اختیار کا آخری دروازہ: پاکستان میں مقامی حکومت اب بھی کیوں کمزور ہے؟

اختیار کا آخری دروازہ: پاکستان میں مقامی حکومت اب بھی کیوں  کمزور ہے؟

پاکستان میں اختیارات کی تقسیم پر بحث عموماً اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں کے درمیان شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہوجاتی ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کو پندرہ برس سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ اس ترمیم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان طاقت کے تعلق کو نمایاں طور پر تبدیل کیا، صوبائی خودمختاری کو وسعت دی اور ریاستی اختیار کو مرکز سے نیچے منتقل کرنے کے تصور کو مضبوط کیا۔ لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: اگر اختیار وفاق سے صوبوں تک پہنچ گیا ہے تو عوام تک کیوں نہیں پہنچا؟
یہی پاکستان کے انتظامی نظام کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A اس سوال کا بنیادی جواب فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت ہر صوبے پر لازم ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کرے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرے۔ یعنی آئین نے مقامی حکومت کو محض صوبائی حکومت کی مرضی یا وقتی سیاسی انتظام نہیں سمجھا؛ اسے جمہوری حکمرانی کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنایا ہے۔ لیکن پاکستان کی عملی سیاست میں وفاقی مرکز سے صوبوں کو اختیار کی منتقلی کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اختیار کا سفر وہیں رک گیا ہے۔ صوبائی حکومتیں خودمختاری کی حامی ہیں جب اختیار اسلام آباد سے ان کی طرف آتا ہے، مگر جب یہی اصول صوبائی دارالحکومت سے ضلع، شہر، تحصیل اور یونین کی سطح تک پہنچانے کی بات آتی ہے تو معاملہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی جمہوریت کا ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے: ہم نے اقتدار کو مرکز سے دور کیا، لیکن عوام کے قریب نہیں کیا۔
18ویں ترمیم کا ادھورا سفر.
18ویں ترمیم کو صرف صوبائی خودمختاری کے تناظر میں دیکھنا اس کی وسیع تر آئینی روح کو محدود کرنا ہوگا۔ وفاقی نظام میں اختیار کی منتقلی کا اصل مقصد صرف یہ نہیں کہ ایک وزارت اسلام آباد سے کراچی، لاہور، پشاور یا کوئٹہ منتقل ہوجائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ فیصلے اس سطح پر ہوں جہاں مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور جہاں اس کے اثرات براہِ راست شہری محسوس کرتا ہے۔ اگر کسی محلے کی سڑک ٹوٹ گئی ہے، گلی میں پانی کھڑا ہے، کچرا نہیں اٹھ رہا، سیوریج بند ہے، مقامی بازار میں تجاوزات ہیں یا بنیادی شہری سہولت ناکافی ہے تو شہری کو اس مسئلے کے حل کے لیے صوبائی سیکریٹریٹ کے دروازے تک نہیں جانا چاہیے۔
حکومت کا سب سے قریب ترین دروازہ عوام کے لیے سب سے زیادہ طاقتور دروازہ ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے برعکس ایک انتظامی فاصلہ پیدا ہوگیا ہے۔ شہری اپنے مسئلے کے لیے ایسے ادارے سے رجوع کرتا ہے جس کے پاس شاید انتظامی ذمہ داری ہو مگر مالی اختیار نہ ہو، یا ایسے سیاسی نمائندے سے رجوع کرتا ہے جس کے پاس سیاسی اثر ہو مگر انتظامی مشینری اس کے اختیار میں نہ ہو۔ نتیجہ وہی ہے جو ہر پاکستانی شہری جانتا ہے: درخواستیں، سفارشیں، فائلیں، وعدے اور انتظار۔
آرٹیکل 140-A کا اصل امتحان
آرٹیکل 140-A کی زبان میں تین الفاظ خاص اہمیت رکھتے ہیں: سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات۔
اکثر مقامی حکومتوں کو سیاسی اختیار کا کچھ حصہ دے دیا جاتا ہے، مگر انتظامی اور مالی اختیار محدود رکھا جاتا ہے۔ پھر توقع کی جاتی ہے کہ منتخب میئر، چیئرمین یا مقامی نمائندہ عوام کو خدمات فراہم کرے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو گاڑی کا اسٹیئرنگ دے دیا جائے مگر انجن، ایندھن اور بریک کسی اور کے پاس رکھ دیے جائیں۔ ایک مقامی حکومت جس کے پاس اپنا مناسب بجٹ، عملہ، منصوبہ بندی کا اختیار اور آمدنی کے مستحکم ذرائع نہ ہوں، وہ مکمل حکومت نہیں بلکہ انتظامی درخواست گزار بن جاتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف کراچی یا حیدرآباد کا نہیں۔ لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملک کے دوسرے بڑے شہری مراکز میں بھی مقامی حکمرانی کے مختلف مسائل اسی بنیادی سوال سے جڑے ہوئے ہیں: فیصلہ کون کرے گا، پیسہ کس کے پاس ہوگا اور عوام جواب کس سے مانگیں گے؟
اصل بحران پیسہ نہیں، جواب دہی بھی ہے
مقامی حکومتوں کی کمزوری کا سب سے بڑا نقصان شاید مالی نہیں بلکہ جمہوری ہے۔ فرض کیجیے ایک شہر میں صفائی کا نظام ناکام ہے۔ شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ ذمہ دار کون ہے۔ اگر اختیار میئر کے پاس ہے تو ووٹر اگلے انتخابات میں اس سے سوال کرسکتا ہے۔ اگر اختیار صوبائی محکمے کے پاس ہے تو جواب دہی صوبائی حکومت کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ اگر ایک ادارہ دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہا ہو تو پھر کوئی بھی حقیقی معنوں میں جواب دہ نہیں رہتا۔ یہی accountability gap پاکستان کے شہری انتظام میں ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت کا عملی مطلب یہ بھی ہے کہ شہری کو معلوم ہو کہ اس کے علاقے کے فیصلے کون کرتا ہے، وسائل کس کے پاس ہیں اور ناکامی کی صورت میں سوال کس سے پوچھنا ہے۔ ایک مضبوط مقامی حکومت اس جواب دہی کو واضح کرتی ہے۔
PFC: وہ خاموش مسئلہ جس پر بہت کم بحث ہوتی ہے
پاکستان میں مالیاتی اختیارات کی تقسیم پر قومی سطح پر NFC پر بہت گفتگو ہوتی ہے۔ وفاقی وسائل صوبوں تک کیسے پہنچیں، اس پر مسلسل سیاسی بحث ہوتی ہے۔ مگر صوبوں سے مقامی حکومتوں تک وسائل کی تقسیم کا سوال نسبتاً کم نمایاں رہتا ہے۔ یہاں Provincial Finance Commission (PFC) کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
اگر صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل منتقل نہیں کرتیں تو مقامی حکومت کا پورا تصور کمزور ہوجاتا ہے۔ پھر میئر یا ضلعی حکومت کا سالانہ بجٹ سیاسی مذاکرات، صوبائی منظوریوں اور مختلف انتظامی رکاوٹوں سے مشروط ہوجاتا ہے۔
ایک جدید مقامی حکومت کو صرف گرانٹ کا انتظار کرنے والا ادارہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے اپنے وسائل، واضح مالیاتی فارمولے، ذمہ داریوں کے مطابق فنڈنگ اور مناسب آمدنی کے ذرائع درکار ہیں۔ یہاں ایک اہم اصول ہونا چاہیے:
جس حکومت کو ذمہ داری دی جائے، اسے اسی ذمہ داری کے مطابق وسائل بھی دیے جائیں۔
اگر شہر کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سڑکوں، نکاسیٔ آب، مقامی ٹرانسپورٹ، پارکس یا بنیادی شہری خدمات کی ذمہ داری دی گئی ہے تو اس کے لیے مالی وسائل بھی اسی سطح پر دستیاب ہونے چاہئیں۔
کراچی اور حیدرآباد کا سبق
