ایتھوپیا میں دوبارہ شدید لڑائی، ہارن آف افریقہ میں وسیع علاقائی بحران کا خدشہ

ایتھوپیا میں دوبارہ شدید لڑائی، ہارن آف افریقہ میں وسیع علاقائی بحران کا خدشہ

VoS NEWS DESK | INTERNATIONAL | 4 اکتوبر 2026

ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائے میں تازہ لڑائی نے ایک مرتبہ پھر اس ملک کو شدید سیاسی اور عسکری بحران کے مرکز میں پہنچا دیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں کو 2020 سے 2022 کے دوران جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کے بعد سب سے سنگین فوجی کشیدگی قرار دیا جارہا ہے۔

لڑائی کا مرکز تیگرائے کا دارالحکومت میکیلے اور اس کے آس پاس کے علاقے بن گئے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت سے منسلک فورسز اور تیگرائی قیادت سے وابستہ مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

تازہ صورتحال میں ایتھوپیا کی وفاقی فورسز نے میکیلے کے اہم Alula Aba Nega Airport پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی حکومت کے لیے ایک اہم فوجی کامیابی سمجھی جارہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق صرف ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنا تنازع کے خاتمے کی ضمانت نہیں دیتا۔

میکیلے کے اطراف میں فائرنگ کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ شہری زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ کشیدگی کے باعث معمول کی سرگرمیوں، کاروبار اور بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماضی کے تنازع کی طرح اگر لڑائی طویل ہوتی ہے تو انسانی ضروریات اور نقل مکانی کا بحران بھی دوبارہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔

تازہ بحران کی ایک بڑی وجہ ایتھوپیا اور تیگرائی قیادت کے درمیان موجود سیاسی اختلافات، علاقائی حدود اور سابقہ جنگ کے بعد مکمل سیاسی حل نہ ہونے والے معاملات کو قرار دیا جارہا ہے۔ 2022 کے امن معاہدے نے بڑی جنگ کو روکا تھا، لیکن کئی بنیادی تنازعات مکمل طور پر حل نہیں ہوئے تھے۔

صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہوگئی ہے کیونکہ ایتھوپیا اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔ ایتھوپیا نے اریٹیریا، سوڈان اور مصر پر تیگرائی مخالف اتحاد کی حمایت کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ ان ممالک نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔

ایتھوپیا اور اریٹیریا کے تعلقات میں بھی حالیہ دنوں میں شدید بگاڑ آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی اطلاعات نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ تیگرائے کا تنازع کسی وقت وسیع تر علاقائی کشیدگی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

ہارن آف افریقہ پہلے ہی کئی پیچیدہ تنازعات کا شکار ہے۔ سوڈان میں جاری جنگ، صومالیہ میں سیکیورٹی چیلنجز، اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان کشیدگی اور بحیرۂ احمر سے متعلق علاقائی مقابلہ آرائی نے خطے کو پہلے ہی حساس بنا رکھا ہے۔

اسی وجہ سے ایتھوپیا میں نئی جنگ صرف ایک داخلی مسئلہ نہیں سمجھی جارہی۔ اگر پڑوسی ممالک کسی فریق کی کھلی یا خفیہ حمایت کرتے ہیں تو تنازع کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے اور ایک ایسا علاقائی بحران پیدا ہوسکتا ہے جس پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

امریکا نے ایتھوپیا اور اریٹیریا سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات و تعاون کی طرف واپس آنے پر زور دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق ہارن آف افریقہ مزید فوجی تنازع اور انسانی بحران برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر اس لیے بھی گہری نظر رکھی جارہی ہے کیونکہ ہارن آف افریقہ بحیرۂ احمر، خلیج عدن اور عالمی تجارتی راستوں کے قریب واقع ایک انتہائی اہم خطہ ہے۔ یہاں طویل جنگ نہ صرف مقامی آبادی بلکہ علاقائی تجارت اور بین الاقوامی سیکیورٹی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

اگر لڑائی مزید علاقوں تک پھیلتی ہے تو ہزاروں یا اس سے بھی زیادہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ پہلے سے کمزور انسانی امدادی نظام پر اضافی دباؤ خوراک، صحت اور پناہ کے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

ایتھوپیا میں موجودہ بحران ہارن آف افریقہ کے لیے ایک خطرناک موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایک داخلی تنازع علاقائی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں تبدیل ہوجائے۔

اگر ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا دیگر پڑوسی ممالک کسی ایک فریق کے قریب آتے ہیں تو موجودہ لڑائی کئی محاذوں پر پھیل سکتی ہے۔ اس صورتحال میں افریقی یونین اور عالمی طاقتوں کے لیے سفارتی کوششیں مزید اہم ہوجاتی ہیں۔

اس بحران کا پائیدار حل فوجی کامیابی کے بجائے سیاسی مذاکرات، علاقائی اعتماد سازی اور 2022 کے امن معاہدے کے بنیادی مقاصد کی طرف واپسی میں ہے۔ اگر فریقین فوری طور پر بات چیت کی طرف نہ آئے تو اس کے انسانی اور علاقائی اثرات ایتھوپیا کی سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس ہوسکتے ہیں۔

Source:

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس