عالمی سطح پر طاقت کا توازن بدلنے کی اس دوڑ میں جہاں واشنگٹن، بیجنگ اور برسلز اپنی معیشتوں کو محفوظ بنانے کے لیے "ڈی رسکنگ" (De-risking) اور تحفظ پسندی (Protectionism) کی پالیسیاں اپنا رہے ہیں، وہیں عالمی سپلائی چین کا یہ بکھراؤ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بھیانک معاشی ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ جنوبی ایشیا کی معیشتیں، جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ اور شدید ساختی بحرانوں کا شکار ہیں، اس وقت عالمی اقتصادی محاذ آرائی کی سب سے بڑی قیمت چکا رہی ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی اشرافیہ تو شاید نئے راستے تلاش کر لے، لیکن اس عالمی رسہ کشی کا براہ راست شکار یہاں کا محنت کش طبقہ ہو رہا ہے۔
جب ترقی یافتہ ممالک اپنی سپلائی چین کو تبدیل کرتے ہیں اور تجارتی پابندیاں عائد کرتے ہیں، تو اس کا پہلا اثر خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی افراط زر (Inflation) کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے لیے، جو توانائی، پیٹرو کیمیکلز اور صنعتی مشینری کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر منحصر ہیں، یہ صورتحال تباہ کن ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IMF) کی کڑی شرائط اور سبسڈیز کے خاتمے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کے پاس اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی طویل مدتی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ "خود انحصاری" کا راگ تو یہاں بھی الاپا جاتا ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ مقامی صنعتیں توانائی کے بحران، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث دم توڑ رہی ہیں۔ ہم بیرونی سرمایہ کاری کی لالچ میں اپنی منڈیوں کو غیر ملکی کارپوریٹ اداروں کے لیے تو کھول دیتے ہیں، لیکن اپنی ہی عوام کو سستی تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی سے قاصر ہیں۔ یہ ماڈل پائیدار نہیں ہو سکتا جہاں معاشی نمو کے دعوے صرف اعداد و شمار کی حد تک محدود ہوں اور زمینی حقیقت میں عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں۔
اگر ہم نے واقعی اس عالمی معاشی طوفان سے بچنا ہے، تو ہمیں فوری طور پر کھوکھلی سیاسی نعرہ بازی اور اشرافیہ نواز معاشی پالیسیوں کو ترک کرنا ہو گا۔ حقیقی استحکام تب ہی ممکن ہے جب زراعت اور مقامی مینوفیکچرنگ کی بحالی کے لیے انقلابی اقدامات کیے جائیں، اور معاشی پالیسیوں کا محور چند سرمایہ داروں کے منافع کے بجائے عام آدمی کی فلاح و بہبود کو بنایا جائے۔ جب تک بنیادی معاشی ڈھانچے کو درست نہیں کیا جاتا، تب تک خود انحصاری محض ایک سراب رہے گی اور ہمارا خطہ عالمی طاقتوں کے معاشی تنازعات کی زد میں آ کر یونہی پستا رہے گا۔
