"ٹی وی سے دوری اور ٹک ٹاک کی دنیا: پاکستانی نوجوانوں کے بدلے کوڈز"

اکیس سالہ حارث کے لیے، جو کراچی کی ایک یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے، رات نو بجے کا روایتی نیوز بلیٹن دیکھنا ایک عجیب اور پرانی بات ہے۔ حارث کہتا ہے، "میری نسل کا کوئی بھی بندہ اب گھنٹوں بیٹھ کر ٹی وی پر ٹاک شوز نہیں دیکھتا۔ ہمیں جو بھی معلومات چاہیے ہوتی ہیں، وہ ہمارے فون پر سکرول کرتے ہوئے ایک منٹ کی ویڈیو میں مل جاتی ہیں۔" حارث کی یہ بات پاکستان کے کروڑوں نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہے، جنہوں نے روایتی میڈیا کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا ہے۔ معلومات حاصل کرنے کا یہ بدلا ہوا انداز صرف عمر کا فرق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہری ذہنی اور نظریاتی خلیج (Generational Gap) ہے جو ہمارے سامنے آ رہی ہے۔ وہ روایتی ٹی وی چینلز اور اخبارات جو پچاس سال سے زائد عمر کے ووٹرز کی سوچ کا فیصلہ کرتے تھے، اب نئی نسل کے لیے بالکل بے معنی ہو چکے ہیں۔ آج کے نوجوانوں کو خبریں لمبی بحثوں کے بجائے ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز، اور یوٹیوب کے شارٹس پر سیکنڈز میں ملتی ہیں۔ وہاں کوئی سوٹ بوٹ پہن کر سنسنی خیز موسیقی کے ساتھ جھوٹ اور سچ کا فیصلہ نہیں سناتا، بلکہ ان ہی کی عمر کے کونٹینٹ کریئٹرز (Content Creators) سیدھی اور سادہ زبان میں بات کرتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا اثر ہمارے سیاسی اور سماجی ماحول پر پڑ رہا ہے۔ پرانی سیاسی جماعتیں جو اب بھی جلسوں، بڑی تقریروں اور روایتی اشتہارات پر بھروسہ کرتی ہیں، وہ اس نئی نسل سے جڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ نوجوان اب کسی پارٹی کے پرانے نعروں یا خاندانی سیاست کے پیچھے نہیں چلتے؛ وہ مخصوص اور فوری مسائل کو دیکھتے ہیں۔ وہ بات کرتے ہیں آئی ٹی سکلز کی، فری لانسنگ کے مواقع کی، کائیناتی تبدیلیوں (Climate Change) کی اور اپنے مستقبل کی سیکیورٹی کی۔ یہ دوری اب دونوں طرف سے ہے۔ جہاں سیاسی پارٹیاں اب بھی پرانے طریقوں سے مہم چلا رہی ہیں، وہاں نیا ووٹر ڈیجیٹل دنیا میں اپنے فیصلے خود کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں ہے کہ نوجوانوں کو خبروں کا پتہ نہیں ہے — وہ اکثر روایتی ناظرین سے زیادہ باخبر ہوتے ہیں — بلکہ خطرہ یہ ہے کہ اب ایک ہی گھر میں رہنے والے دو مختلف لوگ دو بالکل الگ دنیاؤں میں رہ رہے ہیں۔ ان کا معلومات کا ذریعہ اتنا مختلف ہو چکا ہے کہ اب ان کے درمیان کسی ایک نکتے پر مکالمہ ہونا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس