اداریہ
مرکزی صفحہ پر واپس
"قرضوں کا چنگل اور خود مختاری: ساختی معاشی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت"
پاکستان اس وقت اپنی معاشی تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں روایتی طرزِ حکمرانی اور عارضی معاشی پیکجز اب مزید کارآمد ثابت نہیں ہو سکتے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، تجارتی خسارہ اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) کے پروگراموں پر مستقل انحصار ملکی خود مختاری اور پائیدار ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال اس بات کا واشگاف تقاضا کرتی ہے کہ کٹھن اور سخت فیصلے کرتے ہوئے معیشت میں ایسی بنیادی اور ساختی تبدیلیاں (Structural Reforms) لائی جائیں جو ملک کو اس مروجہ معاشی دلدل سے مستقل طور پر نکال سکیں۔
معاشی بحران کی اصل وجہ ٹیکس کے نظام میں موجود خامیاں اور چند مخصوص شعبوں کو دی جانے والی بے جا مراعات ہیں۔ جب تک ملک کے بااثر اور امیر ترین طبقات، بشمول رئیل اسٹیٹ اور بڑے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا، تب تک مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا معیشت کو مزید کمزور کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، سرکاری سرپرستی میں چلنے والے خسارے کے حامل اداروں (SOEs) کی نجکاری یا ان کی کارکردگی میں انقلابی بہتری لانا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ یہ ادارے ملکی خزانے پر سالانہ اربوں روپے کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ بیرونی قرضوں کے چکر سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندرونی وسائل کو متحرک کریں۔
حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام کا خواب صرف درآمدات کو روکنے یا عارضی امداد حاصل کرنے سے پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ملکی برآمدات (Exports) کو فروغ دینا ہوگا، خاص طور پر آئی ٹی، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا کر عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنی ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی وابستگیوں اور قلیل مدتی فوائد سے بالاتر ہو کر ایک طویل المیعاد "میثاقِ معیشت" پر عمل درآمد کیا جائے۔ اگر اب بھی دور اندیشی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو اس سے بھی بڑی معاشی قیمت چکانی پڑے گی۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
