سندھ میں شہری پراپرٹی ٹیکس کا دائرہ 21.5 لاکھ جائیدادوں تک بڑھانے کا منصوبہ

سندھ میں شہری پراپرٹی ٹیکس کا دائرہ 21.5 لاکھ جائیدادوں تک بڑھانے کا منصوبہ

VoS NEWS DESK | سندھ | 28 ستمبر 2026

اس منصوبے کو Sindh Property Revenues Enhancement Program (SPREP) کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد سندھ کے شہری علاقوں میں پراپرٹی ریکارڈ کو زیادہ جامع، جدید اور ڈیجیٹل بنانا اور بلدیاتی اداروں کی مالیاتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پروگرام کے تحت موجودہ شہری پراپرٹی ٹیکس کیڈسٹر میں تقریباً 397,375 جائیدادیں درج ہیں، جبکہ متعلقہ پانچ ڈویژنز میں اندازاً 2.1 ملین جائیدادیں موجود ہیں۔ نئے منصوبے کے تحت رجسٹرڈ جائیدادوں کی تعداد تقریباً 2.15 ملین تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اس منصوبے میں جائیدادوں کے ریکارڈ کو بہتر بنانے کے لیے GIS-based door-to-door survey بھی شامل ہے۔ سروے کے دوران گھروں، کمرشل عمارتوں اور دیگر جائیدادوں سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی، ان کی خصوصیات ریکارڈ کی جائیں گی اور انہیں جغرافیائی طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا۔

پروگرام کے تحت کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر بڑے شہری علاقوں میں بھی پراپرٹی ریکارڈ بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ ان علاقوں میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد شامل ہیں۔

اس منصوبے کا ایک اہم پہلو زمین اور جائیداد کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن بھی ہے۔ اس کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں کے پاس موجود ریکارڈ کو بہتر انداز میں منظم کرنے اور جائیدادوں سے متعلق معلومات کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پروگرام کے مالیاتی حصے میں تقریباً 110 ملین ڈالر Program-for-Results اور 40 ملین ڈالر Investment Project Financing کے تحت مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ اس پروگرام کی مجموعی مالیت تقریباً 150 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

منصوبے کا تعلق صرف پراپرٹی ٹیکس ریکارڈ سے نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کے وسیع تر مالیاتی انتظام سے بھی ہے۔ بہتر ریکارڈ کی مدد سے مقامی حکومتوں کو اپنی آمدنی، اخراجات اور شہری خدمات کے لیے مالی منصوبہ بندی میں زیادہ منظم ڈیٹا دستیاب ہوسکے گا۔

حکام کے لیے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہوگا کہ نئے سروے کے دوران جمع ہونے والی معلومات درست ہوں اور شہریوں کو اپنے پراپرٹی ریکارڈ میں ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کا مناسب طریقہ فراہم کیا جائے۔

اس منصوبے کے نتیجے میں شہری علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس کا دائرہ وسیع ہونے کی توقع ہے، تاہم ٹیکس وصولی کے حقیقی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ نیا ڈیجیٹل ریکارڈ کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور مقامی حکومتیں اسے کس انداز میں استعمال کرتی ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

سندھ کا یہ منصوبہ صوبے کے شہری پراپرٹی ریکارڈ، ڈیجیٹل سروے اور بلدیاتی مالیاتی نظام میں بڑی توسیع کی نمائندگی کرتا ہے۔ 3.97 لاکھ سے بڑھا کر تقریباً 21.5 لاکھ جائیدادوں کا ریکارڈ تیار کرنے کا ہدف وسیع پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا تقاضا کرے گا، جبکہ درستگی، شفافیت اور شہریوں کے لیے ریکارڈ کی اصلاح کا نظام اس عمل کے اہم پہلو ہوں گے۔

Source: Business Recorder; World Bank programme documents.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس