنالوجی اور بحران کے دوران عملی تعاون کو کس حد تک مؤثر بناتے ہیں۔

اگر یہ ادارہ جاتی تعاون مستقل بنیادوں پر آگے بڑھتا ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعلقات ایک وسیع تر سیاسی، دفاعی اور اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہونے کی گنجائش رکھتے ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا نیا دفاعی فریم ورک اسلام آباد کے لیے صرف عسکری تعاون کا معاملہ نہیں بلکہ علاقائی سفارت کاری، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک اثرورسوخ کے حوالے سے ایک اہم موقع ہے۔

سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ اور اس میں پاکستان کا ابتدائی ادارہ جاتی کردار اس شراکت داری میں اسلام آباد کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اس تعاون کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک سیاسی اتفاقِ رائے کو عملی دفاعی تعاون میں کس حد تک تبدیل کرتے ہیں۔

خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے درمیان یہ پلیٹ فارم پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مسلم دنیا میں اپنی سفارتی و دفاعی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

Source: Ministry of Foreign Affairs Pakistan / Ministry of Foreign Affairs Türkiye / Reuters / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس