اسلام آباد میں 24 تعلیمی ادارے آج سے بند، پولیس اہلکاروں کے لیے رہائش کا انتظام

اسلام آباد میں 24 تعلیمی ادارے آج سے بند، پولیس اہلکاروں کے لیے رہائش کا انتظام

VoS NEWS DESK | پاکستان | 22 ستمبر 2026

اسلام آباد میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے 24 تعلیمی اداروں کو آج سے بند کر دیا ہے۔ ڈان کے مطابق ان اداروں میں پولیس اہلکاروں کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے، جس کے باعث طلبہ اور والدین کو پہلے ہی اداروں کی بندش سے متعلق آگاہ کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں مختلف سیاسی احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی انتظامات بڑھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دارالحکومت اور اٹک کے مختلف مقامات پر 2,000 سے زیادہ کنٹینرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے لیے بڑی تعداد میں اہلکاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ بعض تعلیمی اداروں کو ان اہلکاروں کے قیام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اسی وجہ سے وہاں تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے احتجاجی انتظامات کے اخراجات کے لیے تقریباً 827 ملین روپے کی درخواست بھی کی ہے۔ اس رقم میں کنٹینرز کے کرائے، پولیس اہلکاروں کی رہائش، خوراک، نقل و حمل اور دیگر سکیورٹی سامان کے اخراجات شامل ہیں۔

پولیس حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ممکنہ طور پر 20 ہزار سے 25 ہزار مظاہرین کے جمع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکام نے سکیورٹی انتظامات کو 26 ستمبر کی شام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور والدین کے معمولات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، تاہم انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام موجودہ سکیورٹی انتظامات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اداروں میں پولیس کی رہائش کے انتظام کے باعث کلاسز جاری رکھنا عملی طور پر مشکل قرار دیا گیا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کی عارضی بندش براہِ راست شہر میں جاری سکیورٹی انتظامات سے منسلک ہے۔ موجودہ صورتحال میں انتظامیہ کی ترجیح پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے ضروری انتظامات مکمل کرنا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کی معمول کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ اداروں کے دوبارہ کھلنے سے متعلق انتظامیہ کی جانب سے مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

Source: Dawn

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس