"پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران اور شہری نقل و حرکت: معاشی پیداواریت اور عوامی سفری مشکلات"

کسی بھی ترقی پذیر ملک کے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مربوط نظام محض ایک سفری سہولت نہیں ہوتا، بلکہ یہ معیشت کا وہ پوشیدہ پہیہ ہوتا ہے جو مزدوروں، طلبہ اور ملازمین کو روزگار کے مراکز تک پہنچاتا ہے۔ بدقسمتی سے، کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے کروڑوں کی آبادی والے میگا شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ طویل عرصے سے شدید غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی سرد مہری کا شکار ہے۔ اورنج لائن یا میٹرو بس جیسے چند مخصوص منصوبوں کے علاوہ، شہروں کا ایک بہت بڑا حصہ آج بھی کسی بھی قسم کی سرکاری سفری سہولت سے مکمل طور پر محروم ہے۔ یہ ڈھانچہ جاتیCollapse نہ صرف عام شہریوں کے لیے ایک روزمرہ کا عذاب بن چکا ہے، بلکہ یہ ملکی معاشی پیداواریت (economic productivity) کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ جب ریاست شہریوں کو ایک سستا اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو وہ بالواسطہ طور پر مڈل کلاس اور دیہاڑی دار طبقے کو غیر منظم نجی سفری مارکیٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ چنگ چی رکشوں، غیر محفوظ ویگنوں اور آن لائن بائیک سروسز پر انحصار کرنے کی وجہ سے ایک عام ملازم کی آمدنی کا ایک بہت بڑا حصہ صرف روزمرہ کے سفر کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کا سب سے سنگین اثر خواتین پر پڑتا ہے، جو مناسب اور محفوظ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر تعلیم اور روزگار کے مواقع چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ مزید برآں، سڑکوں پر نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی اس بھرمار نے ٹریفک کے بدترین جام، ایندھن کے ضیاع اور فضائی آلودگی کو جنم دیا ہے، جس سے نہ صرف قومی خزانے پر پٹرول کی درآمد کا بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ شہری صحت کا بحران بھی سنگین ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی اداروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ شہروں کو محض فلائی اوورز اور سڑکیں چوڑی کر کے جدید نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے پائیدار ماس ٹرانزٹ نیٹ ورکس کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید بسوں کے بیڑے متعارف کروائے، شہر کے مضافاتی علاقوں کو مرکزی تجارتی مراکز سے جوڑے اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھے۔ اگر میگا شہروں کے ٹرانسپورٹ نظام کو ہنگامی بنیادوں پر درست نہ کیا گیا، تو روزمرہ کا یہ سفری عذاب شہریوں کی کام کرنے کی صلاحیت کو مزید کم کر دے گا، جو پہلے سے ہی معاشی بحران کی شکار معیشت کے لیے کسی بھی طور سودمند نہیں ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس