VoS NEWS DESK | SPORTS | 5 اکتوبر 2026
پاکستانی ہاکی کے لیے ایشین گیمز 2026 ایک یادگار لمحہ لے کر آیا، جہاں قومی ٹیم نے جنوبی کوریا کے خلاف زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5-3 سے کامیابی حاصل کی اور کانسی کا تمغہ اپنے نام کرلیا۔
یہ مقابلہ ابتدا میں پاکستان کے لیے آسان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پاکستان نے چوتھے منٹ میں سفیان خان کے ذریعے پنالٹی کارنر پر گول کرکے برتری حاصل کی، لیکن جنوبی کوریا نے جلد ہی مقابلہ برابر کردیا اور پھر مسلسل حملوں کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھایا۔
جنوبی کوریا نے پہلے ہاف میں پاکستان کے خلاف اپنی برتری مضبوط کی۔ 12ویں منٹ میں لی گینگ سان نے گول کیا، جبکہ 18ویں منٹ میں کم جنگ بوک نے جنوبی کوریا کو برتری دلائی۔ 25ویں منٹ میں یانگ جی ہون نے پنالٹی کارنر پر ایک اور گول کرکے کوریا کی برتری 3-1 کردی۔
پاکستان نے تاہم ہمت نہیں ہاری۔ پہلے ہاف کے اختتام سے قبل عبد الرحمن نے 30ویں منٹ میں پنالٹی کارنر کو گول میں تبدیل کرکے پاکستان کو مقابلے میں واپس لایا۔ اس گول نے پاکستان کے لیے امید پیدا کی اور دوسرے ہاف میں ٹیم نے بالکل مختلف انداز میں کھیل پیش کیا۔
دوسرے ہاف میں پاکستان نے جارحانہ ہاکی کا مظاہرہ کیا۔ رانا وحید نے 52ویں اور 54ویں منٹ میں دو گول کرکے پاکستان کو دوبارہ برتری دلائی۔ ان میں سے ایک گول پنالٹی کارنر کے ذریعے آیا۔ چند ہی منٹوں میں پاکستان نے 1-3 کے خسارے کو 4-3 کی برتری میں تبدیل کردیا۔
میچ کے آخری مرحلے میں حنان شاہد نے 59ویں منٹ میں پاکستان کا پانچواں گول کرکے کامیابی تقریباً یقینی بنادی۔ آخری سیٹی بجنے کے ساتھ پاکستان نے 5-3 سے فتح حاصل کی اور کانسی کا تمغہ اپنے نام کرلیا۔
یہ فتح پاکستانی ہاکی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ قومی ٹیم نے 12 سال کے وقفے کے بعد ایشین گیمز ہاکی میں میڈل حاصل کیا ہے۔ پاکستان کی ہاکی ٹیم کی ایشین گیمز میں ایک شاندار تاریخ رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں عالمی اور ایشیائی سطح پر مستقل کامیابیاں حاصل کرنا مشکل رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے خلاف کامیابی نے نہ صرف ایک تمغہ پاکستان کے نام کیا بلکہ ٹیم کی واپسی کی امید بھی پیدا کی ہے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا چوتھے نمبر پر رہا۔ ایشین گیمز 2026 میں ہاکی کا مقابلہ 18 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہا۔
پاکستانی ٹیم کی سب سے نمایاں خصوصیت اس مقابلے میں اس کی واپسی رہی۔ پہلے ہاف میں دو گول کے خسارے کے باوجود کھلاڑیوں نے اپنا حوصلہ برقرار رکھا اور دوسرے ہاف میں مسلسل حملوں کے ذریعے میچ کا نقشہ بدل دیا۔
یہ کامیابی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا ٹیلنٹ اب بھی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھلاڑیوں کو مستقل تربیت، جدید سہولیات، بین الاقوامی مقابلوں اور بہتر انتظامی نظام فراہم کیا جائے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان کا یہ کانسی کا تمغہ صرف ایک کھیلوں کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستانی ہاکی کی بحالی کی امید بھی ہے۔
اگر اس کامیابی کو مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان ایشیا میں دوبارہ ہاکی کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ قومی ٹیم کو صرف بڑے ٹورنامنٹس کے دوران نہیں بلکہ پورے سال اعلیٰ معیار کی تیاری کی ضرورت ہے۔
اس کامیابی سے نوجوان کھلاڑیوں کا اعتماد بھی بڑھ سکتا ہے۔ اگر اسکول، کالج اور کلب کی سطح پر ہاکی کے ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے اور قومی ٹیم کے لیے مسلسل ٹیلنٹ تیار کیا جائے تو پاکستان مستقبل میں ایشین گیمز کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ اور اولمپکس میں بھی بہتر نتائج حاصل کرسکتا ہے۔
Source: Associated Press of Pakistan, Dawn, Olympics.com
