پاکستان کی برآمدات میں تقریباً 11 فیصد اضافہ، مگر تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا

پاکستان کی برآمدات میں تقریباً 11 فیصد اضافہ، مگر تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 3 OCTOBER 2026

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران پاکستان کی اشیا کی برآمدات 8.43 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 7.59 ارب ڈالر تھیں۔ اس طرح برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 10.84 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ستمبر کا مہینہ بھی برآمدی شعبے کے لیے نسبتاً بہتر رہا۔ ستمبر 2026 میں برآمدات تقریباً 2.94 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ 2.49 ارب ڈالر تھیں۔ یوں ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں 17.61 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہانہ بنیاد پر بھی ستمبر کی برآمدات میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برآمدات میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں مسابقت، پیداواری لاگت، ٹیکسوں، ریفنڈز اور سپلائی چین سے متعلق مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ Dawn کی رپورٹ میں برآمدی شعبے کے نمائندوں نے بلند پیداواری اخراجات اور مسابقتی مشکلات سمیت متعدد مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

تاہم برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدات میں اس سے زیادہ تیزی دیکھی گئی۔ جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران پاکستان کی درآمدات 19.22 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 16.97 ارب ڈالر تھیں۔ درآمدات میں اس عرصے کے دوران 13.21 فیصد اضافہ ہوا۔

اس اضافے کے نتیجے میں پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا۔ پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 9.37 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح تجارتی خسارے میں تقریباً 15.13 فیصد اضافہ ہوا۔ ستمبر میں بھی ماہانہ تجارتی خسارہ تقریباً 3.55 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

تجارتی خسارہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی ملک کی درآمدات اس کی برآمدات سے زیادہ ہوں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ فرق بیرونی ادائیگیوں، زرمبادلہ اور مجموعی معاشی توازن کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

تازہ اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدی بل میں اضافہ زیادہ رہا۔ اس صورتحال میں مستقبل کے مہینوں کے دوران برآمدی نمو کو برقرار رکھنا اور درآمدات کے دباؤ کو منظم کرنا بیرونی تجارت کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔

پاکستان کی برآمدات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیکسٹائل، چاول، چمڑے، کھیلوں کے سامان، سرجیکل آلات اور دیگر مصنوعات کا اہم کردار رہا ہے۔ عالمی طلب، توانائی کی قیمتیں، شپنگ اخراجات اور خطے کی صورتحال بھی برآمدی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور آبنائے ہرمز سے متعلق سپلائی اور شپنگ کے مسائل نے بھی پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے لاجسٹک اخراجات اور سپلائی چین پر دباؤ پیدا کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے برآمدات میں مزید اضافے کے لیے مختلف اہداف اور اقدامات زیرِ غور رہے ہیں۔ تاہم موجودہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ برآمدات بڑھنے کے ساتھ ساتھ درآمدات میں اضافے کی رفتار بھی معاشی صورتحال کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان کی تازہ تجارتی صورتحال میں بیک وقت دو اہم رجحانات سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف پہلی سہ ماہی میں برآمدات تقریباً 11 فیصد بڑھی ہیں، جبکہ دوسری طرف درآمدات میں 13 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ تقریباً 15 فیصد بڑھ گیا۔

آنے والے مہینوں میں برآمدات کی مسلسل نمو، پاکستانی مصنوعات کی عالمی طلب، شپنگ اخراجات، درآمدی ضروریات اور عالمی معاشی حالات ملک کے تجارتی توازن پر اثر انداز ہوں گے۔

Source: Dawn / Pakistan Bureau of Statistics 

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس