اسلام آباد میں 'امن مذاکرات' کا دوسرا مرحلہ؛ سفارتی مشنز کی سرگرمیاں اور ایران کی خاموشی نے بے یقینی بڑھا دی

اسلام آباد میں 'امن مذاکرات' کا دوسرا مرحلہ؛ سفارتی مشنز کی سرگرمیاں اور ایران کی خاموشی نے بے یقینی بڑھا دی
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج 21 اپریل 2026 کو ہونے والے ایران اور امریکہ کے ممکنہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بے یقینی کا شکار ہے۔ امریکی سفارتی ٹیمیں پہلے ہی راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر پہنچ چکی ہیں، تاہم تہران نے ابھی تک اپنی شرکت کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی مشن کی سربراہ نیٹلی بیکر سے ملاقات کی ہے تاکہ ریڈ زون اور سفارت خانوں کی سیکیورٹی کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں تمام نجی اور سرکاری دفاتر کو بند کر کے 'اسپیشل گیسٹس' کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی مشن پر ہے، جہاں وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں یا ایران شریک نہیں ہوتا، تو جنگ بندی کی آخری امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔ اسلام آباد میں تعینات مختلف ممالک کے سفارتی مشنز اس وقت ہائی الرٹ پر ہیں، کیونکہ ان مذاکرات کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معاشی اور سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران آخری لمحات میں مذاکرات کی میز پر آنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس