اداریہ
مرکزی صفحہ پر واپس
"ویزا بریک اور برطانوی جامعات کی بغاوت: اعداد و شمار کا جنون یا سفارتی خودکشی؟"
حکومتی سطح پر تارکینِ وطن کی تعداد کو زبردستی کم کرنے کی جلدی میں، ہوم آفس کی نئی "ویزا بریک" (Visa Brake) پالیسی نے برطانیہ کے اندر ایک بڑی ادارہ جاتی جنگ چھیڑ دی ہے۔ اس ہفتے، برطانیہ کی نامور ریسرچ یونیورسٹیوں کی نمائندگی کرنے والے 'رسل گروپ' (Russell Group) نے ہوم سیکرٹری کی اس پالیسی کے خلاف کھل کر بغاوت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس شدید غصے کی وجہ حکومت کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت عام امیگریشن کو روکنے کے لیے بنائی گئی سخت پابندیوں کی زد میں اب وہ دنیا بھر کے مایہ ناز نوجوان بھی آ رہے ہیں جو خود برطانوی حکومت کے اپنے باوقار 'چیوننگ اسکالرشپ' (Chevening Scholarship) پر تعلیم حاصل کرنے یہاں پہنچتے ہیں۔
بغیر کسی سوچ سمجھ کے نافذ کی جانے والی اس پالیسی کی وجہ سے برطانوی حکومت خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔ چیوننگ اسکالرز کوئی عام تارکینِ وطن نہیں ہوتے؛ یہ وہ مستقبل کے عالمی رہنما، سفارت کار اور سائنسدان ہیں جنہیں خود برطانوی فارن آفس دنیا بھر سے کڑے امتحانات کے بعد منتخب کرتا ہے۔ ان کا مقصد یہاں سے تعلیم حاصل کر کے واپس اپنے ملکوں کو جانا ہوتا ہے۔ ایسے ذہین دماغوں کو صرف "بارڈر سیکیورٹی اور پناہ گزینوں کے خطرے" کے نام پر ملک میں آنے سے روکنا کسی بھی طرح سے مضبوط حکومت کی نشانی نہیں، بلکہ یہ بیوروکریسی کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔
یہ بحران جدید برطانوی سیاست کے اس سب سے بڑے مرض کو بے نقاب کرتا ہے جہاں طویل مدتی سیکیورٹی اور عالمی اثر و رسوخ کو قربان کر کے صرف وقتی طور پر اعداد و شمار کو اچھا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم ہمیشہ سے برطانیہ کی سب سے بڑی طاقت اور دنیا بھر میں اس کی عزت (Soft Power) کا ذریعہ رہی ہے۔ جب آپ دنیا کے کل کے رہنماؤں کو یہ پیغام دیں گے کہ برطانیہ اب ایک تنگ نظر اور شک کرنے والا ملک بن چکا ہے، تو آپ اپنے بارڈرز کی حفاظت نہیں کر رہے، بلکہ اپنی ہی معیشت کو دنیا سے الگ تھلگ کر رہے ہیں۔ اگر حکومت نے ان اسکالرز کے لیے فوری طور پر ویزا قوانین میں نرمی نہ کی، تو یہ ویزا بریک برطانیہ کو دنیا کے سامنے ایک انتہائی چھوٹے ذہن کا ملک ثابت کر دے گا۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