کراچی اس مسئلے کی سب سے نمایاں مثال ہے، مگر حیدرآباد بھی اس بحران سے الگ نہیں۔ ایک بڑے شہر کو روزانہ ہزاروں ٹن کچرا، لاکھوں گاڑیوں، مسلسل پانی کی طلب، نکاسیٔ آب، سڑکوں، ٹریفک، تجاوزات، پارکس اور دیگر شہری مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے۔ اگر فیصلے ایک سے زیادہ اداروں میں بٹ جائیں، مالی اختیار مختلف سطحوں پر منتشر ہو اور شہری یہ نہ جان سکے کہ کس ادارے کو جواب دہ ٹھہرایا جائے، تو انتظامی ناکامی تقریباً ناگزیر ہوجاتی ہے۔ کراچی میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ شہر میں مختلف سطحوں کے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بیک وقت کام کرتے ہیں۔ حیدرآباد میں بھی شہری سہولیات اور بلدیاتی صلاحیت کے مسائل کو صرف نئے منصوبوں سے حل نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں اصل سوال سڑک بنانے کا نہیں، سڑک کے انتظام کا مستقل مالک کون ہے؟
نالی بنانے کا نہیں، اس کی صفائی اور دیکھ بھال کی ذمہ داری کس کے پاس ہے؟
پانی کی اسکیم کا نہیں، پانی کے پورے شہری نظام کا جواب دہ کون ہے؟
جب ان سوالات کا واضح جواب نہ ہو تو منصوبہ بن جاتا ہے، افتتاح ہوجاتا ہے، تختی لگ جاتی ہے — لیکن مسئلہ کچھ عرصے بعد دوبارہ واپس آجاتا ہے۔
مقامی حکومت کو سیاسی مقابلے کا شکار نہیں ہونا چاہیے
پاکستان میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مقامی حکومتیں اکثر صوبائی سیاست کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اگر مقامی حکومت میں مخالف سیاسی جماعت کا میئر یا چیئرمین منتخب ہوجائے تو صوبائی حکومت اور مقامی حکومت کے درمیان کشمکش پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کا نقصان کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ شہری کو ہوتا ہے۔ ایک مضبوط جمہوری نظام میں یہ اصول ہونا چاہیے کہ منتخب مقامی حکومت سیاسی طور پر صوبائی حکومت کی تابع انتظامی شاخ نہ ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مقامی حکومتیں ریاست سے آزاد ادارے بن جائیں۔ ان کے اختیارات آئین اور قانون کے تحت واضح ہونے چاہئیں، ان کے اخراجات کا آڈٹ ہونا چاہیے، کرپشن پر کارروائی ہونی چاہیے اور ان کے فیصلوں کے خلاف قانونی نگرانی موجود ہونی چاہیے۔ لیکن نگرانی اور کنٹرول میں فرق ہے۔
احتساب ضروری ہے؛ ہر فیصلے کے لیے اجازت ضروری نہیں۔
اختیار منتقل کرنا صرف سیاسی نعرہ نہیں
پاکستان کو اب مقامی حکومت کے بارے میں ایک زیادہ سنجیدہ قومی معاہدے کی ضرورت ہے۔ اس کا آغاز اس سوال سے ہونا چاہیے کہ ملک میں کون سا کام کس سطح پر سب سے بہتر ہوسکتا ہے۔ قومی دفاع اور خارجہ پالیسی وفاق کے پاس رہیں۔ قومی اقتصادی پالیسی میں وفاق کا بنیادی کردار برقرار رہے۔ صوبے تعلیم، صحت، امن و امان اور دیگر صوبائی ذمہ داریوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ لیکن شہری خدمات کے ایسے شعبے جو براہِ راست مقامی سطح پر انجام دیے جاسکتے ہیں، انہیں حقیقی معنوں میں مقامی حکومتوں کے حوالے کیا جائے۔
اور صرف ذمہ داری نہیں — اختیار، عملہ اور پیسہ بھی۔
یہی decentralisation کا حقیقی مطلب ہے۔
ایک مضبوط مقامی حکومت دراصل ریاست کو مضبوط کرتی ہے
بعض اوقات اختیار کی نچلی سطح پر منتقلی کو صوبائی طاقت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت میں ایک مؤثر مقامی نظام صوبوں کو کمزور کرنے کے بجائے ان کا بوجھ کم کرسکتا ہے۔ اگر میئر شہری سڑکوں، صفائی، مقامی ٹرانسپورٹ، پارکس اور نکاسیٔ آب کو مؤثر انداز میں سنبھال رہا ہو تو صوبائی حکومت کو ہر گلی کی شکایت سننے کی ضرورت نہیں۔ اگر ضلع کی منتخب حکومت مقامی ترقی کی ذمہ دار ہو تو صوبائی سیکریٹریٹ کو ہر چھوٹے ترقیاتی منصوبے کی منظوری دینے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔ اختیار جتنا واضح ہوگا، انتظام اتنا ہی آسان اور جواب دہی اتنی ہی مؤثر ہوگی۔ پاکستان کا مسئلہ شاید ضرورت سے زیادہ حکومت کا نہیں بلکہ غلط سطح پر موجود حکومت کا ہے۔
