پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت، خیبر پختونخوا حکومت کا تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا حکم

پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت، خیبر پختونخوا حکومت کا تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا حکم

VoS NEWS DESK | تعلیم و قومی امور | 17 اکتوبر 2026

پشاور میں پیش آنے والے اس افسوس ناک حادثے کے بعد بچوں کے والدین، اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اسکول ایسی جگہیں ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کو تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ ایسے مقامات پر عمارتوں کی مضبوطی، مناسب دیکھ بھال اور حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں تعمیراتی کمزوری یا حفاظتی انتظامات کی کمی طلبہ اور عملے کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

حادثے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا حکم ایک اہم انتظامی اقدام ہے۔ اس عمل کا مقصد اسکولوں کی عمارتوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لینا، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرنا اور ان اداروں کی شناخت کرنا ہے جہاں فوری مرمت یا مزید تکنیکی جانچ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ عمارتوں کا معائنہ کرتے وقت چھتوں، دیواروں، ستونوں، شہتیروں، بنیادوں اور دیگر اہم حصوں کی مضبوطی کو خاص طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

اسکولوں کی عمارتوں کا جائزہ صرف ظاہری حالت دیکھ کر مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات عمارت کے اندر موجود ساختی کمزوریاں عام نظر سے واضح نہیں ہوتیں، اس لیے مستند انجینئرز اور متعلقہ تکنیکی ماہرین کی مدد سے تفصیلی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ عمارت کی تعمیر منظور شدہ نقشے اور حفاظتی معیار کے مطابق ہوئی ہے یا نہیں، اور آیا اس کی مرمت مقررہ وقفوں سے کی جاتی رہی ہے۔

والدین کے لیے یہ جاننا بھی اہم ہے کہ ان کے بچوں کے اسکول میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات موجود ہیں۔ محفوظ راستے، ہنگامی اخراج، عمارت کی گنجائش کے مطابق طلبہ کی تعداد اور عملے کی تربیت کسی بھی تعلیمی ادارے کے حفاظتی نظام کا حصہ ہونے چاہییں۔ اگر کسی عمارت میں دراڑیں، چھت سے پانی رسنے یا دیگر ساختی خرابیوں کی علامات ظاہر ہوں تو انہیں نظرانداز کرنے کے بجائے فوری طور پر ماہرین سے جانچ کرانی چاہیے۔

حکام کے مطابق ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے کر نجی اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا اور مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ عمارتوں کو ان کی حالت کے مطابق محفوظ، مرمت یا بہتری کی ضرورت والی، یا ممکنہ طور پر غیر محفوظ قرار دینے کی سفارش کی جائے گی۔ اگر کسی عمارت سے طلبہ اور عملے کو فوری خطرہ لاحق ہوا تو متعلقہ حکام کو اطلاع دے کر ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض لواحقین کے مطابق انہوں نے اسکول کی عمارت میں پانی رسنے اور چھت کی کمزوری کے بارے میں پہلے بھی خدشات ظاہر کیے تھے۔ ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا حفاظتی شکایات پر بروقت کارروائی کی گئی تھی یا نہیں۔ پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کیا ہے، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

یہ سانحہ پاکستان میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی نگرانی کے نظام پر بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ خاص طور پر کم فیس والے نجی اسکول اکثر محدود وسائل میں کام کرتے ہیں، لیکن مالی مشکلات بچوں کی حفاظت کے بنیادی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کا جواز نہیں بن سکتیں۔ اسکول انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ عمارتوں کی حالت کی باقاعدہ جانچ کرائیں اور کسی بھی خطرے کو سامنے آنے پر فوری اقدامات کریں۔

اسکولوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عمارتوں کے معائنے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں۔ مستند ماہرین سے تکنیکی جانچ، مرمت کے کام کی نگرانی، تعمیراتی معیار پر عمل درآمد اور حفاظتی سرٹیفکیٹ کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ اسی طرح والدین اور اساتذہ کی شکایات کے لیے ایسا طریقۂ کار ہونا چاہیے جس کے ذریعے خطرناک صورت حال کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچ سکے۔

حکومت کی جانب سے معائنوں کا حکم ایک ابتدائی قدم ہے، لیکن اس کی اصل افادیت اس وقت سامنے آئے گی جب رپورٹوں کی بنیاد پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ جن عمارتوں میں سنگین خامیاں پائی جائیں، ان کی مرمت یا محفوظ متبادل انتظامات کو ترجیح دی جائے، جبکہ غیر محفوظ قرار دی گئی عمارتوں میں بچوں کی موجودگی کو روکنے کے لیے بروقت فیصلے کیے جائیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پشاور کا یہ المناک حادثہ واضح کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ صرف حادثے کے بعد تحقیقات اور معائنے کافی نہیں؛ مستقل نگرانی، عمارتوں کی باقاعدہ تکنیکی جانچ، تعمیراتی قوانین پر عمل درآمد اور شکایات پر فوری کارروائی بھی ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے حالیہ اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شناخت کیے گئے خطرات کو کتنی جلدی دور کیا جاتا ہے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے کتنا مؤثر نظام قائم کیا جاتا ہے۔

ذرائع:

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس