VoS NEWS DESK | خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی
پاکستان کا بنیادی مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ حالیہ دنوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کی جانب افغانستان سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 15 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ اسلام آباد نے ایک مرتبہ پھر کابل سے سرحد پار حملوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور قابلِ اعتماد یقین دہانیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ افغانستان ان الزامات اور بعض دعوؤں کی تردید کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چینی خصوصی نمائندے یُو شیاؤ یونگ نے پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق سے ملاقات میں علاقائی سکیورٹی، دہشت گرد گروہوں اور افغانستان سے پیدا ہونے والے خطرات پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں جانب سے سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس سے قبل چین کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات بھی ہو چکے ہیں، جن میں کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی اور سرحدی صورتحال کو بہتر بنانے جیسے معاملات زیرِ بحث آئے تھے۔ پاکستان نے تجارت اور اقتصادی رابطوں کو بحال کرنے کے امکانات پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم دہشت گردی اور TTP کے معاملے پر دونوں ملکوں کے مؤقف میں اب بھی نمایاں اختلاف موجود ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ بحران صرف سرحدی سلامتی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات تجارت، ٹرانزٹ، افغان مہاجرین، سرحدی آمدورفت اور پورے خطے کے امن پر بھی پڑ رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون اور مستقل سفارتی رابطہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
اسلام آباد کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ ایسا سفارتی راستہ بھی برقرار رکھے جس سے مسلسل کشیدگی ایک طویل المدتی تنازع میں تبدیل نہ ہو۔ عسکری کارروائیاں فوری سکیورٹی خطرات کا جواب دے سکتی ہیں، لیکن مستقل حل کے لیے سرحدی انتظام، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور سیاسی مذاکرات ضروری ہوں گے۔
چین کی ثالثی اس صورتحال میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ بیجنگ پاکستان اور افغانستان دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ اگر چین کی سفارتی کوششیں اعتماد سازی اور قابلِ عمل سکیورٹی ضمانتوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
حتمی بات: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اس وقت ایک نازک مرحلے میں ہیں۔ اسلام آباد کے لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر ضمانتیں بنیادی شرط ہیں، جبکہ خطے کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار راستہ نکال پاتے ہیں یا نہیں۔
Source: Reuters, AP, Chinese diplomatic statements, Pakistan Foreign Ministry — VoS News Desk.