اب اصلاح کا وقت ہے
پاکستان کو مقامی حکومتوں کے لیے چند بنیادی اصول طے کرنے کی ضرورت ہے: مقامی حکومتوں کی آئینی حیثیت کو عملی طاقت میں تبدیل کیا جائے؛ PFC کے ذریعے وسائل کی تقسیم کو باقاعدہ، شفاف اور قابلِ پیش گوئی بنایا جائے؛ مقامی حکومتوں کو ان کی ذمہ داریوں کے مطابق مالی وسائل دیے جائیں؛ منتخب نمائندوں کو انتظامی اختیار دیا جائے؛ مقامی بیوروکریسی کے کردار اور جواب دہی کو واضح کیا جائے؛ اور شہریوں کو بجٹ، منصوبوں اور کارکردگی کے بارے میں قابلِ رسائی معلومات فراہم کی جائیں۔ اس کے ساتھ ایک اور اصلاح ضروری ہے: مقامی حکومت کو صرف ترقیاتی منصوبوں کا ادارہ نہ سمجھا جائے۔
یہ شہری ریاست ہے۔ شہری کا ریاست سے پہلا عملی رابطہ اکثر وفاقی حکومت نہیں بلکہ مقامی حکومت ہوتی ہے۔ وہ سڑک، نالی، کچرا، پانی، پارک، بازار، مقامی ٹریفک، پیدل راستہ اور بنیادی شہری ماحول کے ذریعے ریاست کو محسوس کرتا ہے۔ اگر یہ نظام ناکام ہے تو شہری کو ریاست کی ناکامی نظر آتی ہے، خواہ اسلام آباد میں پالیسی کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔
جمہوریت کا آخری امتحان گلی میں ہوتا ہے
پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں وفاقی اور صوبائی اختیارات کی تقسیم پر بہت بحث کی ہے۔ 18ویں ترمیم نے اس بحث کو ایک تاریخی سمت دی۔ مگر اختیار کی منتقلی کا سفر صوبائی دارالحکومت پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔
وفاق سے صوبے تک اختیار کی منتقلی وفاقیت ہے؛ صوبے سے عوام تک اختیار کی منتقلی حقیقی جمہوریت ہے۔
اگر ایک شہری کو اپنی گلی کی ٹوٹی سڑک کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنا پڑے، اگر صفائی کے لیے کئی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، اگر پانی کے مسئلے پر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ذمہ دار کون ہے، تو مسئلہ صرف انتظامی نہیں — یہ جمہوری ڈھانچے کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کو مزید طاقتور مرکز یا مزید طاقتور صوبائی دارالحکومتوں کی بحث سے آگے بڑھنا ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ریاست کی طاقت آخری آدمی تک کتنی مؤثر طریقے سے پہنچتی ہے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں اسلام آباد مضبوط ہو، صوبے بااختیار ہوں، مگر شہر، ضلع، تحصیل اور یونین بے اختیار ہوں، اختیارات کی مکمل منتقلی کا پاکستان نہیں ہوسکتا۔
پاکستان کی جمہوریت کا اصل امتحان پارلیمنٹ کے ایوان میں نہیں، بلکہ شہری کی گلی میں ہوتا ہے۔
اور جب تک اختیار وہاں نہیں پہنچتا جہاں مسئلہ پیدا ہوتا ہے، 18ویں ترمیم کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔
 پاکستان میں حقیقی انتظامی اصلاح کا اگلا مرحلہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مزید طاقت کی تقسیم نہیں، بلکہ صوبائی اختیار کو واضح مالی، انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کے ذریعے مقامی حکومت تک پہنچانا ہے۔ مضبوط مقامی حکومت صوبائی خودمختاری کی مخالف نہیں؛ وہ اس کا منطقی اگلا مرحلہ ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس