پشاور ہائی کورٹ نے 86 افغان میڈیکل طلبہ کی ملک بدری عارضی طور پر روک دی، تعلیم جاری رکھنے کی اجازت

پشاور ہائی کورٹ نے 86 افغان میڈیکل طلبہ کی ملک بدری عارضی طور پر روک دی، تعلیم جاری رکھنے کی اجازت

VoS NEWS DESK | امیگریشن قانون و تعلیم | 14 اکتوبر 2026

یہ معاملہ ان 86 افغان طلبہ کی مشترکہ درخواست کے ذریعے عدالت کے سامنے آیا جو خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے افغان طلبہ کے لیے مختص نشستوں پر داخلہ حاصل کیا تھا اور میڈیکل تعلیم کے لیے پاکستان آئے تھے۔ ان میں ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو اپنے تعلیمی پروگرام کے مختلف مراحل میں زیرِ تعلیم ہیں۔

طلبہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے داخلوں کی منسوخی اور پاکستان چھوڑنے سے متعلق ہدایات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر انہیں فوری طور پر تعلیم چھوڑنے یا ملک سے روانہ ہونے پر مجبور کیا گیا تو ان کی کئی سال کی محنت ضائع ہوسکتی ہے اور ان کے مستقبل کے منصوبے متاثر ہوں گے۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ویزا توسیع کی درخواستوں کے زیرِ التوا ہونے کو ان کی تعلیم روکنے کی واحد وجہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

درخواست میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے 31 جولائی اور یکم ستمبر 2026 کو جاری کردہ خطوط کو چیلنج کیا گیا تھا۔ طلبہ کے وکیل کے مطابق، ان خطوط اور متعلقہ ہدایات کے نتیجے میں افغان طلبہ کے داخلوں اور ان کی تعلیم جاری رکھنے کے حق پر سوالات پیدا ہوئے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو ہدایت دی جائے کہ وہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک طلبہ کی تعلیم میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور PMDC کے رجسٹرار سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے۔ عدالت نے ان فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے عبوری طور پر ہدایت دی کہ اگلی سماعت تک درخواست گزاروں کو ملک بدر نہ کیا جائے۔ عدالت کے حکم کے مطابق، طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی گئی، بشرطیکہ ان کی تعلیم روکنے کی کوئی دوسری قانونی وجہ موجود نہ ہو۔

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ عدالت کا حکم ایک عبوری ریلیف ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ اس کا مقصد مقدمے کی مزید سماعت تک طلبہ کو فوری ملک بدری اور تعلیم میں ممکنہ تعطل سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس حکم سے طلبہ کی شہریت، ویزا کی مدت یا امیگریشن کی دیگر شرائط کے بارے میں تمام معاملات خود بخود حتمی طور پر طے نہیں ہوتے؛ ان معاملات کا فیصلہ متعلقہ قوانین، سرکاری ریکارڈ اور عدالتی کارروائی کے مطابق ہوگا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کو اپنی تعلیم سے محروم کرنے سے پہلے ان کا مؤقف سننا اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری تھا۔ ان کے مطابق، طلبہ نے قانونی طور پر داخلے حاصل کیے اور اپنی تعلیم کے کئی مراحل مکمل کیے، اس لیے ان کے تعلیمی مستقبل پر اثر انداز ہونے والے اقدامات کو قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے انجام دیا جانا چاہیے۔ یہ درخواست گزاروں کے دلائل ہیں؛ ان پر حتمی عدالتی فیصلہ آنا باقی ہے۔

افغان طلبہ کا یہ معاملہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے قانونی حیثیت اور تعلیمی تسلسل کے درمیان تعلق کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ میڈیکل تعلیم کئی سال پر محیط ہوتی ہے، جس میں کلاس روم تدریس کے ساتھ عملی تربیت، امتحانات اور کلینیکل تجربہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اگر کسی طالب علم کی تعلیم دورانِ پروگرام اچانک روک دی جائے تو اس کے تعلیمی نتائج اور مستقبل کی پیشہ ورانہ تربیت متاثر ہوسکتی ہے۔

اسی نوعیت کے معاملے میں پشاور ہائی کورٹ نے ستمبر میں 17 افغان ڈاکٹروں کی گرفتاری یا ملک بدری روکنے اور انہیں اپنی پوسٹ گریجویٹ تربیت جاری رکھنے کی اجازت دینے کا حکم بھی دیا تھا۔ ان مقدمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان طلبہ اور طبی تربیت حاصل کرنے والے افراد کی قانونی حیثیت، تعلیمی مواقع اور متعلقہ سرکاری پالیسیوں کے بارے میں عدالتی جانچ جاری ہے۔ تاہم، ہر مقدمے کے حقائق اور عدالتی احکامات الگ ہوسکتے ہیں، اس لیے ایک مقدمے کے فیصلے کو تمام طلبہ پر خودکار طور پر لاگو نہیں سمجھنا چاہیے۔

طلبہ اور تعلیمی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ویزا دستاویزات، داخلے کے ریکارڈ اور متعلقہ سرکاری اجازت ناموں کو مکمل رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ حکام کو چاہیے کہ ایسے معاملات میں واضح رہنمائی فراہم کریں تاکہ طلبہ، کالجوں اور امیگریشن اداروں کے درمیان غیر یقینی صورتحال کم ہو۔ مقدمے کے آئندہ مراحل میں عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے جوابات اور دستاویزات اس تنازعے کے قانونی پہلوؤں کو مزید واضح کرسکتے ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پشاور ہائی کورٹ کا عبوری حکم اس اصول کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد اور تعلیم کے تسلسل سے متعلق تنازعات کو قانونی طریقۂ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ غیر ملکی طلبہ کے ویزا اور داخلے کی حیثیت کی جانچ ضروری ہے، لیکن جہاں معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو، وہاں متعلقہ عدالتی ہدایات پر عمل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

اس معاملے کا طویل مدتی حل واضح اور مستقل پالیسی، طلبہ کے قانونی اسٹیٹس کی بروقت جانچ اور متعلقہ تعلیمی و امیگریشن اداروں کے درمیان بہتر رابطے سے ممکن ہوسکتا ہے۔ افغان میڈیکل طلبہ کے لیے موجودہ حکم فوری ریلیف ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن ان کے مستقبل کا انحصار مقدمے کی آئندہ کارروائی اور متعلقہ حکام کے جوابات پر ہوگا۔ اس لیے اس مرحلے پر اسے حتمی قانونی فیصلہ قرار دینے کے بجائے ایک اہم عبوری پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔

Source: Dawn — PHC stays deportation of 86 Afghan medical students

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس