کالم
مرکزی صفحہ پر واپس
"سلیکان فرنٹئیر: عالمی ڈیجیٹل معیشت اور پاکستان کے نوجوانوں کا مستقبل"
ایک ایسے وقت میں جب روایتی معاشی شعبے سست روی کا شکار ہیں اور نوجوان نسل روزگار کے حصول کے لیے روایتی ملازمتوں کی محتاج دکھائی دیتی ہے، ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کے لیے ایک نئی امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا بھر میں فری لانسنگ اور آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جہاں لاکھوں باصلاحیت نوجوان اپنے گھروں میں بیٹھ کر عالمی منڈیوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ شعبہ نہ صرف ملک میں بے روزگاری کے خاتمے کا ایک تیز ترین ذریعہ ہے، بلکہ یہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Reserves) کو سہارا دینے کے لیے ایک انتہائی اہم شارٹ کٹ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، اس بے پناہ صلاحیت (Potential) سے فائدہ اٹھانے کے لیے ریاستی سطح پر جس سنجیدگی اور انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے، اس کا تاحال فقدان نظر آتا ہے۔ پاکستانی فری لانسرز کو آج بھی بین الاقوامی پیمنٹ گیٹ ویز (جیسے پے پال) کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی رقوم منگوانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں انٹرنیٹ کی عدم تسلسل کے ساتھ فراہمی اور ڈیجیٹل پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں بین الاقوامی کلائنٹس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں، تو ہمیں انہیں ایک مستحکم، تیز رفتار اور بلا رکاوٹ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آئی ٹی سیکٹر پر سرمایہ کاری روایتی انفراسٹرکچر کے منصوبوں سے کہیں زیادہ اور فوری منافع بخش ثابت ہوتی ہے۔ پے پال جیسے بین الاقوامی مالیاتی نظاموں کی پاکستان میں باقاعدہ آمد کو یقینی بنانا، تھری جی اور فور جی نیٹ ورک کا دائرہ کار دور دراز علاقوں تک پھیلانا، اور یونیورسٹی سطح پر مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق آئی ٹی کی مہارتیں سکھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ریاست اپنے اس جیو-اکنامک اثاثے کی صحیح معنوں میں سرپرستی کرے اور نوجوانوں کو سازگار ماحول فراہم کرے، تو یہ سلیکان فرنٹئیر پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی طرف لے جانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
