اداریہ
مرکزی صفحہ پر واپس
"موسمیاتی تبدیلی اور زراعت کا بحران: یو این رپورٹ اور پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی"
عالمی ادارہ برائے موسمیات اور اقوامِ متحدہ کی حالیہ تشویشناک رپورٹ، جس میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران عالمی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کی باقاعدہ وارننگ دی گئی ہے، پاکستان کے لیے کسی معاشی اور سماجی قیامت کے سائرن سے کم نہیں ہے۔ ہمارا ملک طویل عرصے سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید ترین اثرات کا شکار ہے، جہاں غیر متوقع سیلاب، طویل خشک سالی اور شدید ترین گرمی کی لہریں اب کوئی استثنائی واقعات نہیں بلکہ ایک سالانہ معمول بن چکے ہیں۔ اس جیو-کلائمیٹک بحران کا سب سے پہلا اور مہلک ترین وار ہمارے زرعی شعبے پر ہو رہا ہے، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور کروڑوں لوگوں کے روزگار کا واحد ذریعہ ہے۔
بدقسمتی سے، پاکستان کا پورا زرعی اور آبپاشی کا نظام آج بھی روایتی خطوط پر چل رہا ہے، جس میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور جدید موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کا شدید فقدان ہے۔ گندم، کپاس اور چاول جیسی اہم ترین فصلیں بدلتے ہوئے درجہ حرارت اور پانی کی شدید قلت کی وجہ سے مسلسل تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست پاکستان کی غذائی خودمختاری (Food Security) کو ہدف بنا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں ملک کو شدید غذائی قلت اور زرعی مصنوعات کی مہنگی درآمدات کے بدترین معاشی طوفان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاست اب روایتی کاغذی کارروائیوں اور عالمی کانفرنسوں میں بیانات دینے کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے۔ ہمیں فوری طور پر ایسے بیجوں کی کاشت کی طرف جانا ہوگا جو شدید گرمی اور پانی کی کمی کو برداشت کر سکیں، اور کسانوں کو 'اسمارٹ ایگریکلچر' (Smart Agriculture) اور جدید آبپاشی کے طریقوں پر منتقل کرنا ہوگا۔ اگر حکومت نے توانائی اور معاشی اصلاحات کی طرح ماحولیاتی اور زرعی انفراسٹرکچر کی تعمیر کو اپنی اولین قومی ترجیح نہ بنایا، تو موسمیاتی تبدیلی کا یہ پوشیدہ بم پاکستان کے زرعی اور معاشی ڈھانچے کو مستقل طور پر مفلوج کر دے گا۔ اب وقت محض سوچنے کا نہیں، بلکہ بقا کی جنگ لڑنے کا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
