VoS NEWS DESK | SCIENCE & TECHNOLOGY | 18 OCTOBER 2026
اسلام آباد میں دانش آئی ٹی پارک کا افتتاح پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، حکومتی حکام، آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں، ماہرین اور طلبہ نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اس منصوبے کو محض ایک عمارت کے بجائے ایک مکمل ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
دانش آئی ٹی پارک کے بنیادی مقاصد میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی، کاروباری اختراعات کی حوصلہ افزائی اور نوجوانوں کے لیے نئی مہارتیں سیکھنے کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اسٹارٹ اپس کو اپنے کاروباری تصورات کو عملی شکل دینے، تجربہ کار ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے اور ممکنہ سرمایہ کاروں سے رابطے قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسے مراکز نئی کمپنیوں کو ابتدائی مراحل میں درپیش تکنیکی اور کاروباری مشکلات کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ روزگار، کاروباری سرگرمیوں اور زرمبادلہ کے حصول کے لیے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، موبائل ایپلی کیشنز، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات کی عالمی منڈی میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے ترقی کے مختلف امکانات موجود ہیں۔ تاہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جدید انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خدمات کی فراہمی ضروری ہے۔
وزیراعظم نے افتتاحی تقریب میں واضح کیا کہ پارک کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے معروف ملکی اور بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیوں کو شفاف بولی کے عمل میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ حکومت کا مقصد ایک ایسا انتظامی نظام قائم کرنا ہے جس کے تحت ماہرین اور پیشہ ور ادارے پارک کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں اور کاروباری ترقی کے لیے موزوں ماحول فراہم کریں۔ اس حوالے سے شفافیت، مؤثر انتظام اور طویل مدتی مالی پائیداری منصوبے کی کامیابی کے اہم عوامل ہوں گے۔
12 اکتوبر کو وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ دانش آئی ٹی پارک کو عالمی معیار کے ٹیکنالوجی مرکز میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے اور پارک کو عملی طور پر فعال بنانے پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے منصوبے کا جامع جائزہ لینے اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایات بھی دیں، تاکہ اس کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے اور مستقبل کی ضروریات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
مصنوعی ذہانت اس منصوبے کے اہم ترجیحی شعبوں میں شامل ہے۔ دنیا بھر میں اے آئی کا استعمال تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، مالیاتی خدمات اور کاروباری انتظام میں بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، لیکن اس کے لیے کمپیوٹنگ وسائل، ڈیٹا سکیورٹی، تربیت یافتہ ماہرین اور تحقیق کے لیے مناسب سہولیات کی ضرورت ہوگی۔ دانش آئی ٹی پارک جیسے مراکز ان شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔
نوجوانوں کی فنی تربیت بھی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر طلبہ کو مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور سائبر سکیورٹی میں معیاری تربیت فراہم کی جائے تو وہ ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں میں ملازمت کے بہتر مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح تربیتی پروگراموں کو صنعت کی حقیقی ضروریات سے منسلک کرنے سے تعلیم اور روزگار کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی پارکس قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان مراکز کے قیام سے ٹیکنالوجی کی سرگرمیوں کو صرف اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے دوسرے علاقوں میں بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس سے مقامی نوجوانوں اور کاروباری افراد کو اپنے شہروں میں رہتے ہوئے جدید ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بننے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
دانش آئی ٹی پارک کی ترقی کا ایک اہم پہلو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا بھی ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تربیت اور کاروباری طریقۂ کار کے تبادلے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی اسٹارٹ اپس کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے، نئی مصنوعات تیار کرنے اور بیرونِ ملک صارفین کے لیے خدمات فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم کسی بھی ٹیکنالوجی پارک کی کامیابی کا انحصار صرف عمارت یا جدید سہولیات کی موجودگی پر نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ کمپنیوں کو قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، بجلی، مؤثر انتظامی خدمات، مناسب مالی معاونت اور تربیت یافتہ افرادی قوت میسر ہو۔ اس کے علاوہ نئے کاروباروں کے لیے سرمایہ کاری کے ذرائع اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی معاونت بھی اہم ہے۔ ان عناصر کے بغیر جدید انفراسٹرکچر اپنی مکمل معاشی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں پائیدار اضافہ کرنے کے لیے مقامی کمپنیوں کو بین الاقوامی معیار، ڈیٹا تحفظ، دانشورانہ ملکیت اور صارفین کی ضروریات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ دانش آئی ٹی پارک کو اگر تحقیق، تربیت، کاروباری شراکت داری اور نئی ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جاتا ہے تو یہ ملک کے ڈیجیٹل شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
اسلام آباد میں دانش آئی ٹی پارک کا افتتاح پاکستان کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کاروبار کے شعبے میں ایک اہم موقع ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آیا اسے حقیقی کاروباری سرگرمیوں، معیاری تربیت، تحقیق، سرمایہ کاری اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ مؤثر تعاون کے مرکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خدمات کی عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے کے لیے پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ، اسٹارٹ اپس کے لیے معاون ماحول، شفاف انتظام اور آئی ٹی کمپنیوں کے لیے کاروباری سہولیات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
اگر دانش آئی ٹی پارک اپنے طے شدہ مقاصد کے مطابق فعال ہوتا ہے تو اس سے روزگار کے نئے مواقع، مقامی اختراعات، کاروباری سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس منصوبے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ مستقبل میں اس کے ذریعے پیدا ہونے والے روزگار، قائم ہونے والی کمپنیوں، تربیت یافتہ نوجوانوں اور حاصل ہونے والی معاشی ترقی سے لگایا جائے گا۔
Source: Dawn — Shehbaz inaugurates IT Park to drive tech-led growth
