پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کرلیا

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کرلیا

VoS NEWS DESK | بین الاقوامی | 7 اکتوبر 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اگست 2026 میں طے پایا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے مشترکہ دفاعی تعاون کا عہد کیا تھا۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران اس معاہدے کو پہلی مرتبہ عملی سطح پر فعال کرنے کی جانب قدم اٹھایا گیا ہے۔ 

5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ اتحاد برائے دفاع کی Strategic-Political and Defence Committee کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سعودی عرب کو درکار متفقہ فوجی قوت اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور انہیں تیزی سے تعینات کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ 

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق فوجی قوت اور صلاحیتوں کی تعیناتی متعلقہ قومی قوانین اور پہلے سے منظور شدہ انتظامات کے مطابق کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عملی نوعیت کی تعیناتی اور اس کی تفصیلات متعلقہ ممالک کے قانونی اور دفاعی طریقہ کار کے مطابق طے ہوں گی۔

یہ پیش رفت یمن میں حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ریاض نے اپنے دفاعی اتحادیوں سے تعاون بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ 

مکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک کی مجموعی فوجی صلاحیت خطے میں نمایاں ہے۔ تاہم معاہدے کا عملی اطلاق اس بات پر منحصر ہوگا کہ ہر ملک اپنی فوجی، سیاسی اور قانونی حدود کے اندر کس نوعیت کی مدد فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے حکام نے تعیناتی کی مکمل عملی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ مختلف تجزیوں میں یہ امکان بھی بیان کیا گیا ہے کہ تعاون میں براہِ راست جنگی کردار کے بجائے لاجسٹک، تربیتی، دفاعی یا دیگر معاون صلاحیتیں شامل ہوسکتی ہیں، تاہم حتمی نوعیت متعلقہ حکومتوں کے فیصلوں پر منحصر ہوگی۔ 

ترکی کی جانب سے بھی کسی بھی ممکنہ فوجی تعیناتی کے لیے اپنے قومی قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوں گے۔ اس لیے تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اتفاقِ رائے کے باوجود عملی فوجی اقدامات مرحلہ وار سامنے آنے کا امکان ہے۔

موجودہ صورتحال میں باب المندب آبنائے اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ یمن میں جاری لڑائی نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل اور شپنگ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ 

سعودی عرب کے لیے پاکستان اور ترکی کی دفاعی حمایت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاض کو اپنی سرحدی سلامتی، اہم تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے اضافی علاقائی تعاون کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ معاہدہ خلیجی خطے کے ساتھ اس کے طویل مدتی دفاعی اور سفارتی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اسلام آباد کے لیے یہ بھی اہم ہوگا کہ وہ علاقائی کشیدگی میں اپنے کردار کو اس طرح متوازن رکھے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری برقرار رہے اور پاکستان براہِ راست کسی وسیع تر علاقائی جنگ میں غیر ضروری طور پر نہ الجھے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا فعال ہونا مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی سکیورٹی کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کی اہم علامت ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا تعاون تینوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، لیکن اس کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ موجودہ بحران میں فوجی تعاون کس حد تک اور کس نوعیت کا اختیار کرتا ہے۔

پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج دفاعی ذمہ داریوں، علاقائی استحکام اور سفارتی توازن کے درمیان مناسب توازن قائم رکھنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے اثرات صرف تینوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج، بحیرہ احمر، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Source: Reuters · Financial Times · The Express Tribune Reuters

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس