اداریہ
مرکزی صفحہ پر واپس
"بجلی کا بحران اور گردشی قرضے: ملکی معیشت کو جکڑنے والا طوق"
پاکستان کا شعبہ توانائی اس وقت ایک ایسے سنگین بحران کا شکار ہے جو نہ صرف صنعتی پہیے کو مفلوج کر رہا ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک مستقل ساختی خطرہ بن چکا ہے۔ گردشی قرضوں (Circular Debt) کا بڑھتا ہوا حجم اور بجلی کے ناقابلِ برداشت بل اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہے، بلکہ یہ ایک ملک گیر معاشی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پے در پے آنے والی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی عارضی مصلحت پسندی اور بنیادی اصلاحات سے فرار نے اس شعبے کو ایک ایسے تاریک راستے پر دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی کے لیے اب غیر معمولی اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔
اس بحران کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ماضی میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ کیے گئے وہ یکطرفہ معاہدے ہیں، جن کے تحت "کیپیسٹی پیمنٹس" (Capacity Payments) کی مد میں اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کیے جا رہے ہیں، خواہ ان سے بجلی خریدی جائے یا نہ۔ اس جابرانہ بوجھ کا خمیازہ ملک کے غریب عوام اور صنعت کاروں کو مہنگی ترین بجلی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کی نااہلی، بجلی کی چوری اور ٹرانسمیشن کے نظام میں لائن لاسز (Line Losses) وہ سوراخ ہیں جو قومی خزانے کو مسلسل کھوکھلا کر رہے ہیں۔
موجودہ حالات اس بات کا واضح تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر نظرِ ثانی کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچائے اور بجلی چوری کے خلاف بلاتمیز کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا ان کی پیشہ ورانہ انتظام کاری اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ جب تک ہم سستی اور متبادل توانائی (جیسے شمسی اور ہوا کے ذریعے بجلی کی پیداوار) کی طرف تیزی سے قدم نہیں بڑھائیں گے اور اپنے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو جدید نہیں بنائیں گے، تب تک گردشی قرضوں کا یہ طوق ملکی معیشت کا گلا گھونٹتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قلیل مدتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المیعاد قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
