یورپی مرکزی بینک میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے سپین کی نئی حکمت عملی

سپین کی حکومت نے یورپی مرکزی بینک (ECB) کے نائب صدر لوئس ڈی گینڈوس کی مدتِ ملازمت کے خاتمے کے بعد اس اہم ادارے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ میڈرڈ کے اقتصادی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ آیا سپین کو اگلی صدارت کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنا چاہیے یا کسی اور کلیدی عہدے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ہسپانوی وزیرِ معیشت کے مطابق، ملک یورپی مالیاتی پالیسیوں کی تشکیل میں ایک فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے تاکہ یورو زون کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی مرکزی بینک میں سپین کی نمائندگی کی کمی ملک کے لیے مالیاتی خطرات کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر موجودہ عالمی اقتصادی بحران کے تناظر میں۔ حکومت اس وقت مختلف یورپی اتحادیوں کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ اپنی تزویراتی پوزیشن کو محفوظ بنایا جا سکے۔ سپین کی یہ کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ یورپی یونین کے اندر صرف ایک رکن ریاست کے بجائے ایک فیصلہ ساز قوت کے طور پر ابھرنے کے لیے پرعزم ہے، جس کا براہِ راست اثر ملک کی مستقبل کی معاشی ترقی پر پڑے گا۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس