اداریہ
مرکزی صفحہ پر واپس
"سرحدوں پر خاموش طوفان – فوجی ارتکاز اور پاکستان کی حکمت عملی"
حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے پاک بھارت سرحد اور لائن آف کنٹرول (LOC) پر فوجی ارتکاز میں جس انداز سے اضافہ ہوا ہے، وہ نہ صرف معمول کی فوجی مشقوں سے ہٹ کر ہے بلکہ اس کے پیچھے دانستہ منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت انتخابی سال میں سرحد پر کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ مگر اس بار صورت حال کچھ مختلف ہے۔ اس بار فوجی ارتکاز کی نوعیت زیادہ جارحانہ ہے اور اس میں ڈرون ٹیکنالوجی، انفارمیشن وارفیئر اور ہائبرڈ حملوں کی تیاری شامل ہے۔ پاکستان نے اس نئے چیلنج کو سمجھتے ہوئے اپنے دفاعی انتظامات کو بروقت مکمل کر لیا ہے۔ سرحد پار سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں پاک فوج کو مکمل اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ مناسب جواب دے سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت واقعی اسی پرانی حکمت عملی پر چلتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل کا حل تلاش کر سکتا ہے؟ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ سرحد پر بے جا سختی سے کبھی کامیابی نہیں ملی۔ پاکستان نے امن کے لیے ہمیشہ مثبت قدم اٹھائے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کمزور ہے۔ موجودہ فوجی ارتکاز کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی اپنے دفاعی اور سفارتی محاذ کو مضبوط کر لیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک عقل و دانش سے کام لیں، ورنہ اس خطے میں کوئی چھوٹی سی بھی غلط فہمی تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
بھارتی فوجی ارتکاز: ایک تاریخی جائزہ
پاک بھارت سرحد پر فوجی ارتکاز کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ ستر سالوں میں دونوں ممالک کئی بار اس صورتحال سے گزر چکے ہیں۔ مگر موجودہ ارتکاز میں چند ایسی خصوصیات ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ بھارت نے اپنی جدید ترین ہتھیاروں کی خریداری کو سرحد کے قریب منتقل کر دیا ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ بھارت نے سرحد پار سے جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے ڈرون کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ بھارت اپنے اندرونی عسکریت پسند گروپوں کو باہر کی بجائے اندر ہی مصروف رکھنے کے لیے سرحد پر کشیدگی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، بھارتی فوج کے کم از کم تین ڈویژن سرحد کے قریب منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ ارتکاز اتنا بڑا ہے کہ عام فوجی مشقوں میں اتنی بڑی تعداد میں دستے شامل نہیں ہوتے۔
پاکستان کا موقف اور حکمت عملی
پاکستان نے اب تک تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر اعظم اور فوجی قیادت نے عالمی برادری کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور بڑی عالمی طاقتوں کو خط لکھ کر بھارتی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے۔ دفاعی سطح پر پاکستان نے جوابی کارروائی کے لیے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ نئی نسل کی میزائل سسٹم، الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی، اور خودکار سرحدی نگرانی کے نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ ہائبرڈ وارفیئر اور خاموش جنگ
سرحد پر فوجی ارتکاز کے ساتھ ساتھ ایک خاموش جنگ بھی جاری ہے۔ بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی را (RAW) پاکستان کے اندرونی محاذ کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں فرقہ وارانہ تشدد کو بڑھانے کی کوششیں، سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا، اور معاشی بحران کو گہرا کرنے کی سازشیں اسی ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی سول اور ملٹری انٹیلیجنس کو ہم آہنگ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جعلی نیوز کی نگرانی کے لیے خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے۔
معاشی اثرات اور عوام کا کردار
سرحد پر فوجی ارتکاز کے معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جب بھی کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستانی روپیہ کمزور ہوتا ہے، اسٹاک مارکیٹ گرتی ہے، اور سرمایہ کار پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہر بار ثابت کرتا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے۔ مگر امن کی خواہش کا مطلب کمزوری نہیں۔ پاکستان نے ہر جنگ میں ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام کو چاہیے کہ وہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں، افواہوں سے بچیں، اور قانونی نظام پر اعتماد رکھیں۔
علاقائی اور عالمی ردعمل
چین، ترکی، اور ایران جیسے دوست ممالک نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک سے سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری جب تک بھارت پر عملی دباؤ نہیں ڈالے گی، وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں پر قائم رہ سکتا ہے۔
نتیجہ
سرحدوں پر بھارتی فوجی ارتکاز ایک سنگین صورتحال پیدا کر چکا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی راہ اپنائی، مگر وہ ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت اپنی پرانی اور ناکام حکمت عملی کو ترک کرے اور حقیقی امن کی طرف قدم بڑھائے۔ تب ہی دونوں ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں، ورنہ آنے والی نسلیں اس بے جا کشیدگی کی قیمت چکاتی رہیں گی۔ پاکستان نے اپنی دفاعی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اب فیصلہ بھارت کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا پھر سے تاریخ کو دہرانا چاہتا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
