آزاد جموں و کشمیر کا خطہ، جسے روایتی طور پر ایک پرامن اور مستحکم آئینی اکائی کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، حالیہ مہینوں میں شدید انتظامی اور سماجی اضطراب کا شکار رہا ہے۔ اس اضطراب کا عروج عوامی ایکشن کمیٹیوں کی حالیہ احتجاجی تحریکوں، مظاہروں اور ریاست کے ساتھ سیکیورٹی اداروں کے تصادم کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ صورتحال محض امن و امان (Law and Order) کا عارضی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہری ساختی اور معاشی محرومی کا شاخسانہ ہے جسے طویل عرصے سے بیوروکریٹک حیلوں کے پیچھے چھپایا جاتا رہا ہے۔
بنیادی طور پر، حالیہ کشیدگی کی جڑیں امن و امان کی روایتی خرابی سے زیادہ معاشی اور گورننس کے بحران سے جڑی ہیں۔ خطے میں پیدا ہونے والے اس سیکیورٹی چیلنج کا آغاز آٹے اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈیوں کے خاتمے اور مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے پرامن عوامی احتجاج سے ہوا۔ جب ریاست نے ان جائز معاشی مطالبات کو انتظامی طاقت، گرفتاریوں اور پولیس ایکشن کے ذریعے دبانے کی کوشش کی، تو یہ معاشی تحریک دیکھتے ہی دیکھتے امن و امان کے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو گئی۔ رینجرز اور پولیس کے ساتھ ہونے والے پُرتشدد تصادم، سڑکوں کی ناکہ بندی اور جانی و مالی نقصانات نے یہ ثابت کر دیا کہ مقامی سطح پر بیوروکریسی اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
اس بحران کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ آزاد کشمیر، جو پاکستان کے لیے سستی اور ماحول دوست پن بجلی (Hydroelectricity) پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے، وہاں کے مقامی باشندے خود کو بجلی کے بھاری بلوں، غیر منصفانہ ٹیکسوں اور لوڈ شیڈنگ کا شکار پاتے ہیں۔ جب مقامی آبادی کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کے اپنے قدرتی وسائل پر ان کا حقِ ملکیت تسلیم نہیں کیا جا رہا، تو وہاں "ساختی تشدد" (Structural Violence) جنم لیتا ہے۔ یہی وہ احساسِ محرومی ہے جسے نچلی سطح پر سرگرم عناصر اور بعض گروہ ریاست کے خلاف عوامی غصے کو ہوا دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مظفر آباد کی انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان کا استحکام محض فورسز کی تعیناتی یا موبائل انٹرنیٹ کی بندش جیسے سخت اقدامات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی کے یہ روایتی ہتھکنڈے اب اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ اگر ایک طرف گلگت بلتستان اور دوسری طرف آزاد کشمیر جیسے حساس ترین سرحدی علاقوں میں اندرونی خلفشار برقرار رہتا ہے، تو اس سے پاکستان کا وہ اصولی سفارتی موقف کمزور ہوتا ہے جو وہ عالمی سطح پر جموں و کشمیر کے وسیع تر تناظر میں پیش کرتا ہے۔ آپ دنیا کے سامنے اس وقت تک ایک مضبوط اخلاقی مقدمہ نہیں لڑ سکتے جب تک آپ کے اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں عوام سڑکوں پر دھرنے دینے پر مجبور ہوں۔
امن و امان کا مستقل حل صرف اور صرف حقیقی گڈ گورننس، عوامی نمائندوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات اور مقامی وسائل کی منصفانہ تقسیم میں پنہاں ہے۔ مظاہرین کو محض "ریاست دشمن" یا "قانون شکن" قرار دے کر اصل مسائل سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور مقامی حکومتیں ماضی کے معاہدوں پر سنجیدگی سے عمل درآمد کریں، بیوروکریسی کے شاہانہ اخراجات کو کم کر کے عوامی ریلیف پر توجہ دیں، اور خطے کے پرامن ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے بجائے دانش مندی کو اپنا شعار بنائیں۔
