VoS NEWS DESK | EDUCATION | 11 September 2026
ایچ ای سی کے مطابق فہمِ قرآن کے تحت دو الگ کورسز متعارف کرائے گئے ہیں، جنہیں Understanding of Holy Quran-I اور Understanding of Holy Quran-II کا نام دیا گیا ہے۔ ہر کورس ایک کریڈٹ آور پر مشتمل ہے، یوں دونوں کورسز مجموعی طور پر دو کریڈٹ آورز بنتے ہیں۔ یہ کورسز انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ سطح کے پروگرامز میں شامل کیے گئے ہیں۔
یہ پالیسی بنیادی طور پر مسلم طلبہ کے لیے ہے۔ ایچ ای سی کی وضاحت کے مطابق غیر مسلم طلبہ کے لیے ان دو کریڈٹ آورز کے متبادل کے طور پر متعلقہ یونیورسٹی اپنے جنرل ایجوکیشن پروگرام میں مناسب کورس شامل کرسکتی ہے۔ اس طرح جامعات کو اپنے تعلیمی ڈھانچے اور طلبہ کی ضروریات کے مطابق متبادل انتظام کرنے کی گنجائش بھی دی گئی ہے۔
ایچ ای سی نے اس پروگرام کے نفاذ کے لیے صرف نصاب جاری کرنے تک محدود رہنے کے بجائے تدریسی عملے کی تیاری پر بھی توجہ دی ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) نے ملک کے مختلف حصوں میں فیکلٹی ٹریننگ اور آن لائن اورینٹیشن پروگرامز منعقد کیے تاکہ جامعات کے اساتذہ فہمِ قرآن کے کورس کو مؤثر انداز میں پڑھانے کے لیے تیار ہوسکیں۔
ایچ ای سی کے مطابق اپریل 2026 تک ملک کی 267 جامعات میں سے 229 جامعات کے فیکلٹی ممبران کو فہمِ قرآن پروگرام کے حوالے سے تربیت دی جاچکی تھی، جو تقریباً 85.7 فیصد قومی کوریج بنتی ہے۔ ان میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کی جامعات شامل تھیں، جبکہ مختلف صوبوں اور علاقوں میں تربیتی ورکشاپس اور آن لائن سیشنز منعقد کیے گئے۔
نئے نظام کے تحت انڈرگریجویٹ سطح پر فہمِ قرآن کے دونوں کورسز کو جنرل ایجوکیشن کے حصے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں جنرل ایجوکیشن کے کریڈٹ آورز میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بعض ڈگری پروگرامز کے لیے مجموعی کم از کم کریڈٹ آورز کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ HEC کے پروگرام اسٹرکچر کے مطابق انڈرگریجویٹ پروگرامز میں جنرل ایجوکیشن کے کریڈٹ آورز 32 سے بڑھ کر 34 ہوجاتے ہیں۔
ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قرآن کی تعلیمات کے حوالے سے فہم، اخلاقی شعور اور فکری تربیت کو فروغ دینا ہے۔ کمیشن کے مطابق فہمِ قرآن کو باقاعدہ کریڈٹ کورس کی شکل دینے سے طلبہ کو قرآن کے پیغام کو جدید تعلیمی اور سماجی تناظر میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جامعات میں اس پالیسی کے عملی نفاذ کے لیے فیکلٹی کی تربیت کو خاص اہمیت دی جارہی ہے۔ HEC نے مختلف شہروں، جن میں اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی اور ملتان شامل ہیں، میں تربیتی پروگرامز منعقد کیے، جبکہ آن لائن سیشنز کے ذریعے ان اداروں تک بھی رسائی حاصل کی گئی جہاں فیکلٹی کی براہِ راست تربیت ممکن نہیں تھی۔
یہ اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں مذہبی اور اخلاقی تعلیم کو جنرل ایجوکیشن کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔ تاہم اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جامعات کورس کو کس معیار، تدریسی طریقہ کار اور جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق نافذ کرتی ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
فہمِ قرآن کو کریڈٹ آور کورس کے طور پر متعارف کرانے سے پاکستان کی جامعات میں مذہبی تعلیم کے انداز میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اب توجہ صرف نصابی شمولیت پر نہیں بلکہ اساتذہ کی تربیت، یکساں کورس اسٹرکچر اور مؤثر تدریس پر بھی دی جارہی ہے۔ اگر جامعات اس پروگرام کو تحقیقی، فکری اور تعلیمی انداز میں نافذ کرتی ہیں تو یہ طلبہ میں مذہبی فہم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور سماجی شعور کو بھی مضبوط کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
Source: Higher Education Commission (HEC) Pakistan • National Academy of Higher Education (NAHE)
