اداریہ
مرکزی صفحہ پر واپس
"مہنگائی، عالمی جنگیں اور پاکستان کی معاشی خودمختاری کا سوال"
پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی معاشی خودمختاری نہ صرف بیرونی دباؤ کی زد میں ہے بلکہ اندرونی عدم استحکام بھی اس کے فیصلوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عالمی سطح پر پھوٹنے والی جنگیں، چاہے وہ یوکرین میں ہوں یا مشرقِ وسطیٰ میں، ان کی تپش براہِ راست پاکستانی عوام پر گر رہی ہے۔
جب دنیا کے بڑے بڑے معاشی طاقت ور ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں تو ان کے پیچھے چھوٹی معیشتوں کی قیمت سب سے بڑھ کر ادا کرنی پڑتی ہے۔ پاکستان اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل، اور سرمائے کی فراہمی میں کمی — یہ وہ نشانیاں ہیں جو بتاتی ہیں کہ ہماری معیشت پر کون سی صورتحال مسلط ہے۔
سوال یہ ہے: کیا پاکستان اپنی معاشی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے ان عالمی آفات سے بچ نکلے گا؟
مہنگائی — ایک مصنوعی بحران یا لازمی نتیجہ؟
پاکستان میں مہنگائی کوئی نئی چیز نہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں اس کی شدت نے عام آدمی کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔ اشیائے خوراک سے لے کر ادویات تک، ہر چیز اس کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سبسڈیز ختم کرے اور ٹیکس بڑھائے، لیکن کیا غریب عوام سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی توقع کی جا سکتی ہے؟
یہاں معاشی خودمختاری کا سوال سب سے اہم ہو جاتا ہے۔جب کوئی ملک اپنی بنیادی ضروریات کے لیے درآمدات پر منحصر ہو، جب اس کی کرنسی کی قدر بین الاقوامی قرضوں کے سہارے ہو، تو پھر اس کی خودمختاری صرف ایک دھوکہ ہے۔ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو کس ترجیح کے تحت استعمال کرے گا — بیرونی قرض خواہوں کی شرائط پر یا اپنی قومی سلامتی اور عوامی بہبود کی بنیاد پر؟
عالمی جنگیں اور پاکستان کی سٹریٹجک پوزیشن
عالمی طاقتیں آج نئی سوویت جیسی جنگ کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ یوکرین میں جنگ، غزہ میں نسل کشی، اور افریقہ میں بڑھتے ہوئے پراکسی تنازعات — سب کے سب اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ دنیا پھر سے دو قطبیت کی طرف لوٹ رہی ہے۔
پاکستان ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات، اور افغانستان سے ملحقہ سرحدیں — یہ پاکستان کو ایک ممکنہ محاذ بنا دیتی ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے: کیا ہم اپنی قومی مفاد کے مطابق فیصلہ کریں گے یا پھر ہمیں کسی بڑی طاقت کی مرضی پر چلنے پر مجبور کیا جائے گا؟
معاشی خودمختاری کا سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ہماری معیشت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ہم کسی بھی بیرونی دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتے۔ عالمی جنگوں میں کھڑے ہونے کی اپنی قیمت ہے، اور وہ قیمت پاکستان کی صورت میں اُس کی مدتِ مُقابلہ ہو سکتی ہے۔
راہِ نجات: خود انحصاری اور دانشمندانہ خارجہ پالیسی
اگر پاکستان واقعی اپنی معاشی خودمختاری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے دو راستے اپنانے ہوں گے:
پہلا، اقتصادی خود انحصاری — جو کہ درآمدات کو کم کرنے، زراعت اور مقامی صنعت کو فروغ دینے، اور ٹیکنالوجی میں اپنی مہارت کو بڑھانے سے ممکن ہے۔ دوسرا، متوازن خارجہ پالیسی — جو کہ نہ چین کی غلامی ہو، نہ امریکہ کی مشروط دوستی، بلکہ پاکستان کی قومی مفاد پر مبنی غیر جانبدارانہ تعلقات ہوں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو عالمی طاقتوں کے درمیان چپقلش کا شکار ہونے کی بجائے اپنے عوام کی فلاح کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ یہ وقت اس بات کا ہے کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل کو حل کرے، اپنی معیشت کو مضبوط بنائے، اور کسی بھی بیرونی جنگی منصوبے کا حصہ بننے سے گریز کرے۔
آخر میں، اتنا ضرور کہنا چاہیں گے کہ قوموں کی قسمت ان کی اپنی ترجیحات سے لکھی جاتی ہے۔ اگر پاکستان نے معاشی خودمختاری کو سنجیدگی سے نہ سمجھا تو آنے والی نسلیں اس فیصلے کی قیمت چکائیں گی۔ مگر اگر آج ہی ٹھوس اقدامات اٹھا لیے گئے، تو آنے والا کل پاکستانی عوام کے لیے زیادہ محفوظ اور خوشحال ہو سکتا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
