بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور پاکستان کے لیے نئے امکانات

کیسویں صدی کا تیسرا عشرہ عالمی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی کا دور ثابت ہو رہا ہے۔ وہ عالمی نظام جس کی بنیاد ایک قطبی طاقت کے تصور پر قائم تھی، اب بتدریج ایک ایسے ماحول میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات اور اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس نئی صورتِ حال نے نہ صرف عالمی سفارت کاری کا انداز بدل دیا ہے بلکہ درمیانے درجے کی ریاستوں کے لیے بھی نئے مواقع اور نئی ذمہ داریاں پیدا کی ہیں۔

پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور بحرِ ہند کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی جغرافیائی حیثیت پاکستان کو منفرد اہمیت عطا کرتی ہے۔ تاہم جغرافیہ بذاتِ خود کسی ملک کو کامیاب نہیں بناتا؛ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب خارجہ پالیسی، معاشی منصوبہ بندی اور قومی ادارے اس جغرافیائی اہمیت کو قومی ترقی میں تبدیل کر سکیں۔

گزشتہ چند برسوں میں عالمی تجارت، توانائی کے راستوں، مصنوعی ذہانت، سائبر سلامتی اور سپلائی چینز نے روایتی سفارت کاری کے ساتھ ایک نئی جہت اختیار کی ہے۔ آج ریاستوں کی طاقت کا اندازہ صرف فوجی صلاحیت سے نہیں بلکہ ان کی اقتصادی لچک، تکنیکی خود کفالت، تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی استحکام سے بھی لگایا جاتا ہے۔ اسی لیے قومی سلامتی کا تصور بھی پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو صرف ردِعمل تک محدود نہ رکھے بلکہ طویل المدتی قومی مفادات کی بنیاد پر ایک فعال حکمتِ عملی اختیار کرے۔ چین، خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ، وسطی ایشیا اور افریقہ کے ساتھ متوازن تعلقات پاکستان کی معاشی اور سفارتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح علاقائی تجارت، توانائی کے منصوبے اور علمی و تکنیکی تعاون مستقبل کی ترقی کے بنیادی ستون ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مضبوط معیشت، شفاف طرزِ حکمرانی، معیاری تعلیم، آزاد تحقیق اور مؤثر قانون کی حکمرانی ہی کسی بھی کامیاب خارجہ پالیسی کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ عالمی برادری انہی ممالک پر زیادہ اعتماد کرتی ہے جن کے ادارے مستحکم، پالیسیاں قابلِ پیش گوئی اور معیشت مضبوط ہو۔

پاکستان کے نوجوان، اس کی علمی صلاحیت اور اس کا محلِ وقوع ایسے اثاثے ہیں جنہیں ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کے ذریعے عالمی مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ عالمی تبدیلیاں اگرچہ چیلنجز سے خالی نہیں، لیکن یہی تبدیلیاں پاکستان کے لیے نئی سفارتی، معاشی اور تزویراتی راہیں بھی کھول سکتی ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ دنیا کس سمت جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان خود اپنی سمت کس بنیاد پر متعین کرتا ہے۔ وہ ممالک جو دور اندیشی، ادارہ جاتی مضبوطی، تعلیم، تحقیق اور معاشی اصلاحات کو اپنی قومی حکمتِ عملی کا حصہ بناتے ہیں، وہ عالمی تبدیلیوں سے صرف متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کی سمت متعین کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس