ہنگو میں سڑک کنارے بم دھماکا، 6 سکیورٹی اہلکار جاں بحق؛ کارروائیوں میں 10 شدت پسند ہلاک

ہنگو میں سڑک کنارے بم دھماکا، 6 سکیورٹی اہلکار جاں بحق؛ کارروائیوں میں 10 شدت پسند ہلاک

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 19 September 2026

یہ دھماکا جمعرات کو ہنگو میں اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز کا قافلہ علاقے سے گزر رہا تھا۔ حکام کے مطابق سڑک کنارے نصب دھماکا خیز مواد کو سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں 6 فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔

پاکستانی فوج کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ہنگو اور شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کیں۔ فوج نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں 10 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستانی حکام ان افراد کو ’’خوارج‘‘ قرار دیتے ہیں، جبکہ Associated Press نے انہیں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عسکریت پسندوں کے طور پر بیان کیا ہے۔

ہنگو اور شمالی وزیرستان خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں ماضی میں بھی سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں اور حملے ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی ادارے مسلح گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی اور ممکنہ مزید حملوں کے خطرے کے پیش نظر سڑکوں اور حساس مقامات کی نگرانی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے حملے کے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے بھی کارروائی کی۔

پاکستانی حکام طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان سے متعلق سرحد پار موجودگی کو ملک میں ہونے والے حملوں سے جوڑتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند عناصر پاکستان کے اندر حملوں کے لیے سرحد پار سہولت حاصل کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

ہنگو حملے کے ساتھ ہی کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ پر ہونے والا مہلک حملہ بھی سامنے آیا، جس سے خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوئی ہے۔ دونوں واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، اگرچہ دونوں حملوں کے حالات اور طریقۂ کار مختلف تھے۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم ایسے آپریشنز کے بارے میں مکمل تفصیلات عموماً تحقیقات اور سرکاری بیانات کے بعد ہی سامنے آتی ہیں۔

حکام نے جاں بحق اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں نگرانی اور ممکنہ عسکریت پسند سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اطلاعات ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

ہنگو میں سڑک کنارے بم حملہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو درپیش خطرات کی ایک اور مثال ہے۔ حملے کے فوراً بعد ہونے والی کارروائیوں میں 10 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا فوج کی جانب سے دعویٰ کیا گیا، تاہم ایسے واقعات میں تفصیلات کی آزادانہ تصدیق محدود ہو سکتی ہے۔

اس واقعے کا تعلق وسیع تر پاکستان-افغانستان سکیورٹی صورتحال سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ سرحد پار عسکریت پسند سرگرمیوں کے بارے میں دونوں ممالک کے مؤقف مختلف ہیں، اس لیے مستقبل میں سرحدی سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات اہم عوامل رہیں گے۔

Source: Associated Press; Arab News.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس