پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 8 OCTOBER 2026

تازہ پیش رفت کے مطابق آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے Extended Fund Facility (EFF) کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے Resilience and Sustainability Facility (RSF) کے تیسرے جائزے پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ان جائزوں کی تکمیل پاکستان کو پروگرام کے تحت مزید مالی وسائل تک رسائی کے قابل بناتی ہے۔ 

رپورٹس کے مطابق ممکنہ طور پر پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر EFF کے تحت جبکہ تقریباً 210 ملین ڈالر RSF کے تحت حاصل ہو سکتے ہیں۔ اگر آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ معاہدے کی منظوری دے دیتا ہے تو دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر ملنے والی رقوم تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی معیشت کو بیرونی مالی ضروریات، توانائی کی بلند قیمتوں، درآمدی دباؤ اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے جائزے کے دوران پاکستان کی معاشی پالیسیوں، مالیاتی اہداف، توانائی کے شعبے اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔

آئی ایم ایف کی ٹیم نے 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں جاری پروگرام کے تازہ جائزوں کے ساتھ ساتھ 2026 کی Article IV consultation بھی شامل تھی۔ 

پاکستانی معیشت کے لیے اس معاہدے کی اہمیت صرف نئی رقم کے حصول تک محدود نہیں ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور دیگر قرض دہندگان کے لیے بھی ایک اہم اشارہ تصور کی جاتی ہے۔ پروگرام کے جائزے میں کامیابی سے پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات کو سہارا مل سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کی قیمتوں اور سپلائی میں رکاوٹوں جیسے بیرونی دباؤ کے باوجود مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ فنڈ نے مضبوط پالیسی اقدامات کو اس صورتحال سے نمٹنے میں اہم قرار دیا ہے۔ 

تاہم ماہرین کے لیے اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ نئی فنانسنگ کے ساتھ پاکستان اپنی مالیاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، ٹیکس وصولی، سرکاری اخراجات اور ساختی اصلاحات کو کس حد تک مستقل بنیادوں پر آگے بڑھاتا ہے۔ صرف بیرونی قرضوں کا حصول طویل مدتی معاشی استحکام کی ضمانت نہیں بنتا، بلکہ اس کے ساتھ مقامی آمدنی بڑھانے اور اخراجات کو مؤثر بنانے کی ضرورت بھی برقرار رہتی ہے۔

اگر ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری مل جاتی ہے تو نئی رقم پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس سے حکومت کو فوری مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے کچھ اضافی گنجائش بھی حاصل ہوگی۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

آئی ایم ایف کے ساتھ نیا اسٹاف لیول معاہدہ پاکستان کے لیے قلیل مدتی مالی استحکام کا اہم موقع ہے، لیکن اصل امتحان معاہدے کے بعد شروع ہوگا۔ نئی فنانسنگ وقتی دباؤ کم کر سکتی ہے، مگر پائیدار معاشی بہتری کے لیے ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے، برآمدات، سرکاری اداروں اور مالیاتی نظم و ضبط میں بنیادی اصلاحات ضروری رہیں گی۔ اگر پاکستان پروگرام کی شرائط پر مستقل عمل درآمد برقرار رکھتا ہے تو یہ معاہدہ عالمی مالیاتی اعتماد میں بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Source: International Monetary Fund | Reuters | Dawn | Geo News Dawn

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس