خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی، نیا انتظامی فریم ورک تجویز

خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی، نیا انتظامی فریم ورک تجویز

VoS NEWS DESK | خیبر پختونخوا | 28 ستمبر 2026

یہ مسودہ صوبائی کابینہ کے 59ویں اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کی۔ صوبائی کابینہ نے مختلف شقوں پر اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات اور تجاویز پر غور کرنے کے بعد نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری دی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت پولیس کے تحقیقاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے صوبے میں Regional Investigation Officers (RIOs) متعارف کرائے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے تحقیقات کے معیار اور پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

مجوزہ قانون میں پولیس افسران کی ترقی اور کیریئر کے حوالے سے بھی تبدیلیاں شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق promotion، fast-track promotion اور direct recruitment quotas کو ازسرنو ترتیب دینے کی تجویز ہے تاکہ پولیس افسران کے لیے ترقی کے مواقع میں اضافہ کیا جاسکے اور طویل عرصے سے موجود بعض انتظامی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔

قانون کے تحت پولیس کے پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ رکھنے کے لیے دو ادارہ جاتی فورمز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان میں Police Policy Board شامل ہے، جس کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے، جبکہ Police Operations Board کی سربراہی صوبائی پولیس افسر کریں گے۔

حکومت کے مطابق Police Policy Board کا کردار پولیس کی پالیسی اور سالانہ منصوبہ بندی میں ہوگا، جبکہ پولیس کے آپریشنل امور متعلقہ پولیس قیادت کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔ صوبائی پولیس افسر کو سالانہ policing plan تیار کرکے Police Policy Board کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوگا۔

مجوزہ قانون میں Regional Police Officers (RPOs) اور District Police Officers (DPOs) کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق بھی انتظامی تبدیلیاں شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس عمل میں Khyber Pakhtunkhwa Rules of Business 1985 کے تحت ادارہ جاتی احتساب کو واضح کیا جائے گا۔

Dispute Resolution Councils یعنی DRCs کے حوالے سے بھی نئی قانونی व्यवस्था تجویز کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق موجودہ DRCs کو تحلیل کرکے نئے قانون کے تحت انہیں دوبارہ تشکیل دیا جائے گا، تاکہ ان کے کام کا طریقہ، اختیارات اور ذمہ داریاں زیادہ واضح ہوں۔

حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت صوبائی پولیس افسر کے لیے performance-based accountability mechanism متعارف کرایا جائے گا۔ اگر کارکردگی تسلی بخش نہ ہو تو صوبائی حکومت اس افسر کی خدمات وفاق کو واپس کرنے کی درخواست کرسکے گی۔

تاہم مجوزہ قانون پر وفاقی سطح سے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ قانون کے بعض پہلو آئین اور Police Service of Pakistan کے قواعد سے متصادم ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو متاثر کرسکتی ہیں۔ یہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت قانون کو پولیس کے احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کے فریم ورک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

قانونی طور پر کابینہ کی منظوری کے بعد مسودہ ابھی قانون نہیں بنا۔ اسے مزید قانون سازی کے مراحل سے گزرنا ہوگا اور صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔ Associated Press of Pakistan کے مطابق کابینہ سے منظوری کے بعد مسودہ آئندہ صوبائی اسمبلی اجلاس میں مزید کارروائی کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس قانون کے ممکنہ اثرات کا انحصار اس کی حتمی منظوری، اسمبلی میں ہونے والی ترامیم اور عملی نفاذ پر ہوگا۔ خاص طور پر پولیس کی پالیسی سازی، افسران کی تعیناتی، تحقیقات، ترقیوں اور انتظامی نگرانی سے متعلق شقیں قانون کے نافذ ہونے کے بعد اہمیت اختیار کریں گی۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کا مجوزہ فریم ورک پولیس کی تحقیقات، افسران کی ترقی، تعیناتیوں، پالیسی سازی اور انتظامی احتساب سے متعلق کئی تبدیلیاں متعارف کراتا ہے۔ صوبائی کابینہ نے مسودے کی منظوری دے دی ہے، تاہم حتمی قانونی حیثیت کے لیے صوبائی اسمبلی سمیت آئینی و قانونی مراحل مکمل ہونا باقی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان بعض شقوں کی تشریح اور اثرات پر اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔

Source: Associated Press of Pakistan; Business Recorder; Dawn; Radio Pakistan; Khyber Pakhtunkhwa Government.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس