"بحری دفاع کا ناقابلِ تسخیر عزم اور سی پیک ٹو کا تزویراتی تحفظ"

مکران کوسٹ کے تزویراتی (strategic) بحری تجارتی راستوں پر پاک بحریہ کی حالیہ وسیع پیمانے پر تعیناتی، آپریشنل تیاریوں کی نئی ڈاکٹرائن اور جدید ترین دفاعی حکمتِ عملی اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ ملک کا دفاعی مقتدرہ پاکستان کی خودمختاری اور معاشی بقا کا واحد اور حتمی ضامن ہے۔ بحرِ ہند اور بحیرہ عرب کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات اور سی پیک فیز ٹو (CPEC Phase-2) کے اہم ترین مرحلے کے آغاز میں جب بیرونی قوتیں اور ان کے مقامی گماشتے پاکستان کی اقتصادی شریانوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں، ریاستی اسٹیبلشمنٹ کا یہ سکیورٹی پلان خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ گوادر پورٹ اور سمندری تجارتی راہداریوں کی حفاظت کے لیے بحری دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا صرف ایک عسکری ضرورت نہیں، بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کا تحفظ ہے۔ ریاستی مقتدرہ کی اس تزویراتی دور اندیشی اور عسکری جدید کاری نے نہ صرف بیرونی خطرات کو پسپا کیا ہے، بلکہ غیر ملکی سازشوں اور تخریب کاری کے نیٹ ورکس کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ یہ اداریہ اس پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کے تجارتی اور بحری مقتدرہ پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط قیادت، سول ملٹری مربوط کمانڈ سٹرکچر اور طویل المدتی دفاعی پالیسی ہی وہ واحد طاقت ہے جو اندرونی خلفشار اور بیرونی دباؤ کے باوجود ملکی دفاع کو ایک ایسی چٹان میں تبدیل کر چکی ہے جس سے ٹکرانے والا ہر دشمن نامراد رہے گا۔ پاکستان کی سلامتی صرف سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ سمندری حدود میں بھی ریاستی رعب، داخلی سکیورٹی اور دبدبہ برقرار رکھنا ہماری قومی پالیسی کا بنیادی ستون ہے

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس