"کھوکھلے نعرے اور زخمی سڑکیں: برطانیہ میں چاقو زنی کی وبا کا اصل سچ"

آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس (ONS) کے حالیہ اعداد و شمار نے اس تلخ حقیقت پر مہر لگا دی ہے جس کا سامنا برطانیہ کے مختلف شہر پچھلے کئی مہینوں سے کر رہے ہیں: ملک میں چاقو زنی (Knife Crime) کا بحران اب ایک خطرناک حد کو پار کر چکا ہے۔ مانچسٹر کے مضافات سے لے کر لندن کے دل تک، نوجوانوں کا گلیوں میں بے دردی سے قتل ہونا اب محض وہ خبریں نہیں رہیں جن پر وزارتِ داخلہ کی طرف سے روایتی تعزیتی بیانات جاری کر کے جان چھڑائی جا سکے۔ یہ ایک گہرے سماجی زوال کی وہ چیخیں ہیں جنہیں حکومت سننے سے قاصر ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ویسٹ منسٹر (پارلیمنٹ) کا جواب اب بھی وہی پرانا ہے—ایک طرف سڑکوں پر زبردستی پولیس بڑھانے کے دعوے ہیں اور دوسری طرف پارلیمنٹ کے بند کمروں میں بیٹھ کر کی جانے والی بے مقصد بحث۔ حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی، جو صرف شک کی بنیاد پر نوجوانوں کی تلاشی لینے (Stop-and-Search) کے قوانین کو سخت کرنے پر ٹکی ہے، دراصل بیماری کے بجائے صرف اس کی علامت کا علاج کر رہی ہے۔ چاقو تو صرف ایک ہتھیار ہے، اصل مسئلہ وہ ذہنیت اور حالات ہیں جو کسی نوجوان کے ہاتھ میں چاقو تھماتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک آپ مقامی آبادی کا اعتماد حاصل نہیں کرتے، پولیس کی یہ سختیاں ان علاقوں کے لوگوں کو ریاست سے مزید دور کر دیتی ہیں جن کی حفاظت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ آپ پولیس کے بل بوتے پر اس بحران کو کبھی ختم نہیں کر سکتے جس کی اصل وجہ نوجوانوں کے کلبز (Youth Clubs) کا بند ہونا، اسکولوں میں دماغی صحت (Mental Health) کے بجٹ کا نہ ہونا، اور غریب بستیوں میں رہنے والے بچوں کے لیے مستقبل میں روزگار کے مواقع کا بالکل ختم ہو جانا ہے۔ "برطانیہ کی سڑکوں پر تشدد کا پسِ منظر" بجٹ کی کٹوتیاں ➔ سنہ 2010 سے اب تک 750 سے زائد یوتھ کلبز کا خاتمہ۔ سماجی تنہائی ➔ اسکولوں میں وبائی مرض کے بعد بچوں کی ذہنی صحت کا بحران۔ منشیات کے گینگ ➔ مجرمانہ گروہوں کی طرف سے مجبور اور لاچار بچوں کا استعمال۔ موجودہ بحران ➔ سال 2026 میں نوجوانوں کی ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ۔ حقیقی قومی سلامتی اس وقت شروع نہیں ہوتی جب کوئی حادثہ ہو جائے اور آپ عدالتوں سے سخت سزائیں سنانا شروع کر دیں؛ اس کا آغاز ان برسوں میں ہوتا ہے جو اس حادثے سے پہلے کے ہوتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی برطانیہ کی سڑکوں پر امن قائم کرنا چاہتی ہے، تو اسے پرتشدد جرائم کو صرف پولیس کا مسئلہ سمجھنا بند کرنا ہو گا۔ اس کے لیے کروڑوں پاؤنڈز کی ان سماجی اداروں میں دوبارہ انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے جو ان بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو اسٹریٹ کرائم کے دلدل سے نکال کر ایک بہتر زندگی کی امید دے سکیں۔ جب تک حکومت غریب کے گھر کے معاشی حالات کو درست نہیں کرتی، تب تک پارلیمنٹ کے یہ تمام آرڈرز اور سیاسی نعرے اس خونی وبا کے سامنے بالکل بے اثر ثابت ہوتے رہیں گے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس