VoS NEWS DESK | EDUCATION | 4 اکتوبر 2026
کراچی میں 4th ECCE International Summit 2026 سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے گورنر نے ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کا موضوع “Reimagining Early Childhood Care and Education” تھا، جس میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور تعلیم کو بہتر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دی گئی۔
سندھ کے گورنر نے کہا کہ کسی بھی مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد معیاری تعلیم اور بچوں کی مناسب تربیت سے رکھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر بچوں کی شخصیت کی تشکیل ابتدائی عمر سے مثبت انداز میں کی جائے تو مستقبل میں معاشرے کو زیادہ ذمہ دار، بااخلاق اور باصلاحیت شہری مل سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو تعلیم دینے کا مقصد صرف امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ تعلیم کے ذریعے بچوں میں شائستگی، برداشت، احترام، انسانیت، ذمہ داری اور مثبت رویوں کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔
گورنر سندھ کے مطابق بچے جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں وہ ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ خاندان، اسکول اور معاشرہ تینوں مل کر بچے کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی تربیت صرف اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین اور پورے معاشرے کو بھی اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے والدین کے کردار کو بھی خصوصی اہمیت دی اور کہا کہ بچے کے رویے میں خاندان کی تربیت اور اقدار واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ اگر گھر میں احترام، ذمہ داری، برداشت اور مثبت رویے کو فروغ دیا جائے تو یہی خصوصیات بچے کی شخصیت کا حصہ بن سکتی ہیں۔
اساتذہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ ابتدائی تعلیم سے وابستہ اساتذہ دراصل قوم کے مستقبل کی بنیاد رکھنے کا کام کررہے ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے کے باصلاحیت اور قابل افراد کو تعلیم اور تربیت کے شعبے میں آنے کی ترغیب دی جانی چاہیے تاکہ نئی نسل کو بہتر رہنمائی فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے تعلیم کو ایک ایسی طاقت قرار دیا جو فرد کی شخصیت کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو تبدیل کرسکتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بچہ مستقبل میں نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
پاکستان میں ابتدائی تعلیم کے شعبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ متعدد بچوں کو کم عمری میں تعلیم کے بجائے کام کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں اسکول، تربیت یافتہ اساتذہ اور بنیادی تعلیمی سہولیات بھی محدود ہیں۔
بچوں کو مشقت سے نکال کر اسکولوں تک لانا بھی تعلیمی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔ گورنر سندھ نے اس سے قبل بھی بچوں کو محفوظ ماحول اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کو ریاست کی آئینی اور سماجی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
اسی طرح اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر گورنر سندھ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ استاد کا کردار صرف تعلیمی معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں۔ استاد بچوں میں اخلاق، ذمہ داری، سماجی اقدار اور زندگی بھر سیکھنے کا جذبہ پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ابتدائی تعلیم کے ماہرین کے مطابق بچے کی زندگی کے ابتدائی سال اس کی ذہنی، سماجی اور جذباتی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول، مناسب رہنمائی اور مثبت سرگرمیاں فراہم کی جائیں تو ان کی مستقبل کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے اسکولوں میں صرف نصابی کتابوں پر انحصار کرنے کے بجائے بچوں کو عملی سرگرمیوں، تخلیقی کام، سوال کرنے، مسائل حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کے مواقع بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔
تعلیم کے ساتھ کردار سازی پر توجہ دینے کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ بچے معاشرے میں اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ دوسروں کے احترام، قانون کی پابندی اور اجتماعی ذمہ داری جیسے تصورات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ نوجوان آبادی ملک کی بڑی طاقت ہے۔ اگر نئی نسل کو ابتدائی عمر سے معیاری تعلیم اور مثبت تربیت فراہم کی جائے تو یہی بچے مستقبل میں ملک کی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان میں تعلیمی ترقی صرف نئے اسکول بنانے یا امتحانی نتائج بہتر کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہر بچے کو معیاری ابتدائی تعلیم کے ساتھ ایسا ماحول بھی ملے جہاں وہ اعتماد، اخلاق، برداشت اور ذمہ داری کے ساتھ پروان چڑھے۔
ابتدائی تعلیم میں سرمایہ کاری کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آتے، لیکن طویل مدت میں یہی سرمایہ کاری ایک مضبوط انسانی وسائل کی بنیاد بنتی ہے۔ بہتر تربیت یافتہ بچے مستقبل میں زیادہ ذمہ دار شہری، بہتر پیشہ ور اور معاشرے کے لیے زیادہ مثبت کردار ادا کرنے والے افراد بن سکتے ہیں۔
والدین، اساتذہ، حکومت اور نجی شعبے کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بچہ صرف غربت، سہولیات کی کمی یا سماجی مسائل کی وجہ سے معیاری تعلیم سے محروم نہ رہے۔ اگر پاکستان ابتدائی تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور کردار سازی کو اپنی تعلیمی پالیسی میں مرکزی حیثیت دیتا ہے تو اس کے نتائج آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
Source:
